احتساب اور معاشیات

مکمل معاشی ناکامی کے بعد عمران حکومت اب کرپشن اور احتساب کے نعرے پر کھیل رھی ھے۔ تاکہ اس کے سپورٹرز اس کے ساتھ جڑے رھیں ۔ حالانکہ کرپشن اور احتساب تفتیشی ایجنسیوں اور عدالتوں کا کام ھے۔ تفتیشی ایجنسیاں مقدمے تیار کرتی ھیں اور عدالتیں فیصلے کرتی ھیں۔ حکومت کا ان دونوں کاموں سے کوئ لینا دینا نہیں۔ جب عمران خان یہ کہتا ھے۔ وہ زرداری اور نوازشریف کو نہیں چھوڑے گا۔ تو دراصل یہ اداروں اور عدالتوں کی ازادی اور خود مختاری میں مداخلت کے برابر ھے۔ جمرود میں جلسے سے خطاب کرتے ھوئے عمران خان نے پھر یہی نعرہ استمعال کیا۔ کہ وہ حکومت میں ائے ھی اس لیے ھیں تاکہ احتساب کر سکیں۔ یہ ایک دل کش اور پر کشش نعرہ تو ھو سکتا ھے۔ اور جیسا میں نے کہا۔ تحریک انصاف کے فالوورز اور ووٹرز کو یہ نعرہ بھاتا ھے۔ اور وہ اپنی پارٹی سے جڑے رھتے ھیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو نوازشریف سے نفرت کرتے ھیں ۔ انہیں اس سے کوئ غرض نہیں ملک کا کیا بنتا ھے۔ وہ ھر حال میں نوازشریف کو جیل میں دیکھنا چاھتے ھیں۔ لیکن یہ نعرہ کہ وہ حکومت میں احتساب کے لیے آئے ھیں۔ عمران خان کی بطور وزیراعظم دوسرے شعبوں میں ناکامی کا اعتراف ھے۔ حکومتی معاملات میں احتساب ایک جزو ھے۔ کل نہیں۔ اور اس کا اپنا ایک اداراجاتی نظام ھے۔ عمران خان کی خواہش پر نہ تو سزائیں مل سکتی ھیں۔ اور نہ تفتیشی ادارے اور عدالتیں سیاسی نعروں پر عملدرآمد کے لیے استعمال ھو سکتی ھیں ۔ لیکن جب ملک کا وزیراعظم یہ کہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو چھوڑے گا نہیں ۔ تو بدقسمتی سے یہ عندیہ ملتا ھے۔ کہ انصاف اور احتساب کا نظام وزیراعظم کی خواہش کے مطابق چلتا ھے۔ اور یہی وہ تصور ھے۔ جو اس ملک کے اکثریتی لوگوں کے ذھن میں راسخ ھو چکا ھے۔ کہ یہاں کا تفتیشی اور عدالتی نظام چند مخصوص طاقتور حلقوں کے مرھون منت کام کرتا ھے۔ اور اس یقین کی وجہ سے عام لوگوں کا وطن عزیز کے عدالتی نظام سے اعتبار اٹھ چکا ھے۔ تحریک انصاف یہ سلوگن لے کر آئ تھی۔ کہ وہ ملک کا تمام نظام تبدیل کر دے گی۔ لیکن بدقسمتی سے نظام بدتر حالت میں تبدیل ھو رھا ھے۔ احتساب کے علاوہ عمران حکومت جس دوسرے ڈھکوسلے پر بولتی ھے۔ وہ سابقہ حکومتوں کے قرضے لینے کے حوالے سے ھے۔ تحریک انصاف کی مختلف ویب سائٹس پر عجیب و غریب اعدادوشمار دیکھنے کو مل جاتے ھیں۔ کہیں 36 بلین ڈالر، کہیں 75 بلین ڈالرز اور کہیں کوئ دوسری فگر ملتی ھے۔ اور لکھا ھوتا ھے۔ یہ ھے وہ قرض جو ھمیں اگلے سال واپس کرنا ھے۔ اور دلچسپ بات یہ ھے۔ ان اعدادوشمار کی کوئ کریڈیبیلی نہیں ھوتی۔ کوئ ریفرنس نہیں ھوتا۔ بس پروپیگنڈے کی ایک شکل ھے۔ جس سے اپنے سپورٹرز اور فالوورز کو متاثر کیا جا رھا ھوتا ھے۔ لیکن کوئ ثبوت نہیں ھوتا۔ پھر پلی بارگین کا پروپیگنڈہ بھی چل رھا ھے۔ کبھی بتایا جاتا ھے۔ نوازشریف دس ارب ڈالر دینے کے لیے تیار ھو گئے ھیں ۔ کبھی پچیس ارب ڈالرز سننے کو ملتے ھیں۔ یوں یہ متاثر کن اور پر کشش جھوٹ چلتا رھتا ھے۔ اسی طرح ملک کی معاشیات کو لے کر تجارتی خسارہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور ادائیگیوں کے توازن کو باھم مکس اپ کر دیا جاتا ھے۔ اور مکمل کنفیوزن پیدا کر دی جاتی ھے۔ یہ سارے پروپیگنڈے اور جھوٹ نہ صرف اپنے سپورٹرز کو قائم رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ھیں بلکہ بگڑتی ھوئ ملکی معاشی صورتحال سے توجہ ھٹانے کے کام بھی آتے ھیں۔ جیسے میں نے پہلے کہا۔ احتساب ایک حکومتی جزو ھے۔ کل نہیں۔ حکومت کا فرض ھے۔ وہ عام لوگوں کو ریلیف دے۔ نئ نوکریاں اور روز گار کے مواقع پیدا کرے۔ ٹیکس ریفارمز لائے۔ ریاستی آمدن برھانے کے لیے پالیسیوں کا نفاز کرے۔ تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے ایسا نظام لائے جس سے ان کے اعتماد اور اعتبار میں اضافہ ھو۔ چیزیں سستی ھوں۔ اور معاشی سرگرمیاں تیز روی میں تبدیل ھوں۔ لیکن جیسا میں نے کہا۔ معاشی طور پر مکمل ناکامی کے بعد آ جا کر حکومت کے پاس دو تین باتیں ھی بچی ھیں۔ ھم احتساب کریں گے۔ پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں ۔ قرضے بہت زیادہ ھیں۔ سوال یہ ھے۔ آپ کب تک ان نعروں سے کھیلتے رھیں گے۔ معاشی نمو 5.85 سے تین فیصد پر آ گئ ھے۔ افراط زر 2.5 فیصد سے نو فیصد تک چلا گیا ھے۔ ڈالر 143 پر ھے۔ ادھار پر ملک چلایا جا رھا ھے۔ ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک اپنی رپورٹس میں وطن عزیز کی گرتی ھوئ معیشت کے متعلق اشاریے دے رھے ھیں۔ جب تحریک انصاف کے فالوورز سے پوچھا جائے کوئ ایک مثبت معاشی پالیسی جو ان آٹھ ماہ میں اختیار کی گئ ھو۔ کوئ بلیو پرنٹ ، کوئی مستقبل کی انڈیکیش، تو جواب خاموشی میں ملتا ھے۔ تحریک انصاف کے ذیادہ تر سپورٹرز مطمعن ھیں۔ اپنی ھی پارٹی کے پروپیگنڈے کے زھنی اسیر ھیں ۔ اور مطالبہ کرتے ھیں ۔ پانچ سال پورے دیے جائیں۔ پھر پوچھا جائے۔ سوال یہ ھے۔ ان آٹھ نو ماہ میں جو بربادی پھیری ھے۔ پانچ سال میں تو حشر نشر ھو جائے گا۔ اگلے بجٹ میں تنخواہیں کہاں سے ملیں گی۔ ابھی تو یہ سمجھ نہیں آ رھی۔ اس کرنٹ بجٹ کے ترقیاتی فنڈ تو پہلے ھی کٹوتی کا شکار ھو چکے ھیں۔ جس کا مطلب یہ ھے۔ نہ کوئ نیا پروجیکٹ لگے گا۔ نہ روز گار کے مواقع پیدا ھوں گے۔ نہ ریاستی آمدن میں اضافہ ھو گا۔ ایسے میں دفاعی بجٹ ، گردشی قرضوں اور قرضوں کی واپسی کیسے ممکن ھو گی۔ آنے والے حالات مہنگائ اور بے روزگاری کے حوالے سے اچھے نظر نہیں آتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *