پاکستانی صارفین انٹرنیٹ پر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

پاکستانی انٹرنیٹ صارفین اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ آن لائن پیسے کیسے کمائے جا سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں اور اسے سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے یہ سمجھنا پڑے گا کہ انٹرنیٹ کام کیسے کرتا ہے اور اس پر کمائی کے بنیادی ذرائع کیا ہیں؟

اس ساری گتھی کو سلجھانے کے لیے ہم نے دو اقساط پر مشتمل مضامین تیار کیے ہیں جن میں ہم نے انٹرنیٹ پر کمائی کے دو بنیادی ذرائع پر ماہرین اور صارفین دونوں سے بات کی ہے اور اپنے قارئین کے سامنے ایسی صورتحال رکھی ہے جس کے بعد ان کو آگاہی حاصل ہو کہ انٹرنیٹ پر کمائی کس طرح کی جا سکتی ہے۔

انٹرنیٹ پر کمائی کے دو بنیادی ذرائع ہیں

پہلا کونٹینٹ کے ذریعے کمائی ہے۔ کونٹینٹ سے مراد ایسا ملٹی میڈیا مواد ہے جسے دیکھنے، پڑھنے یا سننے کے لیے لوگ کسی پلیٹ فارم پر آئیں جو اس کے بدلے میں کونٹینٹ بنانے والے کو پیسے ادا کرے۔ یہ کونٹینٹ ویڈیو، تصاویر، آڈیو، بلاگنگ یا وی لاگنگ جیسا کوئی بھی تخلیقی کام ہوسکتا ہے جس کی مارکیٹ میں مانگ ہو۔

آن لائن

دوسرا کمائی کا ذریعہ ای کامرس یا انٹرنیٹ کے ذریعے خرید و فروخت ہے۔ جہاں پر آپ کو بغیر کسی دکان، فیکٹری یا اس قسم کے کاروباری ڈھانچہ بنائے بغیر آن لائن اشیاء کی خرید و فروخت کا موقع ملتا ہے۔

آن لائن

جس میں روایتی کاروبار کی طرح آپ چیزیں فروخت کے لیے آن لائن رکھتے ہیں، جنھیں طلب رکھنے والے صارفین خریدتے ہیں اور آپ کو کارڈ یا کیش آن ڈلیوری کے ذریعے اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم کونٹینٹ کے ذریعے کمائی کے آپشن پر بات کریں گے اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ایک تخلیق کار کیسے آن لائن پیسے کما سکتا ہے۔

ڈیجیٹل آبادی کتنی ہے؟

ڈیجیٹل سٹریٹجسٹ بدر خوشنود کہتے ہیں ’پاکستان میں اس وقت چھ کروڑ انٹرنیٹ صارفین ہیں‘ جو چند مہینے پہلے کا سرکاری ڈیٹا ہے۔ ’اس میں سے تقریبا ساڑھے تین، پونے چار کروڑ لوگ اس وقت صرف فیس بک پر ہیں۔ جن میں سے پچاس فیصد جنریشن زیڈ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سنہ 1990 کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔‘

اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف پاکستان کے اندر آپ کی مارکیٹ کتنی بڑی ہے۔ اس میں آپ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اردو زبان سمجھنے والے پاکستانیوں کو شامل کرلیں تو مارکیٹ بہت بڑی ہو جاتی ہے۔

کونٹینٹ کے ذریعے کمائی

بدر خوشنود کہتے ہیں ’ایڈور ٹائزر ان کو پیسے دیتے ہیں جن کے پاس ٹریفک ہوتی ہے۔ اب اگر آپ اس چیز کو سمجھ جائے کہ لوگ کس چیز کو پسند کر رہے ہیں۔‘

اس کے مطلب ہے کہ ہمیں انٹرنیٹ پر موجود صارفین کی ضررورت اور طلب کو جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کس قسم کا مواد پڑھنا، سننا، دیکھنا یا خریدنا چاہتے ہیں۔

مگر وہ مواد یا کونٹینٹ کیا ہے؟

یہ جاننے کے لیے ہم نے رخ کیا ضلع سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں کنگڑا کا جہاں ہم یوٹیوب پر دیہی زندگی کے بارے میں چینل چلانے والے وی لاگر مبشر صدیق سے ملنے کے لیے گئے۔

مبشر صدیق کے چینل کا نام ’ولیج فوڈ سیکریٹ‘ ہے اور ان کے نو لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں۔ ان کے چینل پر بڑی تعداد میں لوگ ان کی ویڈیوز دیکھنے کے لیے آتے ہیں جن میں پنجاب کی سادہ دیہی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ ان کی سب سے مقبول ویڈیو کو پچپن لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔

مبشر بہت سادہ انسان ہیں اور شاید ان کی یہی سادگی ان کے دیکھنے والوں کو پسند آتی ہے۔

جب ہم نے ان سے اس چینل کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بڑی سادگی سے کہا ’یوٹیوب پر کھانا پکانے کا میرا چینل ہے۔ میری تعلیم جو ہے وہ میٹرک ہے، اور وہ بھی میں نے تھرڈ ڈویژن میں کی ہوئی ہے۔ اور میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے بالکل ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔‘

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مبشر جس گاؤں میں رہتے ہیں وہاں انٹرنیٹ بھی باقاعدگی سے دستیاب نہیں اور انھیں اپنی ویڈیوز گاؤں سے ایک اور جگہ جا کر آپ لوڈ کرنی پڑتی ہیں۔

تو جیسا کہ مبشر صدیق نے دیہی زندگی کو اپنی بنیادی پیشکش کے طور پر اپنایا ویسے ہی آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ دکھانا کیا چاہتے ہیں۔ کیا آپ معاشیات کے اوپر لکھنا چاہتے ہیں یا سیر و سیاحت پر وی لاگنگ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کس پلیٹ فارم کے لیے کیا کام کرنا چاہتے ہیں۔

آن لائن

یو ٹیوب پر بڑی تعداد میں لوگ ویڈیو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ اور چونکہ وہ ویڈیو دیکھنے کے لیے آتے ہیں اس لیے درمیانے سے طویل دورانیے کی ویڈیوز یوٹیوب پر بہتر کام کرتی ہیں۔

یہی بات اگر فیس بک کے بارے میں کی جائے تو وہاں مختصر دورانیے کی ویڈیوز زیادہ بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں۔ فیس بک پر ایڈ بریکس فی الحال پاکستان کے اندر دستیاب نہیں۔

فیس بک پر مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو دو مہینے کے اندر کم از کم تین منٹ کی ویڈیوز پر 30ہزار ویوز حاصل کرنا ہوگی اور آپ کے پیج کے کم از کم 10 ہزار فالورز ہوں۔

اس حوالے سے فیس بک کا ایک بہت مشہور پیج ناس ڈیلی تھا جس کے کروڑوں فینز تھے اور ان کی ایک منٹ کی ویڈیوز کو کروڑوں کے حساب سے لوگوں نے دیکھا ہے۔

پلیٹ فارمز جو پیسے دیتے ہیں؟

آن لائن کونٹینٹ کے ذریعے پیسے کمانے کے لیے تین بڑے پلیٹ فارمز ہیں۔ یوٹیوب، فیس بک اور ورڈ پریس یا بلاگنگ۔

گوگل اس لحاظ سے مارکیٹ میں سب سے نمایاں ہیں کیونکہ اس کے دو بڑے پلیٹ فارمز کے ذریعے کمائی کی جا رہی ہے۔ ایک یوٹیوب جسے دنیا کا سب سے بڑا ویڈیو سرچ انجن کہا جاتا ہے۔ دوسرا گوگل ایڈز جنھیں مختلف بلاگز پر لگا کر اشتہارات کی مد میں کمائی کی جاسکتی ہے۔

یوٹیوب پر بنیادی طور پر ویڈیوز شائع کی جاتی ہیں جنھیں دیکھنے کے لیے ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ یوٹیوب پر موجود ہیں۔ بلاگ پر تحریر یا تصویر کی شکل میں مختلف معلومات شائع کی جاتی ہیں جن کے ساتھ گوگل یا دوسرے اشتہارات لگتے ہیں جن کے ذریعے پیسے کمائے جاتے ہیں۔

یہ نظام کام کیسے کرتا ہے؟

آن لائن

مبشر صدیق کے چینل کا نام ولیج فوڈ سیکریٹ ہے اور ان کے نو لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں

اگر آپ ایسا مواد بنانا شروع کریں جس پر ٹریفک آتی ہے تو ٹریفک ملے گی تو ایڈورٹائزر خود چل کر آپ کے پاس آئے گا۔ یہ ایڈورٹائزر گوگل یا فیس بک آپ کے پاس لے کر آئے گا۔

بدر خوشنود کہتے ہیں کہ ’یہ ایک پورا نظام بن جاتا ہے۔ کیونکہ ایڈورٹائزر کو قارئین چاہیے۔ قارئین کو اچھا مواد چاہیے۔‘

اس کا مرحلہ وار طریقہ بدر خوشنود کی زبانی کچھ یوں ہے۔

آپ کو اپنے مواد کے لیے پلیٹ فارم چاہیے ہوگا۔ وہ یوٹیوب چینل ہو سکتا ہے، فیس بک پیج ہو سکتا ہے۔ ویڈیو، آڈیو یا تصویری بلاگ ہوسکتا ہے یا سادہ تحریروں پر مشتمل بلاگ ہوسکتا ہے۔ تو سب سے پہلے آپ کو اپنے مواد کی اشاعت کے لیے ایک ڈیجیٹل اثاثہ بنانا پڑے گا۔ اگر ویب سائٹ ہے تو اس کے لیے ڈومین کے ساتھ آپ کو ہوسٹنگ خریدنی پڑے گی جس پر آپ کے ویب سائٹ قائم ہو گی۔

ویب سائٹ کی صورت میں اس کے بعد آپ کو ایک پروگرام اپلائی کرنا پڑے گا جو گوگل کا ایک پروگرام ہے، گوگل ایڈ سینس۔ مختصراً یہ کہ آپ نے ایڈ سینس اپلائی کرنا ہے۔

جب آپ اپنے پلیٹ فارم پر مواد ڈالنا شروع کریں گے تو ایک خاص وقت کے بعد آپ کی ویب سائٹ پر ایک خاص حد تک جب کچھ سو یا کچھ ہزار لوگ آنا شروع ہو جائیں گے۔ تو آپ گوگل ڈاٹ کام کے ایڈسینس پر جا کر اپلائی کر سکتے ہیں۔ اور یوں آپ کو اپنی ٹریفک کے مطابق آپ کو معاوضہ ملنا شروع ہو جائے گا۔

یوٹیوب پر ایڈورٹائزر پیسے دیتے ہیں، جن میں وہ ویڈیوز پر اشتہارات دیتے ہیں۔ اور 45 فیصد یوٹیوب والے رکھتے ہیں، اور 55 فیصد ویڈیو بنانے والے کو دیتے ہیں۔

آن لائن

ای کامرس سے آپ کو بغیر کسی دکان، فیکٹری یا اس قسم کے کاروباری ڈھانچہ بنائے بغیر آن لائن اشیاء کی خرید و فروخت کا موقع ملتا ہے

لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟

یہ سوال ہم نے بدر خوشنود سے پوچھا جنھوں نے فوراً ہی کہا ’ملین ڈالر سوال ہے یہ ویسے۔‘

بدر نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’اس کا سب سے آسان اور سائنٹیفک طریقہ یہ ہے کہ گوگل کے کچھ مفت اور تھرڈ پارٹی ٹولز ہیں جو آپ استعمال کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر گوگل ٹرینڈز ایک ٹول ہے۔ وہاں جا کر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ دنیا میں کیا چیز مانگ رہے ہیں، کیا چیز ڈھونڈ رہے ہیں۔‘

لیکن یہ سب تحقیق بدر کی مطابق ’آپ کو چھ مہینے پہلے کرنی ہو گی۔ اور اس کے مطابق مواد ابھی سے بنانا ہے تا کہ آپ سرچ انجنز کی درجہ بندی میں آ جائیں۔ جب رزلٹ پیجز میں آئیں گے تو آپ کے پاس خود بخود ٹریفک آئے گی۔‘

بدر نے تاکید سے کہا کہ ’مواد کیا بنانا ہے یا کیا نہیں یہ سب سائنٹیفک بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ مفروضوں یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر۔ سائنٹیفک ڈیٹا ہے جو آپ کو بتائے گا کہ لوگ کیا پڑھ رہے ہیں اور سرچ کر رہے ہیں۔ اس کے مطابق اگر آپ مواد بنائیں گے تو آپ کی کامیابی کا راستہ کم ہو جاتا ہے۔‘

کتنے پیسے ملتے ہیں؟

اس کا اندازہ پیش کرتے ہوئے بدر نے بتایا کہ ’دس لاکھ ویوز پر آپ سو ڈالرز سے لے کر ہزار ڈالرز تک کما سکتے ہیں۔‘ اور یہ کمائی ایک بار نہیں ہوتی کیونکہ لوگ سالوں تک ان ویڈیوز کو دیکھتے رہتے ہیں۔

جب ہم نے یہی سوال مبشر صدیق سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ’الحمد اللہ میری جو ماہانہ کمائی ہے، ہر مہینے اوسطاً تین لاکھ ہے۔ تین لاکھ سے کبھی پچیس ہزار اوپر ہو جاتی ہے، کبھی پچیس ہزار نیچے ہو جاتی ہے۔‘

ٹاپ ٹپس

ہم نے بدر خوشنود اور مبشر صدیق دونوں سے پوچھا کہ وہ ہمارے قارئین کو بہترین ٹپس کیا دیں گے تو ان کی ٹپس کچھ ہوں ہیں۔

آن لائن

بدر خوشنود

ڈیجیٹل تعلیم کے لیے ’یوٹیوب ایک بہت بڑا وسیلہ ہے۔ مفت مواد ہے، بہت سارا مواد ہے۔ ہم نے ان معلومات کو علم اور علم کو حکمت میں بدلنا ہے۔ مگر ہم نے یہ خود کرنا ہے۔ اس لیے وقت ضائع کرنے کی بجائے اگر ہم معلومات کو علم اور علم کو حکمت میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو میرے خیال میں ہم نا صرف خود سیکھ سکتے ہیں۔ بلکہ آنے والی نئی نسل کو بہت کچھ سکھا سکتے ہیں۔‘

آن لائن

مبشر صدیق

مبشر کہتے ہیں کہ ’شروع کے چھ مہینے میں ویڈیوز کے بالکل بھی ویوز نہیں ہوتے تھے۔ دن میں دو، چار، دس ویوز۔ صرف بیس پچیس ویوز تک جا کر ویڈیوز رک جاتی تھی۔ لیکن جیسے ہی دو چار ویڈیوز وائرل ہوئیں، الحمداللہ ساری ویڈیوز کے ویوز آنا شروع ہوگئے۔‘

اور سیکھنے کے اہمیت کی بارے میں کہتے ہیں ’جب تک زندگی ہے آپ کی، تب تک آپ سیکھتے ہیں۔ سیکھنا نا چھوڑیں، غلطیوں سے سیکھیں۔ آنے والی ہر ویڈیو کو، آنے والے ہر دن کو پہلے دن سے بہتر بناتے جائیں۔ تو انشااللہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *