شان نے سوشل میڈیا پر عاصم اظہر اور ہانیہ عامر کی دوستی پر نئی بحث چھیڑ دی

کراچی: اداکار شان شاہد نے اداکارہ ہانیہ عامر اورگلوکار عاصم اظہر کی دوستی پر تنقید کرتے ہوئے نئی بحث چھیڑ دی۔

اداکار شان ان دنوں سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ ہی سرگرم ہیں اور  کسی بھی معاملے پر ٹوئٹ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے۔ حال ہی میں انہوں نے اداکارہ ہانیہ عامر اور عاصم اظہر سے متعلق ٹوئٹ کرکے دوسروں کو خود پر تنقید کرنے کا موقع دے دیا۔

ہانیہ عامر اور گلوکار عاصم اظہر کی بڑھتی دوستی اور قربتوں سے  متعلق چہ مگوئیاں فیشن پاکستان ویک کے دوران شروع ہوئی تھیں بعد ازاں بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے عاصم اظہر نے اپنے اورہانیہ کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سوال پر میرا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا ہے مجھے ایسا لگتا ہے ہانیہ وہ انسان ہے جو میری زندگی میں بہت سی مثبت چیزیں لے کر آئیں۔

تاہم اور کسی کو عاصم کا ہانیہ سے متعلق بات کرنا برا لگا ہو یا نہ ہو اداکار شان کوعاصم کا ہانیہ کے بارے میں بات کرنا بالکل پسند نہیں آیا اور انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے عاصم اظہر کو اپنے اور ہانیہ کےرشتے کے احترام کا درس دیتے ہوئے کہا ’’عزت کی تلاش کرو، توجہ کی نہیں کیونکہ عزت زیادہ دیرتک قائم رہنے والی چیز ہے۔‘‘

سوشل میڈیا صارفین کو اداکار شان کا ہانیہ عامر اور عاصم اظہر کے نجی معاملے میں مداخلت کرنا بالکل پسند نہیں آیا  اور انہوں نے شان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا شان کیوں آپ لولی ووڈ کی ’’پھپھو‘‘ بننے کی کوشش کررہے ہیں، کیا آپ اپنے کیریئر کا اختتام ہوتا دیکھ کر خوفزدہ ہیں اور ہر معاملے میں اپنی ٹانگ اڑاکر میڈیا میں بنے رہنے کی کوشش کررہے ہیں؟

جب کہ ایک اور صارف نے شان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا بہتر ہے آپ عزت  تلاش کریں توجہ نہیں، کیونکہ آپ ہانیہ اور عاصم کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب کہ ایک اور صارف نے بھی شان سے یہی سوال کیا۔

اداکار شان بھی کہاں چپ رہنے والے تھے انہوں نے  جواب دیتے ہوئے کہا ’’میرے بھائی مجھے توجہ حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ اپنے رشتے سے متعلق عوامی فورم پر بات کرنا صحیح نہیں ہے، جس سے آپ محبت کرتے ہیں پہلے اس کی عزت کریں، بس یہی کہنا چاہتا تھا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *