لیکن یہ نظامی صاحب کا نوائے وقت نہیں

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

جناب مجید نظامی کے نوائے وقت کا تازہ اداریہ (10اپریل)پیش نظر ہے ، لیکن کیا یہ واقعی نظامی صاحب ہی کے نوائے وقت کا اداریہ ہے؟؟ نوائے وقت کے بانی حمید نظامی اور اس کے معمار مجید نظامی (مرحومین) اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک قائد اور اقبال کے سیاسی افکار و نظریات کا پرچم تھامے رہے۔ جناب مجید نظامی کی وفات کے بعد، یہ اخبار ان کی ’’صاحبزادی‘‘ کے تصرف میں آیا، توکئی بار احساس ہوا کہ یہ اس راہ سے ہٹ رہا ہے جس پر نظامی برادران نے اِسے گامزن کیا تھا۔ لیکن اس کا تازہ اداریہ تو 180درجے کا ’’یوٹرن ‘‘ ہے۔یوں لگا جیسے مجید نظامی صاحب کا انتقال 26جولائی 2014کو نہیں ہوا تھا، اس ادارئیے والے روز ہوا ہے۔
14اگست 1947کو پاکستان وجود میں آیا، تو قائد اعظم (اور ان کے رفقا) نے نوزائیدہ مملکت کا آغاز پارلیمانی نظام سے کیا۔ قائد اعظم نے پاکستان کی جس اولین کا بینہ سے حلف لیا، وہ لیاقت علی خاں کی وزارتِ عظمیٰ کے ساتھ پارلیمانی کابینہ تھی۔ پارلیمانی نظام ہی کے تقاضوں کے تحت قائد اعظم مسلم لیگ کی صدارت سے مستعفی ہو گئے، اور چودھری خلیق الزماں پاکستان مسلم لیگ کے کنوینر بنے۔ دستور ساز اسمبلی نے پارلیمانی بنیاد پر ہی دستور سازی کا آغاز کیا ۔ یہ سب قائد اعظم کے با اعتما د رفقا تھے اور قائد کے مزاج کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ 1954ء کا دستوری مسودہ اور پھر 1956کا آئین بھی، جس پر مشرقی و مغربی پاکستان کی قیادت کا اتفاق تھا ، پارلیمانی تھا۔ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر ایوب خان نے دھونس دھاندلی کے ساتھ 1962میں صدارتی نظام مسلط کیا تو قائد اعظم کی ہمشیرہ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح 1964کے صدارتی انتخاب میں پارلیمانی نظام کا پرچم تھامے میدان میں اتریں(اور دھاندلی سے ہرا دی گئیں)۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد قوم کے منتخب نمائندوں کے اتفاق رائے سے 1973کا آئین بھی پارلیمانی تھا جس میں فوجی ڈکٹیٹرمن مانی ترامیم کے ذریعے صدر کو طاقتور اور وزر اعظم کو کٹھ پتلی بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن موقع ملتے ہی، عوام کے منتخب نمائندوں نے ڈکٹیٹروں کی ان ترامیم کو اٹھا کر پھینک دیا اور 1973کے آئین میں حقیقی پارلیمانی روح کو دوبارہ زندہ کر دیا ۔
ملک میں بعض مخصوص حلقوں نے ایک بار پھر صدارتی نظام کے حق میں مہم شروع کر دی ہے،کیا نوائے وقت کا زیر نظر اداریہ اسی مہم جوئی کا حصہ ہے؟ تضادات کے شاہکار اس اداریے کا جائزہ لیتے ہیں۔ آغاز وزیر خزانہ اسد عمر کے اس دعوے سے ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہو گئی ہے اور اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں۔(گویا استحکام کے اس عمل میں موجودہ پارلیمانی نظام رکاوٹ نہیں بنا) وزیر موصوف نے مزید فرمایا کہ 70سال میں خطے کے کئی ممالک ہم سے آگے نکل گئے،بنگلہ دیش ہم سے دوگنا اور بھارت اڑھائی گنا ترقی کر رہا ہے(لیکن اس کے لیے انہیں صدارتی نظام کی ضرورت تو نہیں پڑی۔ ترقی کی یہ عمل پارلیمانی نظام ہی میں جاری ہے )
اداریہ نویس کے خیال میں پاکستان کو ریاست مدینہ کے قالب میں ڈھالنے کا عہد عمران خان ہی نبھا سکتے ہیں(اللہ تعالیٰ خان صاحب کو عمرِ خضر عطا فرمائے، لیکن باقی انسانوں کی طرح ہمارے خان صاحب بھی فانی ہیں۔ فردِ واحد کو مسیحا بنانے کا تصور خود مرحوم نظامی برادران کے تصور جمہوریت سے کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے؟)
اداریہ نویس کے خیال میں ،1973ء کے موجودہ آئین ہی میں صدارتی نظام کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے (لیکن اس آئین کی تو پوری سکیم ہی پارلیمانی ہے۔ خود سپریم کورٹ پارلیمانی نظام کو آئین کے بنیادی ڈھانچے کا اہم نکتہ قرار دے چکی ہے،جسے پارلیمنٹ اتفاق رائے سے بھی تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ اسکے لیے نئی آئین ساز اسمبلی کا انتخاب کرانا ہو گا۔ کیا نئی آئین سازی کے لیے 1971ء کا تباہ کن تجربہ کافی نہیں ؟۔)
فاضل اداریہ نویس امریکہ کے صدارتی نظام کی مثال بھی لائے ہیں، جو اپنی روح میں جمہوری ہونے کے ساتھ منتخب صدر کو اپنی کابینہ کے انتخاب سمیت اہم ترین فیصلوں کا اختیار دیتا ہے۔ (لیکن وہ اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ امریکی صدارتی نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام صدر کو آمر مطلق نہیں بننے دیتا۔ صدر اپنی کابینہ کے ارکا ن، بیرونِ ملک سفیروں،ججوں، مسلح افواج کے سربراہوں اور ایف بی آئی اور سی آئی اے کے سربراہوں کے تقرر اور غیر ملکی معاہدوں سمیت کتنے ہی اہم معاملات میں سینیٹ کی توثیق کا محتاج ہے۔)
مزید فرمایا، صدر اپنی حکومت کے لیے اتحادیوں (کولیشن پارٹنرز) کی تائید و حمایت کا محتاج نہیں ہو گا۔اور وہ ملک کے بہترین مفاد میں بہترین دماغوں کا انتخاب کر سکے گا( گویا وہ غیر منتخب لوگوں کو بھی کابینہ کا حصہ بنا سکے گا۔ لیکن زلفی بخاری اور نعیم الحق سمیت غیر منتخب مشیر خان صاحب کے حسنِ انتخاب کی کیا خوب مثالیں ہیں۔ ملک کے سب بڑے صوبے کو عثمان بزدار کے اور خود اپنے آبائی صوبے (کے پی کے) کو محمود خان کے سپرد کرنا کون سی پارلیمانی مجبوری تھی؟)۔
ادارئیے میں ایک اور دلچسپ دلیل یہ کہ صدارتی کابینہ میں وزرا کی فوج ظفر موج کی مجبوری بھی نہیں ہو گی اور یوں قومی خزانہ بھاری اخراجات سے بچ جائے گا(تو کیا 22کروڑ آبادی کے ملک میں زندگی کے تمام شعبوں اور سرکار کے تمام محکموں کو صدر اور اسکے مٹھی بھرچہیتے ٹیکنو کریٹس چلائیں گے؟)
اداریے کا دلچسپ ترین حصہ وہ ہے جس میں ، جنرل ضیاء الحق والے ریفرنڈم کے نئے صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے مثال بنا نے کی تجویز دی گئی ہے۔اِنا للہِ و اِنا الیہ راجعون
جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا نوائے وقت کا ماٹو رہا ہے۔ کیا اِ سے پھر ایک مطلق العنان صدر کی صورت میں جابر سلطان کی تلاش ہے لیکن جابر سلطان کے کلمہ حق کہنے
والے تو تہہ خاک ابدی نیند سو رہے ہیں۔ صاحبزادی سے کلمہ حق کہنے کی توقع۔۔۔۔؟؟؟؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *