’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں‘‘۔’’دنیا پاکستان‘‘ کا نیا سلسلہ

ایوانِ اقتدار ایک ایسی جادو نگری ہے جہاں صاحب اقتدار صرف خوشنما مناظر دیکھنا، اور خوش کن ’’نغمات‘‘ سننا چاہتا ہے۔ ایسے میں خوشامدیوں کی بن آتی ہے اور مفاد پرست اس کی آنکھیں اور کان بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ہم نے ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ان تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کی تحریروں کے اقتباسات کا سلسلہ جنہوں نے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے حوالے سے نہ صرف خود سنہرے خواب دیکھے بلکہ اپنے قارئین کو بھی یہ خواب دکھائے۔ یہ سلسلہ جناب وزیر اعظم کے لیے وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنی اور اپنی حکومت کی کارکردگی ملاحظہ فرما سکتے ہیں:(ادارہ)
عبدالقادر حسن ’’جومرضی سرکار کی‘‘:۔
جان لیوا تازہ خبریں یہ ہیں کہ پٹرول کے بعد بجلی بھی مہنگی کردی گئی ہے۔ اور بہت جلد گیس وغیرہ کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔ کار خانے بند ہیں، کاروبار میں مندا ہے۔نوکریاں نہیں ہیں ، بے روزگاری عام ہے۔ جائز ذرائع معاش مفقود ہوتے جارہے ہیں۔ دووقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہوتا جارہاہے اور زندگی کی بقا کا کوئی راستہ دکھائی نہ دینے کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں۔۔۔لیکن حکمرانوں کا دل گردہ ملاحظہ فرمائیے کہ اس مفلوک الحال قوم پر مزید مہنگائی مسلط کررہے ہیں۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک غریبی قابلِ برداشت حد تک تھی اور اس کو ختم کرنے کی امیدیں باقی تھیں۔ کار خانوں کی چمنیوں سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے رہاتھا کسی نہ کسی کو نوکریاں بھی مل جاتی تھیں۔ حکومت زراعت دشمن نہیں تھی۔ کاروبار بھی کچھ نہ کچھ چل رہے تھے۔ امید کی کچھ روشنیاں آنکھوں کے سامنے لہراجاتی تھیں، لیکن اب کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ گھپ اندھیرا۔ ۔۔ آخر یہ سب کیا مذاق ہے؟ پاکستان کے عوام نے عمران خان کو ووٹ دے کر کوئی جرم کردیا ہے کہ انہیں اس کی سزا دی جارہی ہے۔ جو ختم ہی نہیں ہورہی، بلکہ بڑھتی جارہی ہے۔ ہمارے حکمران اگر اپنے خیر خواہ ہیں تو وہ اسلام آباد کے محلات اور بنی گالا کی آسائش میں نہیں صرف لاہور شہر کے کسی بازار اور گلی کوچے میں جاکر اپنی آ نکھوں سے سب کچھ دیکھیں اور کانوں سے سب کچھ سنیں۔ ۔۔ورنہ ان کی جو مرضی ہو، وہ کریں۔ عوام کی جو مرضی ہوگی، وہ کریں گے۔ (روزنامہ ایکسپریس 8اپریل2019)
قیوم نظامی ’’گورننس کے تقاضے‘‘:۔
پشاور میٹرو کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی انسپیکشن ٹیم نے جو رپورٹ دی ہے ، وہ بڑی تشویشناک اور مایوس کن ہے کہ پشاور میٹرو کا منصوبہ بربادی اور افراتفری کی ایک داستان ہے۔۔۔انتخاب سے چند ماہ پہلے خیبر پختونخوا حکومت نے انتخابی اور سیاسی ضرورتوں کے تحت پشاور میٹرو بنانے کا فیصلہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے میں اربوں روپے کے کک بیکس وصول کئے گئے اور غیر معمولی تاخیر کی وجہ سے اس کی لاگت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عمران خان نے پارٹی لیڈر کی حیثیت سے اس منصوبے پر پوری توجہ نہ دی اور اسے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر چھوڑ دیا(جو آج کل پاکستان کے وزیر دفاع ہیں)یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہبازشریف بہتر ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوئے جنہوں نے لاہور میٹرو کو ایک سال کے اندر مکمل کر دکھایا اور ذاتی دلچسپی لیکر شب وروز محنت کرتے نظر آئے۔( نوائے وقت ۔6اپریل2019)
ناصر خان’’عمران خان تک‘‘:۔
عمران خان اس لوٹ مار کے صحرا میں عوام کی امید وں کا نخلستان تھا ۔ مگر اس کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اقتدار کی دیوی کو چھونے کی تمنا میں وہی چہرے، وہی ٹھگ، وہی آزمودہ لیٹرے، وہی وار داتیے پارٹی میں لے لیے جن پر شاعر نے کہاتھا ؂
مجھ سے سرگوشی کے لہجے میں بہاروں نے کہا
پھول جو دامن میں بھرلائے ہو، پتھر ہی نہ ہوں
جس معاشی بحران سے پاکستان دوچار ہے، کیا عمران خان اور ان کی ٹیم اپنے فیصلوں اور گورننس سے انہیں ہینڈل کرسکتی ہے؟ عمران کی ٹیم اور پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ اسد عمر کی ٹیم کو دیکھ کر امید کا اظہار نہیں کیا جاسکتا۔ ۔۔ مہلت محدود ہے۔ عالمی اداروں کا دباؤ خاصا شدید ہے۔ اگر یہ معاشی اور سیاسی بحران ختم نہیں ہوتا تو؟ تو شاہ محمود اور جہانگیر ترین کے اختلافات کی سیاہی اور بھی پھیل جائے گی۔(روزنامہ 92نیوز۔7اپریل 2019)
کنور دلشاد’’عمران خان اور پارٹی کے اندرونی مسائل‘‘:۔
تحریک انصاف کے اقتدار کے آغاز میں کرنسی کے بے وقت ہونے اور ڈالر کے اڑان بھرنے کی راہ ہموار ہوگئی ۔ جبکہ پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں ، بجلی، گیس اور پانی کے نرخوں میں بھی ماہانہ اضافہ معمول بنا لیا گیا ہے۔ پھر حکومت نے یکے بعد دیگر دومنی بجٹ پیش کرکے اور بعض نئے ٹیکسوں کا بوجھ بھی عوام پر ڈال دیا اور یہ سب کچھ خفیہ طور پر آ ئی ایم ا یف کے ساتھ قرض کے معاہدے کے مطابق ہوا۔ اس طرح کے اضافے ہوتے رہے تو عوام کی جانب سے انتہائی خوفناک ردِ عمل آسکتا ہے اور جون کے بعد حکومت اپنے اتحادیوں کی حمایت سے بھی محروم ہوسکتی ہے( روزنامہ دنیا۔ 7اپریل2019)
جاوید قاضی’’معاشی بیانیہ اور حقیقت‘‘:۔
جب کچھ نظرنہیں آتا تو ہم نے ایک اور لالی پاپ لوگوں کو دے دیا ہے کہ کراچی کے سمندر سے دنیا کے بہت بڑے تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہونے جارہے ہیں۔ اس سے پہلے ہم نے مرغی کے انڈوں پر لوگوں کو بہلائے رکھا۔ اس حکومت نے ان 9مہینوں میں جتنے قرض لیے ہیں، اتنے تو کسی نے نہیں لیے۔ اب آس لگائے بیٹھے ہیں، سعودی عرب اور چین کی مدد کے بعد کہ آئی ایم ایف اب آہی جائے اور ہمیں بچائے اور اسد عمر صاحب ہیں کہ اب بھی موسیقی کے سرور میں مگن ہیں، جس طرح جب روم جل رہاتھا اور نیروبانسری بجارہاتھا۔(روزنامہ ایکسپریس۔7اپریل2019)
ڈاکٹر مجاہدمنصوری’’معیشت کی زبوں حالی ‘‘:۔
موجودہ عمران حکومت بھی ٹیکس چوروں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ کیوں نہ آئے؟ اس نے کونسا اقتدار میں آنے سے پہلے کوئی ہوم ورک کیا ہوا تھا کہ کوئی قانون سازی کا ایڈوانس مسودہ، کوئی نئے تقاضے پورے کرتی۔ پالیسی، کوئی اچھوتا قومی پروگرام، کچھ بھی تو انتخاب جیتنے والی تحریکِ انصاف کی جھولی میں نہ تھا۔ کچھ تھا تو الیکٹ ایبلز کا ہجوم ۔۔۔ جو آج حکومت کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ ان کی اجتماعی نااہلی عیاں ہے۔(روزنامہ جنگ۔ 7اپریل 2019)
سعد یہ قریشی’’جو ایک دنیا بسائی تھی۔۔۔‘‘:۔
پی ٹی آئی حکومت کی عوام کی بنیادی ضروریات کی طرف بے حسی اس قدر زیادہ ہے کہ اب حکومت کے سپورٹر اس کے حق میں کلمۂ خیر کہنے کے لیے مناسب الفاظ کی تلاش کرتے رہ جاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ پی ٹی آ ئی کی حکومت نے اپنے اقتدار کا پہلے سال ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے سپورٹروں کی حمایت کھونا شروع کردی ہے اور احساسِ زیاں پھر بھی نہیں۔۔۔ اس حکومت سے عوامی امیدیں بے پناہ تھیں اور حال اب یہ ہے کہ تبدیے کے نعرے کا رومانس معدوم ہوچکا ہے۔ نئے پاکستان کے نعرے کا سحرٹوٹ چکا ہے۔ بجلی، پانی، پٹرول، گیس سب مہنگا،دوائیں پہنچ سے باہر، غریب جو سرکاری ہسپتال سے کچھ نہ کچھ مفت دوائیں لیتا تھا، اب وہ بھی دستیاب نہیں۔ دواؤں کی قیمت میں سوگنا اضافے پر متوسط طبقہ بھی چیخ اٹھا ہے۔ امیدیں دم توڑ رہی ہیں اور کپتان کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔
وہ جو ایک دنیا بسائی تھی تیرے نام پر، کوئی اور تھی
یہ جو حسرتِ دروبام ہے، یہ جو زر د رُو میری شام ہے،

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *