’یہ ٹیم پاکستان کے لیے نہیں کھیل رہی‘

ورلڈ کپ کی ’تیاری‘، اور ورلڈ کپ سے پہلے ’آرام‘ دونوں خاصی پرپیچ اصطلاحات ہیں۔ کارپوریٹ دور میں الفاظ، تراکیب ایسی خوبصورتی سے بُنے جاتے ہیں کہ مفہوم سمجھ میں نہ بھی آئے، سننے میں بہت بھلے لگتے ہیں۔

کیونکہ اگر مفہوم سمجھا جائے تو سادہ سی بات یہ ہے کہ دو ماہ بعد ایک ورلڈ کپ ہونا ہے جس کے لیے پاکستان کو ایک ٹیم تیار کرنا ہے۔ اس ٹیم کو اتنا اچھا ہونا چاہیے کہ وہ ورلڈ کپ جیت سکے۔

لیکن، اس ’اچھی ٹیم‘ کی تیاری کے لیے پاکستان نے پرانی ٹیم اور پرانے کپتان کو ’آرام‘ دے کر ایک نئے کپتان کے زیرِ سایہ ایک ’نئی‘ ٹیم میدان میں اتاری ہے۔ یہ نئی ٹیم بہت پرعزم ہے اور اس کا کپتان بھی بلا کا ذہین۔ یہ جیتنا بھی چاہتے ہیں۔ مگر جیت نہیں پاتے۔

شعیب ملک نے پچھلے میچ میں بھی اپنی بیٹنگ لائن پہ اعتماد نہ کیا، اس میچ میں بھی نہ کر پائے۔ حالانکہ کل کی وکٹ دو روز پہلے کی وکٹ سے زیادہ اچھی تھی۔ یہاں دوسری اننگز کی بیٹنگ پہلے میچ سے بھی زیادہ آسان ہونا تھی۔

جو بیٹنگ آرڈر اس ٹیم کو میسر ہے، اس کے عزم میں کوئی شک نہیں۔ بس، صرف ایک خوف کا سایہ سا ہے جو سبھی کے سر پہ منڈلا رہا ہے۔ امام الحق اور شان مسعود جب اکٹھے اوپن کرنے آتے ہیں تو امام الحق کے مزاج میں پہلے کا سا ٹھہراو کیوں نہیں ہوتا؟

اس ڈریسنگ روم پہ یہ ایسا وقت طاری ہے جہاں ہر کوئی اپنی حیثیت کا جواز دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے کوئی بھی پریشان نہیں ہے مگر سبھی درونِ خانہ بہت پریشان ہیں۔ کیونکہ اس وقت سوال ایک میچ یا ایک سیریز کا نہیں ہے، سوال کہیں بڑا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ورلڈ کپ کی ٹیم میں کون کون ہو گا؟ مگر خوف اس قدر حاوی ہے کہ یہ سوال بھی پلٹ چکا ہے۔ یہاں سب یہی سوچ رہے ہیں کہ کون کون ورلڈ کپ کی ٹیم میں ’نہیں ہو گا۔‘۔یعنی جون ایلیا کے الفاظ میں،

اب نہیں کوئی بات خطرے کی

اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

محمد رضوان نے اپنی سنچری 114 گیندوں میں مکمل کی

محمد رضوان نے اپنی سنچری 114 گیندوں میں مکمل کی

جب شعیب ملک جنوبی افریقہ کے دورے پہ پہلی بار قیادت کے لیے میدان میں اترے تھے تو اس روز ان کی قائدانہ صلاحیتیں عروج پہ تھیں۔ پاکستان بھاری مارجن سے جیتا۔ لیکن جونہی اعلان ہوا کہ باقی ماندہ میچز میں بھی قیادت انہی کو کرنا ہے، تب سے وہ قائدانہ صلاحیتیں کسی گمنام بوجھ تلے دبنا شروع ہو گئیں۔

شعیب ملک کا کپتانی کا سابقہ ریکارڈ دیکھا جائے تو وہ بہت اچھے ’کرکٹنگ برین‘ نظر آتے ہیں۔ مگر اس وقت شاید قُویٰ مضمحل ہو چکے ہیں کہ عناصر میں وہ پہلے کا سا اعتدال باقی نہیں رہا۔

جب کسی ٹیم کی 'سینچریاں' ضائع ہونے لگیں تو اسے اپنی وضع قطع پہ نظر ثانی کرنا چاہیے۔ پچھلے میچ میں حارث سہیل کی اننگز رائیگاں گئی۔ اس میچ میں محمد رضوان کی سینچری بے سود ثابت ہوئی۔ آخر کیوں؟

شاید اس لیے کہ پہلے بیٹنگ کے اعتبار سے ان دونوں اننگز کی رفتار ماڈرن کرکٹ کے مطابق نہیں تھی۔ اسی وکٹ پہ اتنی ہی گیندیں ایلکس ہیلز جیسے پلئیر کو کھلا کر دیکھ لیجیے کہ ماڈرن کرکٹ کی رفتار کیا ہے۔

دوسری جانب بولنگ یونٹ ہے تو اس پہ ایسا اضمحلال طاری ہے کہ کسی ایک بولر کو بھی یہ یقین نہیں، وہ اگلا میچ کھیلے گا یا نہیں۔ اس پہ طُرہ یہ کہ سکور بورڈ پہ کوئی ایسا خوش شکل ٹوٹل بھی موجود نہیں کہ جس کے دفاع میں تحمل سے کام لیا جا سکے۔

اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹیم پاکستان کے لیے نہیں کھیل رہی۔

یہ ٹیم صرف ’ورلڈ کپ کی ٹیم‘ میں جگہ بنانے کے لیے کھیل رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *