سمندری ممالیہ جو تعداد میں 10 ہی باقی رہ گئے ہیں

میکسکو سٹی: ماہرین نے ڈولفن کے خاندان کی ایک سمندری مخلوق ویکیٹا کو ایک طرح سے معدوم قرار دیدیا ہے کیونکہ انتہائی کوششوں کے باوجود صرف دس کی تعداد میں ہی یہ جانور دیکھے گئے ہیں۔

خلیجِ کیلیفورنیا اور میکسکو کے پانیوں میں ویکیٹا بڑی تعداد میں موجود تھی جو سمندری جانوروں کے ایک گروہ سیٹاشیئن کی سب سے چھوٹٰا جانور ہے اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ مسلسل شکار اور انسانی جالوں میں پھنسنے کے بعد ان کی نسل تیزی سے کم ہوئی ہیں۔ اندازہ ہے کہ شاید اس کے 10 سے 22 اراکین ہی عالمی سمندروں میں بچے ہیں لیکن اب تک صرف دس ویکیٹا کی تصدیق ہوئی ہے۔

پورے سال 2018 میں انٹرنیشنل کمیٹی فار دی ریکووری آف دی ویکیٹا (سی آئی آر وی اے) نے سمندروں کی آڈیو مانیٹرنگ کے بعد کہا ہے کہ اب یہ مخلوق صرف دس کی تعداد میں ہی زندہ بچی ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے سی شیپرڈ نامی ایک تنظیم نے کیلیفورنیا کی خلیج کے آخری حصے میں ایک چھوٹی ویکیٹا کو دیکھا ہے۔

واضح رہے کہ یہ دنیا کا واحد مقام ہے جو ویکیٹا کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے کیونکہ یہاں ہر قسم کے سمندری جال کا استعمال ممنوع ہے۔ لیکن اس کے باوجود چند روز پہلے اسی پانی میں ایک غیرقانونی جال اور اس کے ساتھ ایک مری اور گلی ہوئی سمندری مخلوق دیکھی گئی۔ بہت کوشش کے باوجود ماہرین نے اسے شناخت کرلیا اور وہ بھی ایک ویکیٹا ہی تھی۔

ماہرین کے مطابق ویکیٹا کا سب سے بڑا جانی نقصان میکسکو میں ہوا ہے اور وہاں اس جانور کو بچانے کے لیے قانون سازی ضرور ہوئی لیکن جان لیوا جالوں کا استعمال اب بھی جاری ہے۔ اگرچہ 2017 میں میکسکو نے ویکیٹا دشمن گِل نیٹ پر پابندی کا اعلان تو کیا تھا لیکن اس پر اطلاق نہیں ہوسکا۔ آبی حیات کو بچانے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ میکسکو کے ادارے اس معصوم جانور کو بچانے کے لیے سمندری نگرانی بھی نہیں کررہے۔

میکسکو میں ویکیٹا کو بچانے والی تنظیموں پر جرائم پیشہ ماہی گیر بھی حملہ کررہے ہیں اور یوں ان کے مشن میں بہت سی مشکلات حائل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *