زبان بندیوں میں عمریں ہماری گزرگئیں

مانا کہ مغرب کے دوہرے معیارہیں ۔ہمارے کتنے ہیں اورسچائی کے ہم کتنے شیدائی ہیں؟ نیوزی لینڈ تو اپنے سانحے کا سامنا کررہاہے۔ ہمارے ہاں بھی سانحات کی کمی نہیں رہی ۔ کیا ہم بھی اُن کا سامنا کر پاتے ہیں ؟
پاکستان میں حالیہ سالوں میں کئی ایسے واقعات رونما ہوئے‘ جن پر جو آواز اٹھنی چاہیے تھی نہیں اٹھی‘ کئی ایسے حملے ہوئے جن کے بارے میں مختلف کہانیاں گھڑی گئیں‘ کئی ایسے واقعات ہوئے جن میں نمازِ جنازہ پڑھانی بھی دشوار ہو گئی۔ پھر جو سیاسی تنظیم اِس سارے معاملے پہ بنی جب اُس نے ایک خوف کاماحول پیدا کیا تواُس کے خلاف آواز اُٹھانے والے کتنے تھے ؟ یہ تو بھلا ہو اُس وقت کی سپریم کورٹ کا کہ آخر کار اُس نے جرأت دکھائی اورقانون کی نظر میں صحیح فیصلہ کیا۔ بھلا ہو اداروں کا بھی کہ انہیں جلد نہیں توبدیر اپنی اصل ذمہ داریوں کا احساس ہوا اوروہ ایکشن لیا جس کی وجہ سے اب یوں محسوس ہوتاہے کہ شورش سے اُٹھنے والی تنظیم کا کبھی وجود ہی نہ تھا۔
یہ بڑی عجیب بات ہے مملکت نظریاتی ہے‘ لیکن اس کے اکابرین نظریاتی درسگاہوں کی بجائے مشنری کے سکولوں میں اپنے بچوں کو بھیجنا چاہتے ہیں ۔ اب تو شایدصورتحال ذرا مختلف ہے‘ لیکن پاکستان کے شروع کے سالوں میں اشرافیہ اورحکمران طبقے کے تمام بچے مشنری سکولوں میں جانا ہی پسند کرتے تھے ۔ کراچی میں لڑکوں کیلئے سینٹ پیٹرک اورگرائمر سکول ‘ لڑکیوں کیلئے سینٹ جوزف کالج ۔ لاہور میں کیتھیڈرل اورسینٹ انتھنیز ‘ لڑکیوں کیلئے کوئین میری۔جہاں بھی ہوں کسی کانونٹ میں جانے کی آرزو رہتی تھی ۔ مری کے تمام اچھے سکول یا مشنری چلاتے تھے یا وہ سکول انگریزی لائنوں پہ استوار تھے ۔ کشمیر پوائنٹ پہ سینٹ ڈننیز(St Deny's)اور پنڈی پوائنٹ کی طرف کانونٹ آف جیسزاینڈ میری (Convent of Jesus & Mary)اوراِن کے درمیان پریزنٹیشن کانونٹ (Presentation Convent)۔اشرافیہ کی ٹریننگ اورتربیت ان سکولوں میں ہوتی ۔لیکن سٹیج سے نعرے لگتے ‘ تو نظریات کے ۔ جب پہلی قانون ساز اسمبلی آئین بنانے کی بجائے قرارداد مقاصد کی موشگافیوں میں گم ہونے چلی تو بیشتر تقریریں کسی دیسی زبان میں نہ تھیں بلکہ انگریزی میں ادا کی گئیں۔ 
زبانوں پہ تالا بندی مذہبی معاملات پہ ہی نہ رہی بلکہ جب بھی کاروبارِ مملکت میں کوئی نازک مسئلہ اُٹھا تو کھل کے سچ بات کہنی دشوار رہی ۔ پاکستان جب مغربی دفاعی معاہدوں میں جا کودا توکتنی آوازیںاُس اقدام کے خلاف اُٹھیں ؟سرکاری سچ ہمیشہ عام سچ کے مقابلے میں حاوی رہا۔ جو کوئی سرکاری سچ کے خلاف بولتا وہ غدارِ قوم ٹھہرتا۔ شروع کے سالوں میں تو حکمران مسلم لیگ نے صداقت کا ٹھیکہ ا پنے ذِمے کیا ہوا تھااور جو اُس کے خلاف آواز اُٹھاتا اُسے شک کی نظروں سے دیکھا جاتا۔نو مولود ریاست کو بائیں بازوکے خیالات رکھنے والوں سے خاص چڑ تھی ۔ اسی تناظر میں روس دشمنی نئی ریاست نے ورثے میں پائی ۔ چونکہ انگریز روسیوں کے خلاف تھے تو ہمارے ادارے بھی روس کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ امریکی تو ہمارے اصل یار تھے ۔ کچھ پیسہ بھی وہاں سے آرہاتھا اوراسلحہ بھی ۔لیکن ان چیزوں سے بھی زیادہ اہم چیز نظریاتی ہم آہنگی تھی ۔ جن نظروں سے امریکہ دنیا کو دیکھتاتھا ہم نے بھی ویسی ہی عینکیں پہن رکھی تھیں۔ اُس زمانے میں امریکہ پہ شک کرنا کفر کے مترادف تھا۔ جو امریکہ کہتاتھا وہی ٹھیک ٹھہرتا۔ اب جا کے اُس ذہنی غلامی سے پاکستانی قوم چھٹکار احاصل کررہی ہے ۔یہ سلسلہ کافی آگے جا چکاہے لیکن اب بھی کئی منزلیں طے کرنا باقی ہیں ۔
کوئی فیلڈ مارشل فوجی فتوحات کے بعد بنتاہے ‘مگر ایوب خان اقتدار میں تھے تو خود کو فتوحات کے بنا فیلڈ مارشل بنا ڈالا ۔ ہاں ‘ اُن کی فتوحات تھیں تو پاکستانی عوام کے خلاف۔ 65ء تک اتنے توانا حکمران نہ رہے تھے ۔ مادرِ ملت کے خلاف صدارتی الیکشن کے معرکے نے اُنہیں نفسیاتی طورپہ کمزور کر ڈالا تھا۔ لیکن پتہ نہیں اُنہیں کیا سوجھی کہ 1965ء میں آنکھیں بند کرکے ہندوستان کے ساتھ جنگ کی طرف چل پڑے۔ اُس وقت کوئی تخمینہ نہ لگایاگیاتھا کہ ہم یہ کیا کرنے جارہے ہیں‘ نفع کیا ہوگا اورنقصان کیا۔ اُس غیر ضروری اور بیوقوفانہ جنگ میں پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ۔ترقی کی پٹری سے ملک اُتر گیا۔ لیکن بجائے اس کے کہ اُس جنگ کی گہرائیوں میں جانے کی کوشش کی جائے طرح طرح کے افسانے بنائے گئے اورقوم کو یہ باور کرایاگیا کہ موذی دشمن نے اُس پہ حملہ کیا تھا ؛حالانکہ ساری کارروائی کی شروعات ہم سے ہوئی تھی ۔ 
1971 ء کی جنگ میں میں لاہور محاذ پہ تھا۔ ہماری یونٹ کا ہیڈ کوارٹر راوی پل کے قریب تھا لیکن میں کچھ طیارہ شکن گنوں کے ساتھ اِدھر اُدھر جارہاتھا۔ ریڈیو پہ سُنا کہ مشرقی پاکستان میں شہر جے سور پہ ہندوستانی افواج نے قبضہ کرلیاہے ۔ میں نے رجمنٹ کے ایک افسر کو یہ بات بتائی تو اُس نے تقریباََ میرا گلہ پکڑنے کی کوشش کی ۔ (بعد میں وہ افسر میجر جنرل کے عہدے پہ فائز ہوا)۔پتوکی کے قریب ایک ریلوے پل ہندوستانی جہازوں کی بمباری سے تباہ ہواتھااور میں وہیں موجود تھا ‘جب اعلان ہوا کہ صدرِ مملکت قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ ریڈیو آن کیا تو آواز سے صاف پتہ چل رہاتھا کہ جنرل آغا محمد یحییٰ خان پورے نہیں تو آدھے عالمِ مدہوشی میں ہیں۔ اُنہوں نے چرچل نما بات کی کہ ایک معرکے میں ہار ہوئی ہے ‘ جنگ تادمِ فتح جاری رہے گی ۔اگلے روز ہتھیار ڈال دئیے گئے ۔
افغانستان کی آگ میں جب جنرل ضیاء الحق نے قوم کو دھکیلا تو رواجِ حکمرانی ایسا تھا کہ مخالف بات کہنی مشکل ہو گئی تھی ۔ ہر طرف سے یہ ڈھنڈ ورا پیٹا جارہاتھا کہ روسی گرم پانیوں کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایک نعرہ بلند ہوا اورپاکستان امریکہ کا آلہ کار بن گیا۔ 
مطلب یہ کہ ہر بار داستان گوئی سے کام لیا گیا۔پرویز مشرف سے کوئی پوچھے کہ دماغ میںکیا چیز آئی کہ کارگل آپریشن شروع کیا۔ نہ حکومت کو کچھ پتہ نہ بیشتر ڈویژنل کمانڈروں کو ۔بیشتر اندھیرے میں تھے ‘ بس تین چار افسران تھے جنہوں نے یہ معرکہ کر ڈالا۔ یہ تو اچھا ہوا کہ جلد ہی پتہ چل گیا کہ ہم نے غلط روش اختیار کی ہے اورپیچھے ہٹنے میں ہی عافیت ہے‘ لیکن پھر باتیں بنائی گئیں کہ بڑی فتح کے قریب تھے اگر حکمران بزدل نہ نکلتے ۔ جوکہ سراسر غلط بیانی ہے ۔ 
یہ تو حکومتی سطح پہ باتیں ہیں ۔ معاشرے کی سطح پہ بھی بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پہ کھل کے بات کرنا محال ہے ۔ ناں ناں ‘ احتیاط کیجیے مسئلہ حساس ہے ۔ فلاں ناراض ہوں گے‘ فلاں پہ بات گراں گزرے گی ۔ ہماری عمر ایسی کہانیاں سنتے گزری ہے ۔ 
نیوزی لینڈ تو اپنے سانحے کا سامنا کررہاہے۔ ہمارے ہاں بھی سانحات کی کمی نہیں رہی ۔ کیا ہم بھی اُن کا سامنا کر پاتے ہیں ؟ افغانستان کی آگ میں جب جنرل ضیاء الحق نے قوم کو دھکیلا تو رواجِ حکمرانی ایسا تھا کہ مخالف بات کہنی مشکل ہو گئی تھی ۔ ہر طرف سے یہ ڈھنڈ ورا پیٹا جارہاتھا کہ روسی گرم پانیوں کی طرف بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایک نعرہ بلند ہوا اورپاکستان امریکہ کا آلہ کار بن گیا۔
بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *