’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں‘‘۔’’دنیا پاکستان‘‘ کا نیا سلسلہ

ایوانِ اقتدار ایک ایسی جادو نگری ہے جہاں صاحب اقتدار صرف خوشنما مناظر دیکھنا، اور خوش کن ’’نغمات‘‘ سننا چاہتا ہے۔ ایسے میں خوشامدیوں کی بن آتی ہے اور مفاد پرست اس کی آنکھیں اور کان بن جاتے ہیں۔ ایسے میں ہم نے ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا، ان تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کی تحریروں کے اقتباسات کا سلسلہ جنہوں نے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کے حوالے سے نہ صرف خود سنہرے خواب دیکھے بلکہ اپنے قارئین کو بھی یہ خواب دکھائے۔ یہ سلسلہ جناب وزیر اعظم کے لیے وہ آئینہ ہے جس میں وہ اپنی اور اپنی حکومت کی کارکردگی ملاحظہ فرما سکتے ہیں:(ادارہ)
طیبہ ضیاء۔۔۔کمر توڑ مہنگائی:۔
پی ٹی آئی کی حکومت نے اگلی پچھلی تمام کسرپوری کردی ہے۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ اور ان کی قوتِ خرید کم ہوتی جارہی ہے۔ ملک میں روزگار کا سلسلہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر پڑھے لکھے نوجوان بیرونِ ملک جانے کی غیر قانونی کوشش میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ملک میں بد دیانتی عروج پر ہے، ہر محکمہ اورادارہ خطرناک حد تک کرپٹ ہوچکا ہے۔ جن میں مالی اور اخلاقی دونوں قسم کی کرپشن شامل ہے۔۔۔ روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قدر نے بھی مہنگائی کے طوفان کو سونامی میں بدل دیا ہے۔ برآمدکنندگان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ جب سے موجودہ حکومت آئی ہے، پاکستان کی برآمدات مسلسل گررہی ہیں اور درآمدات بڑھ رہی ہیں اور پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 5ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روپے کی بے قدری اور ڈالر کی اڑان سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ پانی کی قلت کے باعث زرعی شعبے میں ترقی کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکے گا۔ خام مال کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے صنعتی شعبے کی ترقی کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوگا۔(نوائے وقت6اپریل2019)
مزید پڑھئیے "’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں‘‘۔’’دنیا پاکستان‘‘ کا نیا سلسلہ! قسط 1"
ہارون الرشید’’سرکاری لطیفے‘‘:۔
18ویں گریڈ کی ایک ڈائریکٹر کا قصہ کل شب کسی نے سنایا۔ اس کی سربراہ یعنی وزارت کی سیکرٹری، ڈائریکٹر صاحبہ کے طرز عمل پر شاد نہ تھی۔ زیادہ بڑی شکایت یہ تھی کہ لہجہ سخت اور اناتراشیدہ ہے، ایک سرکاری افسر کے جو شایانِ شان نہیں۔ وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کی اجازت سے ان کا تبادلہ کردیا گیا۔۔۔لیکن چارج چھوڑنے سے موصوفہ نے انکار کردیا، چٹّا جواب ۔۔۔کہ :کس کی مجال ہے کہ میرا تبادلہ کرے۔ کئی ہفتے گزر گئے۔ آخر کو سیکرٹری کے تبادلے کا حکم صادر ہوا، کوئی شکایت جن سے نہیں تھی۔ راوی معتبر ہے۔ تحقیق کرنے والے ان کے دعوے پر تحقیق فرمالیں۔ محترمہ نے ارشاد یہ کیا کہ ان کے والدگرامی وزیر اعظم سے رہ ورسم رکھتے ہیں۔ ۔۔حکمرانی فیصلہ سازی کا نام ہے۔ عثمان بزدار کیا فیصلے صادر کرسکتے ہیں؟ اب خود وزیر اعظم کے بارے میں بھی یہی سوال ہے۔ چرواہے سے ریوڑ سنبھالے نہیں سنبھلتا ۔(دنیا ۔8اپریل2019)
آصف خان ’’حکمرانوں کی مردم شناسی‘‘ :۔
اسد عمر سے لیکر عامر کیانی تک، عثمان بزدار سے لیکر فیاض الحسن چوہان تک، ذاتی رفقا سے لیکر غیر منتخب مشیروں کے انتخاب تک، اگر ہمیں کوئی کمی کہیں نظر آتی ہے،تو مردم شناسی کی ۔ فیاض الحسن چوہان کی کافی قیمت چکانے کے بعد حکومت یہ بوجھ اتارچکی ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ترجمان کو تمام صوبائی محکموں کی انسپکشن کا اختیار دینا اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ وزیر اعظم اب قائل ہوتے جارہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مطلوب نتائج فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی طرح حکومتی مایوسی اور معیشت کی حالت زار کا اندازہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق غنی کے اس بیان سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ معاشی حالات مشکل ترین ہیں۔ عوام دو نہیں، ایک روٹی کھائیں۔‘‘
معیشت کا بحران ہی حکومت کو لئے دےئے جارہاتھا کہ تحریک انصاف کے اندر رونما انتشار اور دھڑے بندیوں نے صورتِ حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔ انتہائی دھیمے اور ایک ایک لفظ ناپ تول کر بولنے والا شاہ محمود قریشی کا بولنا اور اپنے مؤقف پر ڈٹ جانا سمجھنے والوں کے لیے واضح اشارہ ہے۔ اسی طرح شیخ رشید کے بدلتے رجحانات ’’سیاسی موسمیات‘‘ پر واضح نظر آرہے ہیں۔ تحفظات سے اختلافات تک یہ سفر انتہائی مختصر اور ریکاڈمدت میں پورا ہوا ہے، جبکہ اس میں مزید شدت کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ شیخ رشید کے اس طرزِ عمل کو ایک اہم غیر معمولی پیش رفت کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتاہے۔ (روزنامہ دنیا۔8اپریل2019)
ارشاد محمود’’لمبی ہے غم کی شام۔۔۔‘‘:۔
مزید پڑھئیے "’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں‘‘۔’’دنیا پاکستان‘‘ کا نیا سلسلہ! قسط 1"
کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خزانہ اسد عمر سے استفسار کیا کہ زراعت کی ترقی کے لیے کیا منصوبہ ہے؟ تو انہوں نے ہاتھ کھڑے کردےئے اور کہا کہ انہیں زراعت کی اونچ نیچ کی سمجھ نہیں۔ وہ شہری بابو ہیں۔
حکومت یہ بھی نہیں بتاتی کہ پانچ برس بعد اس کی مدتِ اقتدار ختم ہوگی تو پاکستان عالمی رینکنگ میں کہاں کھڑا ہوگا؟63فیصد عورتیں اس ملک کی ناخواندہ ہیں کیا پانچ سال بعد یہ تعداد چالیس فیصد ہوگی؟ اگر آج دو کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں تو کیا اگلے الیکشن میں یہ تعداد کم ہو کر ایک کروڑ رہ جائے گی۔ آج کراچی کا شمار دنیا کے گندے ترین شہروں میں ہوتا ہے کیا حکومت کے پاس کوئی منصوبہ ہے کہ اسے دنیا کے پہلے پچاس صاف ستھرے شہروں میں شامل کرسکے۔ (روزنامہ 92نیوز۔ 8اپریل 2019)
آصف محمود ’’پنجاب میں حکومت کس کی ہے؟‘‘:۔
بیوروکریٹ اور پولیس افسر نجی محفلوں میں اب کھل کر کہنا شروع ہوگئے ہیں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی طرح ، عمران خان کی تحریک انصاف کا بھی کوئی مستقبل نہیں ، اس لیے وفاداری شریف خاندان سے رکھو،یا پھر چودھریوں کے سا تھ۔۔۔بیوروکریسی کا خیال ہے کہ جس قائد کی ملک میں اولاد ہی نہ ہو، اسکی سیاست کتنا عرصہ چل پائے گی؟ یہ بابو گھاٹے کا سودا کیوں کریں گے؟ بہتر ہوتا کہ عمران خان پنجاب میں مسلم لیگ کو حکومت بنانے دیتے۔۔۔ پنجاب چلاناہے تو سنجیدگی اختیار کرنا پڑے گی۔ ٹویٹر پر پنجاب نہیں چل سکتا۔(روزنامہ 92نیوز۔9اپریل2019)
حسین احمد پراچہ’’مستحسن فیصلہ‘‘:۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت کی معاشی میدان میں کارکردگی جتنی خراب ہوتی جائے گی ، قوم کے دلوں میں مسلم لیگ (ن) کے ’’سنہری ایام‘‘ کی یاداتنی ہی جلوہ گر ہوتی جائے گی۔ پی ٹی آ ئی اپوزیشن میں تھی توعمران خان کا ماٹو تھا’’توہینِ زندگی ہے سہاروں کی زندگی ‘‘ اب پی ٹی آئی قدم قدم پر اس توہین کی مرتکب ہورہی ہے۔ حکومت کو آ ئی ایم ایف کے پاس جانے کی قیمت چکانا پڑے گی۔ غریب کلاس ہی نہیں، ایلیٹ کلاس بھی پہلے ہی بلبلا اٹھی ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں اقتصادی ٹیم معیشت کا میچ جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔۔۔معیشت کا چیلنج اسد عمر کی صلا حیت سے آگے کی بات ہے۔۔۔اب ذرا اپنے سٹیٹ بنک کی گواہی بھی لے لیں۔ اس کی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی ہدف سے بہت زیادہ ہوگی۔ مالیاتی خسارہ قابو سے باہر ہوگا۔ افراطِ زر7.5فیصد ہوگا۔ گروتھ ریٹ 6.2فیصد کی بجائے3.5سے4فیصد تک رہے گا۔ یہ ہے اپنے گھر کا وہ آئینہ جس نے بڑے رکھ رکھاؤ کے ساتھ حکومت کو اس کا اقتصادی چہرہ دکھادیا ہے(روزنامہ 92نیوز)
نسیم شاہد’’کپتان کے بقراطی کھلاڑی‘‘ :۔
ابھی کچھ ہی دیر پہلے مجھے اسلام نیشنل کونسل آف دی آرٹس اسلام آباد کا ایک نوٹیفکیشن بھجوایا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 25دسمبر2016کو ایوان صدر میں جو مشاعرہ منعقد ہوا۔ اس پر 36لاکھ روپے کے اخراجات آئے، جوادا کردےئے گئے ہیں ۔ صدرعارف علوی تو بہت ادب نواز نکلے، صرف مشاعرے پر 36لاکھ کی منظوری دیدی۔۔۔ انہیں مغل شہنشاہوں کی طرح کیا ضرورت پڑ گئی کہ اپنے دربار میں مشاعرہ سجائیں اور 36لاکھ روپے خرچ کردیں۔ مجھے تو رہ رہ کر صدرممنون حسین یاد آرہے ئیں، جو تقریروں کے درمیان اشعار تو بہت سناتے تھے، مگر انہوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے مشاعرہ سننے کی خواہش کبھی نہیں کی۔تو صاحبوا!جہاں 36لاکھ روپے ہوا کی اڑا دےئے جاتے ہیں، وہاں جب حکومتی وزیر ،مشیر نیز سپیکر وغیرہ عوام کو یہ مشورہ دیں کہ دو کی بجائے ایک روٹی کھاؤ ،اور موج اڑاؤ، وہاں سینے پر دوتہڑمارنے کو جی چاہتا ہے۔(روزنامہ ’’پاکستان،‘ 9اپریل 2019)۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *