عورت مارچ

زندگی معمول سے گزر رہی تھی اور 2019 کا آغاز اچھے انداز سے ہو چکا تھا ، مختلف حالتوں اور زاویوں سے امن اور خوشحالی کی طرف نوعِ انسانی بڑھ رہی تھی، پہلے کچھ دن پاک بھارت جنگ کا خوف سوار رہا وہ تھما تو ایک صبح سوشل میڈیا پر مختلف خواتین رنگا رنگ کے کارڈ اٹھائے اور نعرے لگاتی ہوئی نظر آئیں ، غور کرنے پر معلوم ہوا عورت مارچ ہے اور یہ خواتین تمام عالم کی عورتوں کی نمائندگی کرنے آئی ہوئی ہیں اور پڑھنے دیکھنے اور سننے والے تو یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ یہ واقعی عورت کا اصل چہرہ اور بنیادی خواہشات کا اظہار ہے لیکن یہاں بے شمار مردوں نے ان پر طنز کیے مذاق اڑائے اور مختلف بازاری القابات سے بھی نوازا
 کیا یہ اس دنیا اور خصوصاََ پاکستان یا پاکستانی عورتوں کے حقوق کی آواز تھی؟  کیا یہ سب عورتوں کی خواہش تھی؟  کیا یہ عورتوں کا اصل چہرہ تھا؟  کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ جاب کرنے والی یا معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے والی خواتین اور لبرل طبقے کی منہ زوری ہے
کچھ کہیں گے کہ یہ بیرون ملک این جی اوز کی فنڈنگ اور مغرب کے گھناونے چہرے کا ایک رنگ ہے کچھ کہیں گے قیامت آنے والی ہے کچھ کہیں گے کہ ان کا سر قلم کر دو اور کچھ کہیں گے زبان قلم کر دو
اب دوسرے طبقے کی طرف چلیے، ایسا طبقہ جو پردے دوپٹے اور رکاوٹوں سے آزادی چاہتا ہے وہ کہے گا بالکل بجا مطالبات ہیں اور بہترین مارچ ہے آزادی رائے کا حق سب کو حاصل ہے، کچھ کہیں گے یہاں بھی مغرب جیسا قانون ہو، کچھ کیا کہیں گے تو کچھ کیا، لیکن میں سوچتی ہوں کیا اس سب کے درمیان عورت مذاق بن کر نہیں رہ گئی؟  کیا اس سب میں عورت ذات کی توہین نہیں ہوئی کیا اس سب میں عورت کو اس کے مقام سے ہٹا نہیں دیا گیا؟  کیا اس سب میں عورت کو جنسی آزادی چاہنے والی قرار نہیں دیا گیا؟
عورت اپنے آپ کو مثبت انداز سے بھی منوا سکتی تھی، مرے خیال میں تو آج کی عورت خود کو ہی نہیں جانتی، وہ نہیں جانتی کہ اس کا مقام کیا تھا اور وہ کہاں سے کہاں آ گئی ہے اور یہ جلد بازی اسے مزید کہاں لے کر جا رہی ہے، عورت جب تک اپنے آپ کو نہیں پہچانے گی اور اپنے مرتبے کا تعین نہیں کرے گی وہ کبھی اپنی بات کو بہتر انداز میں نہیں پہچا سکتی اور اسی طرح بد اور نیک کی چکی میں پستے ہوئے اپنی پہچان کھو دے گی
میں سوچتی ہوں وہ کونسا لمحہ تھا جس وقت جنس کی تفریق طاقت کی بنا پر ہوئی ؟ عورت کو کمزور کہا گیا اور مرد کو طاقت ور, عورت کم عقل اور مرد دانش و حکمت کا منبع,  عورت بے کار اور ضرورت کا نام اور مرد کار آمد,  عورت ادھوری ذات اور مرد مکمل,  اس لمحے کی طرف واپس چل کر تو دیکھیں کہ ماجرا کیا تھا وہ کیا حالات تھے وہ کیا ضروریات تھیں جن کی وجہ سے عورت کو ہار کا سامنا ہوا, کیا ایسا کوئی ذہنی و جسمانی طاقت کا مقابلہ ہوا جس میں عورت کو کمزور ثابت کیا گیا اور مرد کو طاقت ور,  اس لمحے میں واپس چلنے کو تو صرف میں کہہ رہی ہوں, نہ ہی مرد طبقہ یہ بات سہہ سکے گا اور نہ ہی اور دنیا کی پستی اور ظلم سہتی ہوئی خواتین حوصلہ کر سکیں گی تو مجھے اکیلے جانا ہو گا کیا ؟
عورت کیا ہے ؟ خدا نے اس دنیا جہان کو پیدا کیا اور پھر اس نے جان بھری ان سب میں جنہیں وہ جاندار بنانا چاہتا تھا,  ان میں سے پھر تخلیق کی صفت مادہ میں رکھی گئی, کوئی بھی جاندار ہو جب تک مادہ نہ ہو اولاد پیدا نہیں ہو سکتی اور نسل آگے نہیں بڑھ سکتی,  آدم کے بعد حوا پیدا ہوئیں تو نسلِ آدمی آگے بڑھی,  وہ رب ہی سب کا خالق ہے اور اس نے ہی پھر تخلیق کرنے کا حصہ عورت کے حق میں ڈالا,  وہ اپنے اندر اپنے جسم اپنی روح سے اپنی اولاد کو جنم دیتی ہے,  اپنے جسم کے حصوں سے اولاد کا جسم جنم دیتی ہے اور اپنی روح کی پاکیزگی سے معصوم بچوں کو فطرت کے رنگ میں پیدا کرتی ہے, عورت تخلیق کرتی ہے ان سب کو جو پھر بڑے ہو کر اسی عورت پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں
عورت کمزور ہے ؟ یہ وہی عورت ہے جس نے جنم دیا و ر پھر وہی مرد جس نے عورت کے بطن سے جنم لیا وہی بڑا ہو کر خود کو طاقت کا منبع سمجھتا ہے اور عورت کو کمزور اور کم عقل کہتا ہے,  اس وقت وہ کیا تھا جب وہ اپنی سانس تک عورت کے پیٹ میں لیتا تھا,  یہ سب وہ کیوں بھول جاتے ہیں,  اور عورت وہ بھولی جنس ہے جو احسان جتانا جانتی ہی نہیں بعد میں خود پہ کسی جانے والی باتیں تو سن لییتی ہے لیکن ایک لفظ تک اسے کچھ نہیں کہتا کیونکہ اس کے خلوص اور محبت میں کمی نہیں آتی
عورتوں کا عالمی دن انہیں اپنی رائے کے اظہار,  اپنے حقوق کی آواز اور اپنے مقام کے احترام کے حصول کی تربیت دینے کے لیے منایا جاتا ہے,  کتنی عورتیں ہیں اس دنیا میں جنہیں ہر روز کتنے ہی ظلم سہنے پڑتے ہیں , افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں عورتوں کی 90 فیصد آبادی کو تو پتہ ہی نہیں ہو گا کہ عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے بس وہ تو اپنی ذات ہیں گم اپنی اولاد اپنی ذمہ داریوں اپنے گھر کی فکر میں لگی رہتی ہیں انہیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ وہ کیا ہین اور انہیں اپنے مقام کے لیے لڑنا اور آواز اٹھانا چاہیے لیکن وہ اپنے گھر کی محبت میں ہر روز قربانی دیتے ہوئے گزارتی جاتی ہیں
اب آخر پہ میں بتاتی ہوں کہ عورت کو اپنے دن منانے پر کون سی آواز اٹھانی چاہیے تھی؟
وہ کہتی
عورت کو پڑھنے دو
بہن کو وراثت میں حق دو
بیٹی کو کمتر مت سمجھو
بیوی کو برابری کا پیار دو
ماں کی خدمت کرو
اور عورت کو جنس نہیں انسان سمجھو
تو یہی مرد شرمندہ ہو کر اس کے حقوق کے لیے خود آواز اٹھاتے، یاد رکھیے کہ اپنا حق غلط انداز سے حاصل کرنا بھی جرم ہی کہلاتا ہے تو کیا عورت کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے درست راستے کا تعین کرنا مشکل ہے تو ہم سب خواتین کو چاہیے کہ اپنے آپ کو پہچانیں اور ایک دوسرے کو ساتھ لے کر درست مرتبے کے حصول کے لیے کوشاں رہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *