تاریخ کے آئینے میں فکشن اور فلیش فکشن

فکشن کی تاریخ اتنی ہی پرانی جتنی انسان کے اپنے وجود کی ہے ۔ اگر یوں کہا جائے کہ انسان اور فکشن کا جنم ایک ہی وقت میں ہوا تو شاید درست ہو گا ۔ جسکی مثال آپ یوں لے لی جیئے کہ جب کبھی بھی انسان کو پیدا کیا گیا ہو گا اور جب اس نے پہلی بار دیکھا پہلا سانس لیا یا چلنے کی خاطر اپنے پاؤں سے پہلا قدم اٹھایا ہو گا۔ خود کے آس پاس یا اپنے اردگرد موجود مختلف چیزوں پہاڑ شجر پھول پودے جانور سمندر بارش ہوا محسوس کر کے یا دیکھ کر اسکے دل و دماغ میں یقینا کئی طرح کے سوالات اٹھے ہوں گے ۔ ایسے میں انسانی فطرت اور فطری جبلت بھی کچھ ایسی ہے کہ انسان لاشعوری طور پر بڑا ہی جلد باز ہے ۔ وہ ہر شئے کا بھید بھاؤ اور راز جاننے کی خاطر کھوج میں نکل پڑتا ہے ۔ اسے کچھ مقصود ہے تو محض تلاش اور مسلسل تلاش ۔۔ اسی تلاش کے تجسس میں انسان کی سوچ فکر اور تخیل کسی نہ کسی طرف اڑان ضرور بھرتی ہے ۔کیوں کیا کب اور کس طرح وغیرہ ۔

بہرحال کسی نہ کسی طرح سے انسان اپنا ابہام دور کرنا کہہ لیں یا خود کو مطمعین کرنا کہہ لیں ۔ کسی نتیجہ پہ ہر حال پہنچنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے ۔ اب چاہے حاصل شدہ نتائج حقیقت پر مبنی ہوں یا پھر مصنوعیت مغالطوں یا مفروضوں کے زیر اثر ہوں۔ آخر کہیں تو کنارے لگنا ہے ۔خیر یہ تو ہو گئی بات انسان کے شعور عقل فطرت اور نفسیات کی ۔ لیکن اس سارے عمل اور محرکات کے پیچھے بھی ایک نکتہ ہے۔ جسے وقوعہ کہتے ہیں۔ آپ اسے واقعہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ خیر آگے چل کر یہی وقوعہ یا واقعہ کسی قصے داستان یا کہانی کی وجہ بنتا ہے ۔ جو کہ مکمل طور پر کسی انسان کے سوچنے سمجھنے اور بیان کرنے کی صلاحیت پر کتنا قادر ہے ۔ مطلب کہ مزکورہ بندے میں کسی تخیل کو تخلیقی قوت دینے کی کتنی صلاحیت موجود ہے۔۔ مختصر یہی کہ کسی بھی خیال کا تخلیقی قوت میں ڈھل کر بیانیے سے ظاہر ہونا فکشن کہلاتا ہے۔ اب وہ سارا سچ ہی ہو ضروری نہیں ہے ۔ اس میں مصنوعی کیفیات بھی ہو سکتی ہیں ۔ اور چند فرضی خیالات کردار مناظر وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ جنکا تعلق براہ راست حقیقت سے نہ سہی مگر حقیقت میں آنکھوں دیکھے کانوں سنے یا محسوس کیے کسی خاص واقعہ کے وقوع پزیر ہونے کے تاثر کی وجہ بن جاتا ہے ۔۔

اسی طرح انسان نے قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ وقت گزارا ہے ۔ پہلے پہل یہی فکشن اشاراتی اور صوتیاتی زبانوں سے ظاہر ہوتا رہا پھر اس نے باقاعدہ سے پتھروں پہ کنندہ نشانات کی شکل اختیار کر لی ۔ جوں جوں انسان ترقی کرتا رہا ۔ فکشن کو نت نئی زبانیں اور اظہار کے طریقے میسر آتے گئے ۔ جہاں معاشروں اور تہذیبوں کا رواج پڑا وہیں زبانیں اور لہجے بھی بنتے رہے اور بٹتے رہے ۔ آگے چل کر زبانوں کے بیانیے آئستہ آئستہ کسی نہ کسی مستقل رسم الخط کی شکل میں شناخت پا گئے ۔ یوں معلوم تاریخ کے مطابق بابلی تہذیب مصری تہذیب یونانی تہذیب اور ہندوستانی تہذیب میں لکھنے کا رواج پیدا ہوا ۔ تب کا دور ہے اور آج کا دور اگر کچھ نہیں بدلا تو وہ ہے انسان کا تخیل اور تخلیقی قوت باقی سب کچھ بدل گیا ۔ اور بٹ گیا ۔

ہاں تو جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے کہ اردو لکھاری ادارہ کے بینر تلے میری اور امجد جاوید کی سرپرستی میں فلیش فکشن ایونٹ منعقد کیا جا رہا ہے ۔ تو اسی سلسلہ میں مجھے فکشن کے متعلق اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنا پڑی ہے ۔ تاکہ ادباء قارئین اور مبصرین کو میں اپنے طریقہ سے فکشن کی تعریف سمجھا سکوں ۔ اب چونکہ ہمارے ہاں یا پھر عالمی ادب میں ناول ناولٹ شارٹ سٹوری جسے آپ اردو میں افسانہ بھی کہتے ہیں اسے ہی فکشن کہا جاتا ہے ۔ اوپر میں بتا چکا کہ واقعات کا تسلسل ہی فکشن کی بنیاد ہے ۔ مگر ادب میں تخیل کی بنیاد پر اپنی تخلیقی قوت کو بہترین کہانی میں بدل کر اپنا پیغام احسن طریقے سے ناظر یا قاری تک پہنچانا فن اور فنکاری ہے ۔ چونکہ فکشن میں سبھی کردار واقعات مناظر وغیرہ انسان کے معاشرے تہذیب یا کلچر سے جڑے ہوتے ہیں ۔ اس لیے کہانی کی پیشکش اور اسکی بنت اس حساب سے دی جائے کہ ہر طرح کا قاری اس سے ناصرف جڑ جائے۔ بلکہ کہانی میں کھو جائے ۔ میرے نزدیک کامیاب فکشن کی اس سے بڑی دلیل کوئی نہیں کا قاری فکشن کے کرداروں کو باقاعدہ محسوس کرے اور ان سے شعوری اور لاشعوری طور پر پر انسیت رکھنے لگ جائے ۔

خیر کسی وقتوں میں داستان گوئی اور قصہ گوئی کا رواج عام تھا ۔ پھر دھیرے دھیرے کہانی نے معاشرے میں جگہہ بنائی اور لوگ کتابیں پڑھنے لگ گئے ۔ یوں قلم قرطاس اور ادب نے اپنی جگہہ معاشرے میں مضبوط اور مستحکم کر لی ۔ جیسے تین ہزار برس قبل ویدک ادب اور یونانی تاریخ ۔۔ بات کرنے کا مقصد دراصل یہ ہے کہ ہمیں انسانی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ تخیل کیا ہے تخلیق کیا ہے اور پھر ادب کیا ہے ۔ بہت سے دوستوں نے سوال اٹھایا کہ بھئی جب فکشن میں ناول ناولٹ اور افسانہ موجود تو پھر فلیش فکشن کیوں ۔ چلو فلیش فکشن ہی سہی مگر یہ ہے کیا بلاں ۔ اس پہ ایک بار نہیں کئی بار مکالمہ ہو چکا۔ چونکہ اب مزید تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مختصر کہانیوں کی ابتداء بتاتے یا جتانے کی ضرورت ہے ۔ سب کو ہی معلوم ہے ۔ کہ ابتداء لوک گیتوں کافیوں حکایتوں اور اشعار وغیرہ سے ہوئی ۔ عالمی ادب ہو مغربی ادب روسی ادب ہو فارسی ادب ہو عربی ادب ہو یا پھر اردو و ہندی ادب جگہہ جگہہ اسکی مثالیں آپکو کافیوں شاعری اور حکایتوں کی صورت ضرور مل جائیگی ۔ ہاں مگر جب کبھی بات ہو اردو ادب کی تو ہمارے ہاں چونکہ رواج ہے ۔ نیا نام یا نئی شناخت اپناتے یا دیتے ہوئے اکثر صاحب رائے یا ادیب تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں ۔ اور چند ایک تو اسے بلکل ہی ادب سے خارج کر کے باہر نکال پھینکتے ہیں ۔ بنا کسی وجہ اور ٹھوس دلیل کے ۔ اس حوالہ سے میں دیکھتا ہوں کہ اردو کا دامن بانسبت عالمی ادب کے بہت چھوٹا اوروتنگ نظر ہے ۔ جبکہ باقیوں کے ہاں ایسا کچھ بھی نہیں ۔شاید یہی بات کہ باقی دنیا ہم سے زیادہ مہذب اور ادب شناس ہے ۔۔ تو ایسا ہے کہ بات چل رہی فلیش کی تو چند احباب نے سوال اٹھایا کہ افسانچہ موجود ہے تو پھر فلیش فکشن اور مائیکروف کیوں ۔ میں نے اور چند دیگر ادبی دوستوں نے بارہا کہا کہ فلیش اور افسانچے میں فرق ہے ۔ افسانچے میں افسانے کے تمام جز لازم ہیں ۔ جبکہ فلیش فکشن میں ایسا لازم نہیں ۔ بہرحال ایک بار پھر سے میں وضاحت کرنے لگا ۔ اول تو ایسا ہے کہ فلیش فکشن میں افسانے کہانی کے تمام لوازمات کی ضرورت نہیں ۔ جبکہ عام کہانی یا افسانے میں بہت لچک ہے ۔ آپ اس میں ایک یا دو پلاٹ رکھ کر بھی واحدت تاثر قائم کر سکتے ہیں ۔ لیکن فلیش میں ایسا ناممکن ہے ۔ اور یہی چیز افسانے افسانچے کو فلیش فکشن سے جدا کرنے کے لیے کافی ہے ۔ پھر چند دوستوں نے سوال کیا کہ کیا منٹو کا سیاہ حاشیے افسانچوں کا مجموعہ فلیش فکشن کے معیار پر پورا نہیں اترتا ۔۔ میں بغور مزکورہ مجموعہ اور چند دیگر مختصر ترین کہانیوں کا جائزہ لیا۔ میرا انکشاف یا ہے کہ حقیقت میں سیاہ حاشیے کی چند کہانیاں فلیش پہ پورا اترتی نظر آتی ہیں مگر زیادہ تر مختصر ترین کہانیاں افسانہ ھیں ۔

منٹو رشید امجد جوگندر پال منشاء یاد یا پھر کسی نے بھی مختصر کہانی لکھی ۔ حضرات اسے افسانچہ یا مختصر افسانے کا نام دیتے نظر آتے ہیں ۔۔ لیکن ان مختصر کہانیوں کو ہمیشہ سے ہی ناقدین کی مخالفت کل سامنا کرنا پڑا۔۔ جہاں تک بات ہے ماضی اور آج کے ناقدین کی تو مجھے جواب زیادہ مثالیں نہیں دینی محض یہی دلیل کافی کہ کسی دور میں شاعری میں آزاد نظم کی سخت مخالفت ہوئی لیکن اسے ن میم راشد نے کچھ اسطرح سے معراج دی کہ مجبورا ناقدین نے شاعری میں آزاد نظم کو قبول کیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے آزاد نظم لکھنے والے سامنے آئے ۔ جنکا تخیل اور تخلیقی قوت اپنی مثال آپ ثابت ہوئے ۔ اب اسی طرح سے سلسلہ فلیش فکشن کا بھی ہے ۔ تو عرض صرف اتنی ہے کہ آج تنقید سہی ۔ لیکن ہمارا ساتھ دیں ۔ تنقید کریں ضرور کریں ۔نام پہ تکنیک پہ بنت پہ آپکو مکمل اختیار ہے ۔ لیکن خدارا اسے خارج از ادب قرار دینا ناانصافی ہے ۔ آج نہیں تو کل یہی فلیش فکشن ہمارے ہاں باقاعدہ بطور صنف اپنی جگہہ بنا سکتا ۔ میں اور میرے بہت سے ادبی ساتھی گزشتہ چار برس سے اس پہ کام کر رہے ۔ اور ان شاءاللہ امید ہے کہ پچھلے دو ایونٹ سے اس بار کچھ بہتر اور سنجیدہ نوعیت کا کام ہمیں نظر آئے گا جو کہ یقینا مستقبل میں چل کر اردو ادب کا سرمایا ثابت ہو گا ۔

مجھ کم فہم کے نزدیک فلیش فکشن کی تعریف کچھ یوں ہے ۔ فلیش فکشن میں قصے کا ہونا لازم ہے ۔ کیونکہ کسی بھی قصے کا واقعہ کے بناء کسی بھی طرز فکشن کا تصور ہی نہیں ۔

فلیش فکشن میں تفصیلی بیانیے کہانی کی گنجائش موجود نہیں ہوتی ہاں مگر ضروری اور اہم امور کے متعلق بیانیہ ہونا ضروری ہے ۔

فلیش فکشن شروع ہوتے ہی بنا کسی تفصیل میں گئے اختتام کی طرف تبزی سے بڑھتا ہے اور کہانی کے منطقی نکتہ ء نظر کو ایکسپلور کرتا ہے ۔

فلیش فکشن دراصل جذباتی انجام کا ایک طرح سے شاعرانہ بیانیہ ہوتا ہے جو بیک وقت تخیل اور تخلیقی قوت کے جذبات میں گندھے ہتھوڑے کی ضربت سے لگنے والی وہ چوٹ ہے جو قاری کے دل و دماغ میں اتھل پوتھل پیدا کر دے ۔ اور فلیش بیک میں موجود تمام تصویریں واضح کر ہو جائیں۔

فلیش فکشن میں ایسا انجام ضرور موجود ہو جو کسی بصیرت یا انکشاف کی طرف لے جائے۔ مثال کے طور پر ۔۔

غالب کا یہ شعر۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔

اب رہ گئی الفاظ کی بات تو ایسا ہے کہ چونکہ ہم نے ناول ناولٹ اور شارٹ سٹوریز کو عالمی و مغربی ادب سے لیا ۔ اور تقریبا وہی طرز وہی انداز وہی تکنیک ہمارے ہاں بھی رائج ہے۔ اگر کچھ بدلا ہے تو وہ بیانیہ اور اسکا ڈھانچہ مگر بنیاد آج بھی وہی ہے ۔ تو کیوں نہیں بلکل ویسے ہی فلیش فکشن کو اردو ادب نئے سرے سے تشکیل دیا جائے اور اسے پرموٹ کر کے نئی صنف اردو ادب کے دامن میں ڈالی جائے۔

چونکہ عالمی و مغرب میں چھ لفظی کہانی سے لے کر پندرہ سو دو ہزار الفاظ تک مشروط فلیش فکشن لکھا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس لیے کہ کسی بھی ادارہ یا ادبی میگزین کے مدیر جو لکھوا رہے یا پھر مقابلہ اور ایونٹ کروا رہے انکی مرضی سے ۔ ہاں مگر موضوع کی قید نہیں ۔ اب ہمارے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ اردو لکھاری ادارہ کے بطور مدیر اور سرپرست اعلی کے طور پر ہم نے اسکی حد چار سو سے بارہ سو الفاظ تک رکھی ہے۔

لہذا آپ سب سے گزارش ہے کہ بڑھ چڑھ کر ہماری اس ادبی جدوجہد میں ناصرف شامل ہوں بلکہ ہمارا ساتھ دیکر ادب شناس اور ادب پرست ہونے کا عملی ثبوت فراہم کریں۔ آسانیاں پیدا کریں ۔ معاشرے تہذیبیں زبانیں اور ادب آسانیوں کے بل بوتے ترقی کرتے ہیں ۔ نا کہ روڑے اٹکانے اور مشکلات کھڑی کرنے سے اردو ادب کی ترقی و ترویج ممکن ہے ۔

بشکریہ محمدزبیرمظہرپنوار

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *