شادی دوستی کی قاتل ہوتی ہے؟

" میگی پارکر "

ایڈرائین مولیلو  نے 2014 میں اپنے جگری دوست کو اس کے مستقبل کے شوہر سے ملوایا لیکن 2017 میں جب شادی ہوئی تو مس مولیلو کی آںکھوں میں آنسو تھے جب کہ شادی والا جوڑا ہشاش بشاش تھا۔    " ہم جب سے پیدا ہوئے اچھے دوست تھے اس کے والدین میرے دادا دادی تھے۔ میں نے اس کے شوہر کی انگوٹھی چننے میں مدد کی ۔" مسسز ملیلونے کہا۔ شادی کی پلاننگ نے ان کے رشتے میں دراڑیں ڈال دیں اور شادی کے دن لڑکھڑاتا ہوا دوستی کا رشتہ اپنے تمام کو پہنچ گیا۔

بہت کچھ انتہائی بے وقوفانہ تھا جو مجھے تکلیف پہنچا رہا تھا۔ اور میرا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ میں شادی کے دوران اس کے ساتھ ساتھ رہوں۔  "، مس ملیلو نے کہا۔ وہ حیران و پریشان نہیں تھی۔ " میرا خیال ہے میرے بہت سے دوستوں کے پاس شادی کی وجہ سے دوست کھونے کی ایک کہانی ضرور ہو گی۔"

یہ بڑی تقریبات اتحاد اور محبت کا جشن منانے کی غرض سے منعقد کی جاتی ہیں۔ تو پھر کیوں ان تقریبوں کے اختتام میں دوستی کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے؟

" ہم اپنے دوستوں کی مشکل ترین اوقات میں ساتھ دینے کی بات کرتے ہیں، لیکن در اصل ہمارے بیچ اچھے ترین حالات میں  کئی پریشانیاں اور اختلافات ہوتے ہیں۔ " شستہ نیلسن جو کہ "Frientimacy" کی مصنفہ ہیں نے کہا۔

مسئلہ تب شروع ہوا جب مس مولیلو کی دوست کی منگنی ہوئی۔ "اس نے مجھے کنیز بن کر مہمانوں کے استقبال کے لئے کہا لیکن میں اس سب کی امید نہیں کر رہی تھی کیون کہ اس کی دو بہنیں بھی تھیں۔" وہ دلہن کی کنیز بننے کے لئے راضی تھی لیکن اس نے اسے مجبوری سمجھ کر کیا نہ کہ دل سے۔ " میں دیکھ سکتی تھی کہ وہ میرے رد عمل سے کیسا محسوس کر رہی تھی۔ اس لیے انہوں نے معذرت کر لی۔ " لیکن ہم نے اس معذرت کے بعد اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کی اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ اس نے مجھے کبھی معاف کیا ۔ "

شادی کے دن،  سب کچھ جانتے ہوئے مس مولیلو کو دلہن اور دلہا کے اس رشتے کی خوشی منانا محال لگ رہا تھا۔ " میں نے اور دلین نے شادی کے روز ایک بھی بات نہیں کی اور وہ شاذوناذر ہی مجھے دیکھ کر مسکرائی ہو گی، ' انہوں نے بتایا۔ "میں باہر چلی گئی اور رونے لگی اور جب میں نے اس کے والدین کو دیکھا تو میں نے انہیں بتایا کہ بہت معذرت کے ساتھ اب مجھ سے اور یہ سب نہیں ہو گا۔ "

مس مولیلو نے بتایا کہ شادی کی وجہ سے ان کے بیچ مسائل اور گمبھیر ہو گئے۔" شادی میں ہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ رشتوں میں ایک باریک سی ڈراڑ ڈال دیتی ہے اور اس دراڑ کو ایسے ظاہر کر کے رکھتی ہے جیسے کوئی اور چیز ظاہر نہ کر سکے۔ یہ دعوی جیکلین چارنس  کا ہے جو کہ ایک کلینیکل ماہر نفسیات ہیں اور رشتوں کے معاملات پر سپیشلائزیشن کر رہے ہیں۔

" شادی فرد کے لئے اپنی ماضی کی ناراضگیوں کا اظہار کرنے کے لیئے ایک با اثر اور مضبوط ذریعہ ہے،" سیتھ میئر نے کہا جو کہ کلینیکل ماہر نفسیات ہیں اور"ڈاکڑ سیتھ کا محبت کا نسخہ" کے مصنف ہیں وہ کہتے ہیں: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کیوں بہت سی دلہنیں اور دلہے اپنے دوست کو یاد کرتے وقت گالی بکتے ہیں اور جملے کستے ہیں کیونکہ انہیں دلہن کا دوست نہیں بنایا جاتا یا انہیں دوسرے طریقے سے اہمیت نہیں ملتی۔

" شادی تبدیلی کی علامت ہوتی ہے اور عام طور پر انسان اس تبدیلی کو سنبھال نہیں پاتے،" ڈاکٹر چرنس نے کہا۔ نقصان کے خوف سے دوست "لا شعوری طور پر آپ کو مسترد کر دہتا ہے اس سے پہلے کہ آپ اسے کر دیں۔ شادی کے بعد ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور کبھی کبھار لوگ اس نئے دور میں ہمارے ساتھ داخل ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔"

جب میگن پولٹریک شادی کر رہی تھیں تو ان کے ایک دوست نے انہیں بتایا کہ وہ شادی پر نہیں آ پائیں گی۔ " انہون نے مجھے ایک لمبا خط بھیجا جس میں  در اصل وہ بتانا چاہتی تھیں کہ وہ شادی پر اس لیے نہیں آ سکتیں کیوں کہ ان کے پاس آنے کے لئے سواری نہیں ہے ، " اور جب بھی ان کے کسی دوست کی دوستی ہوتی  ، منگنی یا شادی ہوتی  وہ ان سے کنارہ اختیار کر لیتیں، مسز پولٹریک  کی شادی کو تقریبا ایک سال ہو گیا اور انہوں نے اس دوران صرف ایک بار ہی بات کی ہے۔ "  افسوس ہم ویسے نہیں ہو سکتے جیسے ہم تھے ۔"

مس نیلسن کو اندازہ ہے کہ کیوں مسٹر پولٹریک اپنے دوست کی طرف سے دھتکارے جانے سے اتنی تکلیف میں ہیں۔

" شادی کا مطلب انتخاب ہے جس میں دو شخص ایک دوسرے کو اپنے لیے منتخب کر لیتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جنہیں شادی پر بلایا جاتا ہے اور اس رشتے کے بندھنے کا گواہ بنا دیا جاتا ہے۔  اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آپ کے ساتھ کس قدر مخلص اور محبت میں بندھا ہوا ہے۔"

اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو مہمانوں کی فہرست تیار کرنے میں حصہ نہیں ڈالتے۔ " اگر دوست کی شادی میں بلاوا نہیں آتا تو یہ ایسا ہے جیسے دوستی کی موت کا بوسہ مل گیا ہو،" جیسیکا فیکٹیو نے کہا۔ انہوں نے یہ تجربے کے تحت کہا ، یہ ان کے ساتھ کئی بار ہوچکا ہے۔ مس فیکٹیو کے  کالج کی بڑی کلاس کی دوست اور کمرے کا اشتراک کرنے والی خاتون نے انہیں اپنی شادی میں مدعو نہیں کیا، لیکن کالج کے دوسرے تمام دوست مدعو تھے۔

" ہم  کالج میں داخلے کے وقت سے ہی دوست تھے اور اس بات سے میں اداس ہو گئی۔ میں سوچتی تھی کہ ہم اتنے قریب ہیں کہ میں اسے رخصت ہوتے دیکھوں گی، " انہوں نے کہا۔ " اگر اس کی شادی نہ ہوتی تو میں کبھی ہماری دوستی کے بارے میں ایک اور بار بھی نہیں سوچتی۔ مجھے نہ بلانا یا نہ بلانے کی وجہ بتانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہماری دوستی کس قدر گہری ہے۔"

شادی سب کو پریشان کر سکتی ہے، اس لیے مس نیلسن نے تجویز پیش کی کہ جو بھی اس میں شامل ہے اسے معمول سے ذیادہ ہمدردی اور فکر دکھانی چایئے۔ اور چیزوں کو ذاتی نہیں بنانا چاہیے۔ " ہم دوسروں کے رویوں سے اپنی مرضی کے نتائج اخذ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا اندازہ ہمیشہ درست نہیں ہو سکتا۔" وہ کہتی ہیں:  شاید شادی کرنے والے "دلہا دلہن  صبح اٹھتے وقت یہ نہیں سوچ رہے ہوتے کہ وہ فلاں دوست کو کیسے دھوکا دیں گے۔ ہمیں جان لینا چاہیے کہ ہماری تکلیف کا باعث وہ مطلب ہے جو ہم اخذ کرتے ہیں نہ کہ وہ عمل۔"

ڈاکٹر مییر نے شادیوں میں ہونے والے قطع تعلق سے بچنے کے لئے ایک سادہ سا حل بتاتے ہوئے کہا: چھوٹی شادی کریں۔" جتنی بڑی شادی ہو گی اتنے ہی خطرناک جذباتی اور معاشرتی نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے ۔ "

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *