تھر کے چاند کا تھال

مستنصر حسین تارڑMHT

جمیل، بار بار ایک غزال شب ہوا جاتا تھا، اپنی نشست سے اٹھتا اور احاطے سے باہر نکل کر صحرا میں گم ہو جاتا، شاید مجنوں کی مانند اپنی لیلیٰ عظمیٰ کو پکارتا اور پھر واپس آ کر زیر لب گنگنانے لگتا۔۔۔ اِک بار کہو تم میری ہو۔۔۔
وہ اپنی آوارہ خرامی صحرا نوروی سے لوٹتا تو میں پوچھتا۔۔۔ جمیل کہاں تھے۔۔۔
’’بس یہیں تھا سر۔۔۔‘‘
’’یہیں کہاں۔۔۔‘‘
’’بس یہیں‘‘
’’کہاں یہیں؟‘‘
’’بس یہیں یہیں سر۔۔۔‘‘
سر دار خان کھوسہ ایک ایسا شخص تھا جس کی آپ پرکھ نہیں کر سکتے، پہچان نہیں کر سکتے کہ وہ کون ہے، کیا سوچتا ہے اور اس لمحے وہ آپ کے ساتھ ہے تو واقعی آپ کے ساتھ ہے یا کہیں اور ہے۔ وہ تھر کے صحرا کی مانند اپنا بھید کسی پر ظاہر نہ کرتا تھا۔
وہ ہمیں، میری فرمائش پر مقامی آبادی کے مسائل اور حیات کی کٹھنائیوں کے بارے میں تفصیل سے تذکرہ کرتے تھے۔
میرے آباء و اجداد 1971ء کی جنگ کے بعد ننگر پارکر میں منتقل ہو گئے۔۔۔ یہاں کے لوگ جن میں سے بیشتر ہندو ہیں میری بہت تعظیم کرتے ہیں اور میں اُن کی ثقافت اور اُن کی عبادت کا دھیان رکھتا ہوں۔ یہ لوگ پاکستان کے وفادار ہیں لیکن باہر کے لوگ یہاں آ کر فساد پھیلاتے ہیں۔۔۔
’’اُن دو ہندو لڑکیوں کا کیا قصہ ہے جنہیں زبردستی دو مسلمان لڑکوں سے بیاہ دیا گیا تھا‘‘
’’یہ بھی محض فتنے اور فساد کی بات ہے اور عجیب بات ہے کہ وہ دونوں لڑکیاں پڑھی لکھی اور اچھے گھرانوں کی تھیں اور اُنہوں نے بہ رضا و رغبت نہایت ان پڑھ مسلمان گڈریوں سے بیاہ کر کے اسلام ’’قبول‘‘ کر لیا۔۔۔ میں ذاتی طور پر اُن لڑکیوں اور اُن گڈریوں کے گھروں میں گیا ہوں۔۔۔‘‘
’’آپ کا تجزیہ کیا ہے۔۔۔ کسی زبردستی کا عمل دخل تو نہیں تھا؟‘‘
’’تارڑ صاحب۔۔۔ بس فتنہ فساد کی باتیں ہیں۔۔۔ باہر سے آنے والوں کے کرشمے ہیں۔۔۔ آپ خود سمجھ والے ہیں‘‘۔
کھوسہ صاحب مہمان نوازی کے عادی مجرم تھے۔۔۔ اُن کے ہاں، ہم جیسے بن بلائے مہمان آتے ہی رہتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ اچھے موسموں میں نہیں آئے۔ اُن موسموں میں جب یکدم صحرا کا آسمان بادلوں سے سیاہ ہو جاتا ہے ، ہوائیں سرد ہونے لگتی ہیں اور بارشیں بے بہا برسنے لگتی ہیں تو تھر کی ریت یوں بھیگ کر سیراب ہوتی ہے کہ دو چار روز کے بعد اُس ریت کی کوکھ میں سے ہریاول کی کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، گھاس کی پتیاں ظاہر ہوتی ہیں اور عجب دل نشیں چھوٹے چھوٹے رنگ رنگ کے پھول کھلنے لگتے ہیں۔۔۔ اس ہریاول اور پھولوں کے انباروں میں سے ہی تتلیاں، بھنورے اور کیڑے مکوڑے جنم لیتے ہیں اور اس خاموش صحرا میں بھنبھناہٹ کی مترنم موسیقی بھنبھنانے لگتی ہے۔۔۔ یعنی وہ جو فیض نے کہا تھا کہ جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے تو یہ محض ایک شاعرانہ خیال نہ تھا، ایک حقیقت ہے۔ (جاری ہے)
ننگر پارکر کی اس صحرائی رات میں کھوسہ صاحب ہمیں بتا رہے تھے کہ تھر میں جب بارشیں اترتی ہیں تو اس کی ریت میں سے پھول پھوٹتے ہیں اور تب ۔۔۔ دور دراز کے شہروں کے لوگ اٹھ اٹھ کر آتے ہیں، تھر کا سفر اختیار کرتے ہیں۔۔۔
وہ اگرچہ بن بلائے مہمان ہوتے ہیں پر میں ان کی میزبانی بخوشی کرتا ہوں۔۔۔ تو ہم یہاں غلط موسموں میں آگئے تھے، ویسے ایسا کبھی نہ ہوا کہ میں کہیں اگر بلند پہاڑوں میں گیا یا کسی برف پوش جھیل کے کناروں پر اترا تو میں مناسب اور صحیح موسموں میں اترا۔۔۔
میں یا تو ہمیشہ دیر کردیتا تھا یا کچھ روز پہلے آجاتا تھا۔۔۔ کبھی کسی بلند پا میری چراگاہ کی سرخ چٹانوں کے دامن میں ایک مارخور کاشکاری جو زندگی میں پہلی مرتبہ گلگت گیا اور وہاں پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن دیکھا اور اس نے مجھے دیکھا تو وہ میری پہچان کرکے مجھے خبر کرتا ہے کہ صاحب۔۔۔ آپ کبھی ادھر خزاں کے موسموں میں آؤ۔۔۔ ہر جھاڑی میں آگ لگ جاتی ہے، چٹانوں میں سے پگھلتے برفوں کے جھرنے پھوٹنے لگتے ہیں، اور جنگلوں میں لمبی دموں والے رنگین پرندے اڑانیں کرتے، کبھی اس ڈالی پر اور کبھی اس ڈالی پر جا اترتے ہیں، تب میں کہا کرتا تھا کہ ہاں میں ان بلندیوں پر کبھی خزاں کے موسموں میں بھی آؤں گا، لیکن اب میرے پاس بہت سے موسموں کی گنجائش باقی نہ رہی تھی۔۔۔ بے شک تھر کے صحرا میں بارشیں اترنے کے بعد چپکے سے بہار آجائے۔۔۔ ریت میں سے پھوٹنے والی گھاس اور بوٹوں اور چھوٹے چھوٹے ان گنت رنگوں کے پھولوں پر ہزاروں بھنورے منڈلاتے پھریں، تتلیاں پھڑپھڑاتی رہیں لیکن میں نے اب دوبارہ نہیں آنا تھا، آنا تو چاہتا تھا پر دن بہ دن سکت اور گنجائش کم ہوتی جاتی تھی۔۔۔ پر اس کا کیا غم کہ دوبارہ آنانہ ہوگا، کم از کم ایک بار تو آگیا۔۔۔ کتنے لوگ ہیں جو ایک بار بھی تھر کی رات میں اس کی ریتلی وسعتوں کے درمیان ایک الاؤ کے گرد بیٹھے صحرا کی آوازوں پر کان دھرتے ہوں۔۔۔ اس لئے کچھ غم نہیں، میں تھر سے اور اپنی زندگی سے خوش تھا۔۔۔ اور جانتا تھا کہ یہ رات پھر نہ آئے گی۔۔۔
میرے قدموں میں جو ریت تھی وہ بھی الاؤ کی حدت سے ہلکے بخار سے پھنکنے لگی تھی۔۔۔
الاؤ میں بھڑکتی، سلگتی، شرارے چھوڑتی آتش پر اگر آپ تا دیر آنکھیں جمائے رکھیں یہاں تک کہ وہ بھڑک، سلگاہٹ اور شرارے ان پر نقش ہو جائیں تب آپ کی آنکھیں اس نتیجے پر پہنچتی تھیں کہ ۔۔۔ سب الاؤ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ (جاری ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *