پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کی کامیابی سے تباہی کی داستان!

’’پی کے ایل آئی میں جو کچھ ہوا وہ تحقیق کیلئے کافی مواد فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کیوں ملائیشیا، ترکی، کوریا، جاپان اور جرمنی جیسے ملکوں کی طرح کامیاب نہیں ہو سکا حالانکہ ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لوگ موجود ہیں۔‘‘ یہ وہ الفاظ ہیں جو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے میڈیکل ڈائریکٹر اور چیف آپریٹنگ افسر (سی او او) ڈاکٹر عامر یار خان نے ملازمت چھوڑتے ہوئے اپنے بیان میں وجہ بتاتے ہوئے کہے ہیں۔ پاکستان میں حالات کے حوالے سے ڈاکٹر عامر نے اپنی فیس بک کی پوسٹ میں لکھا ہے کہ چھوٹے لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں، یہی پاکستان کا المیہ ہے۔‘‘ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ، جسے کسی دور میں امید کی کرن سمجھا جا رہا تھا، اب مایوس کن ادارہ بن چکا ہے جس کی ابتدائی وجہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس اور اس کے بعد پنجاب حکومت کے متنازع اقدامات ہیں۔ ڈاکٹر عامر اُن کئی غیر ملکی سند یافتہ ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جو امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں اپنی پُر کشش ملازمتیں چھوڑ کر ڈاکٹر سعید اختر کی ٹیم میں شامل ہو کر پی کے ایل آئی میں ملازمت اختیار کرنے کیلئے پاکستان آئے تاکہ غریب اور مستحق افراد کو گردے اور جگر کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے، انہیں ٹرانسپلانٹ کی سہولت دی جا سکے اور ساتھ ہی 2030ء تک ملک سے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خاتمے کا مقصد بھی حاصل کیا جا سکے۔ لیکن عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر سعید کے ساتھ کیے جانے والے سلوک اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے از خود نوٹس اور پنجاب حکومت کے اقدامات کی وجہ سے پی کے ایل آئی کو ہونے والے نقصان نے ان ڈاکٹروں کو نہ صرف ادارہ بلکہ ملک چھوڑنے کی حد تک مایوس کر دیا ہے۔ ڈاکٹر عامر کو ڈاکٹر سعید لائے تھے۔ وہ امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا کی یونیورسٹی میں ڈویژن آف ہیلتھ سائنسز کے اسکول آف میڈیسن میں کلینکل ایسوسی ایٹ پروفیسر تھے۔ وہ امریکی ریاست شمالی ڈکوٹا کے شہر بسمارک میں قائم سینٹ الیکسیئس میڈیکل سینٹر اور امریکی ریاست الینوائے کے شہر بلومنگٹن کے برومین ریجنل میڈیکل سینٹر میں ڈائریکٹر آف ہاسپٹل میڈیسن بھی رہ چکے ہیں۔ پی کے ایل آئی چھوڑ کر جانے والے دیگر ڈاکٹرز میں ڈاکٹر بشیر اظہر بھی شامل ہیں جو امریکی سے تربیت یافتہ زبردست یورولوجسٹ ہیں اور وہ کینسر کی پیچیدہ سرجری بھی کرتے ہیں۔ اس کے بعد احمد عواب ہیں جو امریکا کے انتہائی نگہداشت کے ماہر ہیں۔ وہ بھی از خود نوٹس کی وجہ سے اور سابق چیف جسٹس کے حکم پر کام کرنے والے فارنسک آڈیٹر کے رویے سے شدید دلبرداشتہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد ڈاکٹر شاہ گل ہیں جو امریکا سے تربیت یافتہ ہیں اور وہ پی کے ایل آئی کی پیتھالوجی لیبارٹری کی ڈائریکٹر تھیں۔ انہوں نے دل و جان سے شاندار اور جدید لیبارٹری بنائی۔ ماہر امراض اطفال (چائلڈ اسپیشلسٹ) ڈاکٹر مظہر بٹ ہیں جو سعودی عرب سے پی کے ایل آئی میں ملازمت کیلئے آئے تھے، ڈاکٹر نعمان ظفر سینئر یورولوجسٹ تھے جو روبوٹک اور لیپرو اسکوپک سرجن تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں کے لوگوں کو انتہائی جدید تکنیک سکھائی جائے تاکہ کینسر جیسے امراض کی سرجری کی جا سکے، لیکن اب وہ برطانیہ واپس جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرئوف مظہر تھے جو امریکا سے تربیت یافتہ ماہر امراض گردہ (نیفرو لوجسٹ) تھے۔ انہوں نے محنت و لگن سے کام کیا، وہ اچھے ٹیچر بھی تھے لیکن انہوں نے بھی استعفیٰ دیدیا۔ اگرچہ بہترین ساکھ کے حامل ڈاکٹر سعید اختر کے مستقبل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اگر پی کے ایل آئی کو اپنے اصل مشن کیلئے بحال نہ کیا گیا تو ان کی اہلیہ ڈاکٹر معصومہ سعید بھی چھوڑ جائیں گی۔ ڈاکٹر معصومہ نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر لبک میں قائم ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی ہیلتھ سائنسز سینٹر سے اینستھیسیا (مریض کو بے ہوش کرنا) اور پین مینجمنٹ میں تربیت حاصل کی۔ انہوں نے اینستھیسیا کے ہر پہلو کے متعلق تربیت حاصل کی اور ان کی خصوصی دلچسپی ٹرانسپلانٹ اینستھیسیا اور بڑے کینسر کی سرجری کیلئے کیا جانے والا اینستھیسیا ہے۔ وہ گردے کے ٹرانسپلانٹ اور کینسر کی سرجری کرانے والے ایک ہزار سے زائد افراد کو اینستھیسیا دے چکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سات دیگر ڈاکٹرز بھی استعفیٰ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق، 28؍ روز سے کسی چیک پر دستخط نہیں ہو سکے کیونکہ پی کے ایل آئی میں کوئی چیف ایگزیکٹو افسر نہیں ہے۔ پی کے ایل آئی کے ذریعے پنجاب حکومت کی بے حسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک ایسے چلتے ہوئے اسپتال کو ایک ماہ کیلئے بغیر چیف ایگزیٹو افسر کے کیسے چھوڑا جا سکتا ہے جہاں جگر اور گردے کے ٹرانسپلانٹ جیسی خدمات فراہم کی جا رہی ہوں۔‘‘ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا اور کہا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر سعید اور پی کے ایل آئی کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک حکومت اُن کوششوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا جس کے تحت غیر ممالک میں کام کرنے والے بہترین پاکستانیوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان آئیں اور وطن کی خدمت کریں۔ ڈاکٹر عامر یار خان جامع انداز سے بتاتے ہیں کہ پی کے ایل آئی کے ساتھ کیا ہوا اور کس طرح پی کے ایل آئی کو ایک خوابوں کی تعبیر کے مطابق بین الاقوامی ساکھ کا حامل ادارہ بنانے کا معاملہ ایک بھیانک خواب بن کر رہ گیا۔ ڈاکٹر عامر کے نوٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں نے گزشتہ ماہ پی کے ایل آئی سے استعفیٰ دیا (خط منسلک ہے) کیونکہ تمام تر کوششوں کے باوجود پنجاب کابینہ نے پی کے ایل آئی ایکٹ 2019ء منظور کیا۔ اس قانون کی وجہ سے ہماری خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور کسی بھی جدید ادارے کو موثر انداز میں چلانے کیلئے یہی خودمختاری پیشگی شرط ہوتی ہے، اس ادارے کو ہم نے پاکستان کا ہارورڈ جیسا ادارہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن اب اس پر بھی کیا بات کی جائے۔ میں نے یہ پوسٹ مجھے آنے ولای درجنوں فون کالز سے بچنے کیلئے، کسی بھی طرح کے ابہام و افواہوں سے بچنے کیلئے اور ساتھ ہی ہر مرتبہ ایک ہی بات مختلف لوگوں پر واضح کرنے سے بچنے کیلئے ڈالی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کی جانے والی قابل احترام ایڈہاک مینجمنٹ کمیٹی کی وجہ سے میں کچھ عرصہ تک اپنے عہدے پر کام کیلئے قائل رہا کیونکہ کام چل رہا تھا اسلئے میں نے اپنے استعفے کا فیصلہ اُن کے احترام میں موخر کر دیا، تاہم، ان کے جانے کے بعد مجھ پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ سپریم کورٹ کے نئے بینچ نے نہ صرف ہمارے خلاف از خود نوٹس ختم کیا بلکہ ایڈہاک کمیٹی کو بھیا ختم کر دیا۔ پی کے ایل آئی میں جو کچھ ہوا وہ تحقیق کیلئے کافی مواد فراہم کرتا ہے کہ پاکستان کیوں ملائیشیا، ترکی، کوریا، جاپان اور جرمنی جیسے ملکوں کی طرح کامیاب نہیں ہو سکا حالانکہ ہر شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے لوگ موجود ہیں۔ پی کے ایل آئی ایکٹ 2019ء نے ادارے کا تمام کنٹرول اٹھا کر حد سے زیادہ بڑی بیورکریسی کے حوالے کر دیا ہے جسے پتہ ہی نہیں کہ جدید اسپتال کو کیسے چلایا جاتا ہے، اس کے علاوہ ساری ذمہ داری ایک ایسے ایگزیکٹو کے سپرد کر دی گئی ہے جسے اتنا اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ کارکردگی دکھا سکے۔ جو لوگ پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل ہیں اور کام کرنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں؛ وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ بڑے عہدوں پر چھوٹ لوگ بیٹھ گئے ہیں۔‘‘ ایک اور بات یہ ہے کہ صرف باہر سے آنے والے مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے ساتھ کام کرنے والے پی کے ایل آئی کے آدھے ادھورے افتتاح کے تین ماہ بعد ہی تعصب زدہ چیف جسٹس پاکستان نے از خود نوٹس لے لیا کہ پی کے ایل آئی نے پیسے برباد کر دیے ہیں اور تاحال جگر کا ٹرانسپلانٹ (پیوندکاری) نہیں کر سکا۔ صرف یہی نہیں، چیف جسٹس نے نہ صرف عدالت میں ہماری توہین کی بلکہ دھمکیاں بھی دیں اور خصوصاً مجھے نام سے پکارتے ہوئے کہا کہ وہ مجھے جیل میں ڈالیں گے! یہ مضحکہ خیز باتیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ معاشرے کا ہر شعبہ اور ہر ادارہ سابق چیف جسٹس صاحب کی بولی بولنے لگا اور پی کے ایل آئی کو ایک ایسے بچہ سمجھا گیا جسے ہر شخص لات مارنے اور تضحیک کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ صرف عدالتوں نے ہی نہیں بلکہ میڈیا، حقیر، کمینے اور مشکوک سند یافتہ فارنسک آڈیٹر، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ، آڈیٹر جنرل کے آفس، نیب، ایف آئی اے کے دو افسران، پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن، مقامی اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں سمیت ہر شخص پی کے ایل آئی کیخلاف ہوگیا اور 11؍ مہینے تک ادارے کو لتاڑا جاتا رہا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کسی نے انصاف کی بات نہ کی۔ سب سے بڑا المیہ تو یہ تھا کہ جن لوگوں کو اس اذیت ناک معاملے کا علم تھا انہوں نے بھی خاموش رہنے پر اکتفا کیا۔ میں اپنی ٹیم کے ہر رکن کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ان تمام حالات کے باوجود جدوجہد جاری رکھی اور ادارے کو اس سطح پر لائے جہاں صرف اِسی مہینے ہم نے جگر کی پیوندکاری کے تین کامیاب آپریشن کیے۔ پی کے ایل آئی پر اچھالے جانے والے کیچڑ اور ہمیں مقدمہ بازی میں پھنسانے کے باوجود، مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ 6؍ سے 8؍ ماہ سے ہم صوبے میں انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) اور ڈائلاسس کی بہترین سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔ پی کے ایل آئی میں ایک ایسی واحد سرکاری او پی ڈی سروس ہے جہاں مختلف ماہرین امراض نہ صرف مریضوں کو دیکھتے ہیں بلکہ انہیں وہ ہر مریض کے حوالے سے جوابدہ بھی ہوتے ہیں۔ یہی وہ سرکاری ادارہ ہے جہاں آپ جگر اور گردے کے محفوظ ٹرانسپلانٹ (پیوندکاری) کی توقع کر سکتے ہیں۔ پی کے ایل آئی کے پاس بہترین ہیلتھ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس)، الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (ای ایم آر)، انفکشن پریونشن اینڈ کنٹرول(جراثیم سے بچائو اور تحفظ)، کوالٹی اشورنس (معیار کی ضمانت)، ویسٹ مینجمنٹ (فضلے کو ٹھکانے لگانے کا انتظام)، ہیپاٹائٹس الیمنیشن (یرقان کا خاتمہ) وغیرہ جیسی بہترین سہولتیں ہیں۔ یہی وہ سہولتیں ہیں جو پاکستان میں مناسب ہیلتھ کیئر کیلئے ضروری ہیں۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں اور ان سب کیلئے اور ان سے بڑھ کر بہت کچھ کیلئے پی کے ایل آئی میں کام کرنے والے افراد (پی کے ایل آئی فیملی) کو شاباشی دینا چاہئے۔ مجھے امید تھی کہ از خود نوٹس ختم ہونے کے بعد نئی حکومت (جو اب سابق چیف جسٹس سے آنے والے دبائو سے آزاد ہو چکی ہے) پی کے ایل آئی ایکٹ 2019ء کے قانون کو ختم کر دے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پی کے ایل آئی کی انتظامیہ نے حقیقی معنوں میں کسی نے آج تک رابطہ نہیں کیا کہ آخر کیا کچھ حاصل کیا جانا تھا، کیا منصوبہ بندی کی گئی تھی اور کیا کچھ دعوے کیے گئے تھے۔ ان لوگوں کے چہروں سے ہی نہیں بلکہ ہم سے بامعنی رابطہ کرنے میں ناکامی کے عمل سے بھی پی کے ایل آئی کیلئے توہین جھلکتی ہے۔ جب پی کے ایل آئی ایک آزاد ادارہ ہوا کرتا تھا، مجھے حکمرانوں میں سے کسی سے بھی ایسی کوئی فون کال نہیں آئی کہ اس کا علاج کر دیں، اُس کو ملازمت پر رکھ لیں، فلاں شخص کو پروموٹ کریں۔ لیکن پی کے ایل آئی ایکٹ 2019ء منظور ہونے اور حکومت کی جانب سے ادارے (جسے سرکاری ایجنسیوں نے اپنی غیر منصفانہ تحقیقات کے ذریعے اب تباہ کر دیا ہے) پر قبضہ کرنے کے دو ہفتے یا شاید اس سے بھی کم عرصہ بعد میرے پاس ایسی درخواستوں کی بھرمار ہے جنہیں میں نتائج سامنے آنے کے دبائو کے بغیر نظر انداز نہیں کر سکتا۔ کیا یہ ایسا ماحول ہے جس میں پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل افراد کام کر سکتے ہیں؟ حکومت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ پی کے ایل آئی شوکت خانم کی طرح آزاد ادارہ ہوگا۔ یہ کہہ کر کم از کم پاکستانیوں کو دوبارہ اُس طرح دھوکا دینے کی کوشش نہ کریں جیسے تمام سابقہ حکومتوں نے دیا ہے۔ پی کے ایل آئی ایکٹ 2019ء کو پڑھیں اور پھر برائے مہربانی بتائیں کہ اس میں لکھی باتیں قابل یقین ہیں! پی کے ایل آئی میری محبت اور میرا جذبہ رہا ہے۔ 2؍ سال تک میں نے خود کو اس ادارے کیلئے وقف کیے رکھا۔ اکثر اوقات میں نے اس ادارے کو ادارہ کو خاندان اور اپنی صحت پر ترجیح دی۔ بڑ؁ے ہی دکھ کی بات ہے کہ میں اب اس ادارے کو چھوڑ رہا ہوں اور مجھے شاید اس زہر کے اثر سے نکلنے میں 6؍ ہفتے کا وقت لگے گا۔ لیکن اب ہمیں اصولوں پر فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اب ذرا سی امید بھی باقی نہیں کہ ہم وہ کچھ حاصل کر پائیں گے جس کا ہم نے بیڑا اٹھایا تھا۔ میں اپنی دل کی گہرائیوں سے یہ دعا کرتا ہوں کہ عقل مندی کا مظاہرہ کیا جائے گا اور پی کے ایل آئی ترقی کرے گا۔ آمین۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *