کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا آغاز

پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔

کرتارپور راہداری منصوبے کے حوالے سے مجوزہ معاہدے پر بات چیت کے لیے پاکستان اور انڈیا کے وفود انڈیا میں اٹاری کے مقام پر ملاقات کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل کی قیادت میں پاکستان کا 18 رکنی وفد واہگہ کے راستے اٹاری پہنچا جہاں انڈیا کی جانب سے مذاکرات میں وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ انڈین وزارت خارجہ کے ہی ایک اور جوائنٹ سیکرٹری انیل ملک بھی ہیں جبکہ وفد میں وزارت داخلہ اور لینڈ پورٹ اتھارٹی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

واہگہ بارڈر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کرتارپور راہداری کھلنے سے نا صرف سکھ یاتریوں کو سہولت ملے گی، بلکہ اس اقدام سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان پائیدار امن کے قیام کے لیے بھی راہ ہموار ہو گی۔

کرتار پور مذاکرات

دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل واہگہ بارڈر پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے

مذاکرات میں کیا طے ہوگا؟

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا ’ہماری سوچ ہے کہ ایک شجر ایسا لگایا جائے کہ ہمسائے کے گھر میں سایہ جائے، ہماری میٹنگ کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق ہے، ہم مذاکرات کے لیے مثبت پیغام لے کر جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ملاقات کا واحد ایجنڈا کرتارپور راہداری ہے جس کے اغراض و مقاصد اور دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس جنوری میں پاکستان نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے مجوزہ معاہدہ انڈیا کے حوالے کیا تھا اور مںصوبے کا سنگ بنیاد 20 نومبر 2018 کو رکھا گیا جبکہ تکمیل نومبر 2019 میں ہو جائے گی۔

ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے وفود یہ طے کر رہے ہیں کہ ویزا فری سفر کے لیے دوسری کون کون سے دستاویزات درکار ہوں گی۔ پاکستان اور انڈیا کی جانب سے راہداری کے لیے جو سڑک تعمیر کی جائے گی اس کو ایک دوسرے سے ملانے اور اس کے الائنمنٹ کے بارے میں بھی بات ہو رہی ہے۔

تاہم انڈیا میں صحافیوں کو ملاقات کے مقام پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور میٹنگ کے بعد ساڑھے تین بجے اٹاری پر ہی ایک نیوز کانفرنس ہو گی۔

کرتار پور مذاکرات

انڈیا میں کرتار پور راہداری کے لیے زمینیں حاصل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے

کرتارپور میں کیا ہو رہا ہے؟

دوسری جانب گرداس پور میں جہاں سے کرتار پور راہداری شروع ہوگی، راہداری اور مسافر ٹرمینل کے لیے زمینیں حاصل کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ انڈیا کی مرکزی حکومت نے ان کسانوں کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جن کی زمینیں ایکوائر کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اہلکار وہاں ان کھیتوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

انڈین لینڈ پورٹ اتھارٹی کے اہلکار اکھل سکسینہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ ایک ٹا‏ئم باؤنڈ پراجیکٹ ہوگا۔ اس کوریڈور کو 11 نومبر کو کھلنا ہے۔ اس وقت تک ہم یہاں ایک انتہائی جدید اور بڑا مسافر ٹرمینل تعمیر کریں گے۔ اس میں تمام مطلوبہ سہولیات ہوں گی۔'

ڈیرہ بابا نانک میں بین الا قوامی سرحد پر کئی میل کی دوری پر واقع گرونانک دیو کے گرودوارے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے لوگوں کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ سرحد پر دو طاقتور دوربینیں لگائی گئی ہیں جو اس گرودوراے پر فکسڈ ہیں۔ لوگ حسرت سے اس گرودوارے کو یہاں سے دیکھتے ہیں۔

کرتار پور مذاکرات

نونیت کور کے مطابق ’یہ بہت اچھا قدم ہے۔ اس سے ہم اس مقدس مقام کی زیارت کر سکیں گے، ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان یہ دوستی کا سبب بنے گا اور کشیدگی ختم ہوگی‘

عوامی ردعمل

راہداری کھلنے کی امید سے لوگ بہت خوش ہیں۔

درشن کے لیے یہاں آنے والی ایک سکھ خاتون نونیت کور نے کہا ’یہ بہت اچھا قدم ہے۔ اس سے ہم اس مقدس مقام کی زیارت کر سکیں گے، ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان یہ دوستی کا سبب بنے گا اور کشیدگی ختم ہوگی۔'

اٹاری کے بلجیندر سنگھ سندھو نے کرتار پور راہداری کے کھلنے کے امکان پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے مذہب کے بانی کا گرودوارہ ہے۔ یہ ہماری ارداس میں شامل ہے۔ یہ ہمارے جذبات کا حصہ ہے۔ لوگوں کی یہ تمنا ہے کہ یہ مقام کسی روک ٹوک کے بغیر کھول دیا جائے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اس کے کھلنے سے دونوں دیشوں میں شانتی کا پیغام جائے گا۔ تناؤ میں کمی آئے گی۔ بنا سیاست کے یہ کام ہونا چاہئیے۔ عمران خان ایک اچھے وزیر اعظم ہیں۔'

زمینیں حاصل کرنے کے نوٹیفیکیشن کے اجرا کے ساتھ ہی کوریڈور میں آنے والے کسانوں نے اپنی زمینوں کا معاوضہ تین گنا بڑھا دیا ہے۔ مقامی لوگ بہت خوش ہیں کہ آنے والے دنوں میں گرداس پور کا یہ علاقہ ایک بڑے سیاحتی مرکز میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

گرودوارہ

کرتارپور کہاں ہے؟

کرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ یہاں سے انڈیا کے ڈیرہ صاحب ریلوے سٹیشن کا فاصلہ تقریباً چار کلومیٹر ہے۔

راوی کے مشرقی جانب خاردار تاروں والی انڈین سرحد ہے۔ کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو بابا نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہیں گرودوارے میں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔

 

کرتار پور مذاکرات

انڈیا نے ان کسانوں کے نام کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جن کی زمینیں ایکوائر کی جا رہی ہیں

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کی فضا

واضح رہے کہ یہ بات چیت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی جب پلوامہ حملے اور فضائی دراندازی کے واقعات کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

بالا کوٹ کے مبینہ فضائی حملے کے بعد انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس پس منظر میں اٹاری کی میٹنگ کو بہت لو پروفائل میں رکھا گیا ہے۔

اس ملاقات کے لیے اٹاری سرحد کا انتخاب بھی بظاہر اسی نکتہ نظر سے کیا گیا ہے کہ عوام کو یہ تاثر نہ جائے کہ پاکستان کے خلاف سخت بیانات اور کارروائیوں کے دعووں کے درمیان انڈیا اس سے مذاکرات کر رہا ہے۔

اس بات چیت کے بارے میں یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ انڈیا کے سکھ شہریوں کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہے۔

راہداری منصوبے میں دریائے راوی پر پُل اور ساڑھے چار کلو میٹر سڑک شامل ہے۔ منصوبہ نومبر میں ہونے والے سکھوں کے مذہبی بانی و پیشوا بابا گورو نانک کی 551ویں برسی سے قبل مکمل ہونے کا امکان ہے۔

انڈیا نے حالیہ کشیدگی کے باعث کرتار پور راہداری منصوبے پر مذاکرات کی کوریج کے لیے پاکستانی صحافیوں کو ویزے جاری نہیں کیے ہیں۔

کرتار پور مذاکرات

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا ایک ٹوئٹر بیان میں کہنا تھا کہ 30 سے زائد انڈین صحافیوں نے کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور انھوں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی تھی جب کہ انڈین صحافیوں کے لیے وزیر خارجہ نے عشائیہ کا اہتمام بھی کیا تھا تاہم انڈیا نے پاکستانی صحافیوں کو ویزے نہیں دیے جس پر افسوس ہے۔

21 جنوری کو پاکستان نے انڈیا کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دیتے ہوئے تجویز کیا تھا کہ اس سلسلے میں پاکستانی وفد 14 مارچ کو انڈیا کا دورہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد انڈین وفد بھی پاکستان کا جوابی دورہ کر سکتا ہے۔ جس پر 6 مارچ کو انڈیا کی جانب سے پاکستانی وفد کو 14 مارچ کے دورے کی تجویز دی گئی تھی جس کو قبول کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *