ارمان لونی کی ہلاکت: ایف آئی آر کہاں ہے؟

ارمان لونی: ’قانون پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بغیر بھی ایف آئی آر کے اندارج کی اجازت دیتا ہے‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے لورالائی میں مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ہلاک ہونے والے ارمان لونی کی ہلاکت کے کئی روز گزرنے کے بعد بھی اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی۔

گذشتہ روز ان کے چہلم کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کیا گیا جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان کے اعزاز میں ریفرنس منعقد کیے گئے۔

بلوچستان کے علاقے لورالائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈر 35 سالہ ارمان لونی دو فروری کو مبینہ پولیس تشدد سے ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کے چہلم کے موقع پر پی ٹی ایم کے کارکنان نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ (ایف آئی آر) کے فوری اندراج کا مطالبہ کیا ہے۔ ارمان لونی کی بہن وڑانگہ لونی نے الزام لگایا تھا کہ ان کے بھائی کی موت پولیس تشدد سے واقع ہوئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی ایف آئی آر درج ہو سکے گی۔

لورالائی تھانے کے ایس ایچ اور سید ناصر شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس 'ارمان لونی کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے اور رپورٹ آنے کے بعد ایف آئی آر درج ہو گی۔‘

اس سوال پر کہ رپورٹ کب تک متوقع ہے انہوں نے کہا کہ 'جلد آئے گی۔‘

کیا پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بغیر مقدمہ درج ہو سکتا ہے؟

اس بارے میں بات کرتے ہوئے سابق آئی جی سندھ ڈاکٹر شعیب سڈل کہتے ہیں کہ پولیس کے پاس مقدمے کے اندراج کے لیے دونوں ہی آپشنز موجود ہیں۔

’پولیس یہ مقدمہ درج کر لیتی اور اگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کہتی ہے کہ ان (ارمان لونی) کی طبعی موت تھی تو مقدمہ خارج ہو سکتا تھا اور اس بات کی قانون اجازت دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر شکوک و شبہات ہوں کہ نہیں ایسا (تشدد) تو بالکل نہیں ہے تو پھر پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار بھی کیا جا سکتا ہے۔‘

ارمان لونی کی بہن واڑنگا لونی

ارمان لونی کی بہن واڑنگا لونی

دوسری جانب ارمان لونی کی بہن واڑنگا لونی نے پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ ملنے کو پولیس کا تاخیری حربہ قرار دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ دیکھی ہے جس میں ان کے بھائی کے سر پر تشدد کے نشانات ہیں۔

’پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ لیٹ کر رہی ہے۔ ابھی ارمان لونی کا چہلم ہے، چالیس دن میں رپورٹ نہیں آئی اور شاید اور بھی لیٹ کی جائے۔ وجہ صاف ہے کہ یہ لوگ مان نہیں رہے کہ ان پر تشدد ہوا ہے۔‘

پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تیاری کے لیے درکار وقت؟

بی بی سی نے یہ سوال اسلام آباد کے سرکاری اسپتال میں اسی شعبے سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر محمد نصیر سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ 'عام طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ ایک دن میں بھی تیار کی جا سکتی تاہم موت کی وجہ کے حوالے سے پولیس یا ڈاکٹر کو شکوک ہوں تو اس میں دو سے تین ماہ کی تاخیر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اس صورت میں رپورٹ لاہور میں موجود واحد فرانزک لیبارٹری تیار کرتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر یہ شک ہے کہ موت کی وجہ دل کا دورہ پڑنا ہے تو انسانی دل لاہور بجھوایا جاتا ہے، چونکہ پاکستان میں صرف اس ایک لیبارٹری کی رپورٹ عدالت میں قابلِ قبول ہے یہی وجہ ہے کہ ملک بھر سے سیمپلز یہیں لائے جاتے ہیں جو تاخیر کا باعث بنتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں پاکستان میں ہونے والے ان مظاہروں میں شریک پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار بھی کیا ہے جن کی رہائی کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کافی تحریک چلی تھی۔

تاہم ان ٹویٹس اور جوابی ٹویٹس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس بارے میں ایک نئی بحث چل نکلی ہے۔

پولیس کے ایک سینیئر اہلکار کا دعویٰ ہے کہ نہ ارمان کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ان کی ہلاکت کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں نے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور پشتون اکثریتی علاقوں میں ہڑتال کی تھی، جبکہ اس موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنان کی پکڑ دھکڑ پر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اپنے خیالات کا اظہار ٹویٹس کی صورت میں کیا تھا، جس پر پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور انہیں 'غیر ذمہ دارانہ' اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں 'سنگین مداخلت' قرار دیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *