سادگی اور تعلیم

" فیصل باری "

مالیاتی اور غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس کے خسارے   مائکرواکنامک صورتحال کو غیر مستحکم کر رہے  تھے ۔ اقتصادی استحکام حاصل کرنے کے لیے حکومت  دونوں خساروں کو کم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی اور درآمدات پر ڈیوٹی میں  تبدیلیاں کرنسی کے معاملے میں اہم اقدامات  کی علامت ہوتے ہیں۔  آمدنی کو بڑھانے کے لیے اضافی ٹیکسیشن اقدامات کیے جاتے رہے ہیں اور اخراجات کو کم کرنے کے لیے  سادگی مہم شروع کی گئی ہے۔ معیشت نے  کچھ حد تک مثبت رد عمل دکھایا ہے  اور تجارت اور مالیاتی خسارہ کے بیچ فاصلہ کم ہوا ہے ۔ اگر یہ اقدامات نہ اٹھائے جاتے تو شاید یہ فاصلہ بھی کم نہ ہو پاتا۔

درآمدات اور اخراجات  میں کمی سے گروتھ ریٹ  کی رفتار  سست ہو جائے گی۔ ۔ اس کا مطلب ہے  کہ کم نوکریاں نکلیں گی اور  کم آمدنی کا مسئلہ تمام عوام کو متاثر کرے گا۔ اخراجات  میں  کمی زیادہ تر ڈویلپمنٹ اخراجات پر اثر انداز ہوئی ہے۔ترقیاتی  اخراجات وہاں ہوتے ہیں جہاں حکومت کو پورا اختیار ہوتا ہے  اس لیے ترقیاتی منصوبوں سے ہی رقم کم کی گئ ہے۔ لیکن ڈویلپمنٹ کے اخراجات براہ راست پیداوار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ترقیاتی کاموں کے اخراجات  میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر کمی آئی ہے۔ فیڈریشن نے صوبوں سے اپنے بجٹ کو سر پلس میں چلانے کا کہا ہے ۔ کچھ صوبوں نے اس پر تعمیل بھی کی ہے خاص طور پر ان صوبوں نے جن کو اپنے ڈویلپمنٹ اخراجات میں کافی کمی کرنی تھی۔ بعض کیسز  میں صوبوں کے پاس موجودہ پروگرام چلانے کے لیے بھی پیسہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب نے تعلیم میں نجی اور سرکاری پارٹنر شپ کی توسیع کو بھی روک دیا ہے اور ان پروگراموں کے لیے پیسہ دینے میں مشکل کا سامنا ہے جو پہلے سے شروع کیے جا چکے تھے۔

یہ سادگی مہم    دو سال سے زیادہ تک جاری نہیں رکھی جا سکتی۔ پاکستان کو اخراجات کو بڑھانے کے قابل ہونے اور درآمدات کو کھولنے کے لیے ہمیں معیشت میں تعمیری تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ سٹیبلائزیشن تعمیری تبدیلی کی ضمانت نہیں ہے۔ اگر برآمدات اور ٹیکس جمع ہونا شروع نہیں ہوتے، حکومت کے پاس اخراجات بڑھانے کے لیے  مالی حالات  سازگار نہیں ہوں گے۔  اور برآمدات اور ٹیکس ادائیگی اگلے ایک دو سال تک نہیں بڑھ سکتی۔  اس لیے اگلے ایک دو سال تک سادگی مہم پر عمل لازمی جاری رکھنا ہو گا۔

صوبے اور زیادہ چوٹیں محسوس کرنے جا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اگلے نیشنل فائنانس کمیشن اوارڈ میں صوبوں کے حصے کو کم کرنے کی راہیں تلاش کر رہی ہے۔ سابق فاٹا کی طرح صوبائی حصص میں سے بھی منظوریاں ہونے والی ہیں۔ اگر این ایف سی فارمولہ میں آبادی کی شرح کم کی جاتی ہے تو پنجاب کے حصہ میں کمی آ سکتی ہے۔ کسی صوبے کے پاس مقامی ٹیکس بیس نہیں ہے اور وہ سب  وفاق سے ہی پیسہ کی آمد کے منتظر رہتے ہیں ۔

ہمارے ملک میں 20 ملین  کے لگ بھگ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ زیادہ تر نجی اور سرکاروں سکولوں میں تعلیم کے معیار میں واضح بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ مزید پیسے کے بغیر یہ کیسے ممکن ہے؟

حکومت نے سب کے لیے مساوی مواقع کا وعدہ کیا ہے، اور تعلیم اس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ کئی بیانات کے ذریعے حکومت نے کہا ہے کہ وہ سب کے لیے ایک جیسی تعلیم چاہتے ہیں۔ سادگی مہم کے دوران یہ کیسے ممکن ہو گا؟

میں اصل گمراہ کن دلائل کو مسترد کرنا چاہتا ہوں جو پاکستان کے کچھ ماہرین کی طرف سے دے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں تعلیم پر مزیدہ پیسہ لگانے کی ضرورت نہیں بلکہ زیادہ سمجھ بوجھ کے ساتھ خرچ کرنے کی ضرورت ہے، اور اس سے ہمیں ضروری فوائد حاصل ہوں گے۔ کوئی شک نہیں کہ اخراجات کی سمجھ بوجھ، جو بھی شعبہ ہو، پاکستان میں کم ہے اور بہتری کی متقاضی ہے، لیکن اگر ایک قوم تعلیم پر صرف 2 سے اڑھائی فیصد جی ڈی پی خرچ کرتی ہے تو  یہ جہاں اور جیسے مرضی خرچ کر لو،  یہ 207ملین  آبادی کی  تعلیم  کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔

اگر 20 ملین بچے سکول نہیں جا رہے، تو ان میں زیادہ تر وہ ہیں جن کے والدین انہیں نجی سکولوں میں بھیجنے کی گنجائش نہیں رکھتے۔ مزید سکولوں کے بغیر ان بچوں کو کیسے تعلیم دلوائی جا سکتی ہے؟ کتنے بچوں کو آپ موجودہ سکولوں اور کلاسز میں فٹ کر سکتے ہیں جب آپ کے موجودہ پرائمری سکولوں میں صرف 2 سے 4 کلاس رومز ہیں؟

رحیم یار خان میں 2200 سرکاری پرائمری سکول اور صرف 222 ہائی سکول ہیں۔ راجن پور میں 989 پرائمری سکول اور صرف 69 ہائی سکول ہیں۔ بھکر میں یہ تعداد بالترتیب 1027 اور 114 ہے، اور راولپنڈی میں 1198 اور 388 ہے۔ جب حکومت کا مقصد ہر بچے کو ہائی سکول  تک تعلیم دلوانا ہے، ہم ان بچوں کا بندوبست کیسے کریں گے جو پرائمری سکول جاتے ہیں اگر ہم مزید ہائی سکول نہیں بناتے؟ کیا 2200 پرائمری سکولوں کے بچے 222 ہائی سکولوں میں سما سکتے ہیں؟ اور ہم بچوں کو سفری سہولت بھی فراہم نہیں کرتے۔

بے شمار اعدادو شمار   سے ہمارے سکولوں میں کمزور تعلیمی  معیار  کی قلعی کھلتی ہے۔ شاید اس میں تھوڑی بہتری آر ہی ہے لیکن   جس سطح پر اس عمر کے  بچے کو ہونا چاہیے یا دوسرے ممالک کے اس عمر کے  بچے ہوتے ہیں اس کے مقابلے میں یہ بہت کم ہے۔ کوئی بغیر وسائل کے تعلیم کے معیار کو کیسے بہتر کر سکتا ہے؟ ہم تعلیم کے نظام میں مانیٹرنگ کے نظام کو متعارف کرواتے ہوئے بہت سے فوائد پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں۔ اساتذہ کی حاضری بھی بڑھی ہے۔ اب سیکھنے کے فوائد  کے حصول کے لیے  لازمی ہے کہ اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جائے، اور ان کی تربیت   کے لیے سکول کے آس پاس  لرننگ کمیونٹیز قائم کی جائیں۔

مزید فنڈز کے بغیر ہم یہ سب کیسے کر سکتے ہیں؟  وسائل کی دستیابی کے بغیر  اس قدر بڑۓ پیمانے پر تبدیلیاں کسی بھی صورت ممکن نہیں ہیں  (پورے پاکستان میں 100000 سے زائد  سرکاری سکول  موجود ہیں)۔

جب تک مزید وسائل مہیا نہیں ہوتے، یہ دیکھنا مشکل ہے کہ حکومت کیسے تعلیم کے بارے میں کیے گئے وعدے کو پورا کرتی ہے۔ اور یقینی طور پر یہ وسائل آئندہ ایک دو  سال تک مہیا نہیں ہونے والے۔ اگر ہماری برآمدات  میں اضافہ نہیں ہوتا اور اگر وفاق اور صوبوں کو ٹیکسنگ اور ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کی کوئی راہ نہیں ملتی تو اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ''تعلیم سب کے لیے''اور قومی اور بین الاقوامی معائدے کافی عرصہ تک نہ پورے ہونے والے وعدے ہی رہیں گے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *