کڑا وقت

 

آصف زرداری نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان کو حکومت سے الگ ہونا ہوگا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کہنا آسان ہے اور کرنا بہت مشکل۔ کاش آصف زرداری نے ملی ٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون اور اس کے جواب پر اتنا یقین نہ کیا ہوتا۔ لیکن نواز شریف اور زرداری ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ کاش نواز نے ملی ٹیبلشمنٹ کے خلاف اتنا سخت موقف نہ اپنایا ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کاش آصف زرداری اور نواز شریف نے ملی ٹیبلشمنٹ کی نظروں میں عمران خان اور ان کی پارٹی تحریک انصاف کی بہتری کو انڈر ایسٹیمیٹ نہ کیا ہوتا تو ان کے حق میں کتنا بہتر ہوتا۔

روایتی پارٹیاں اب  غصے سے بھرے  غیر محفوظ  اور مشتعل نوجوانوں پر مشتمل شہری   مڈل کلاس  کی امید پر پورا نہ اترنے کی قیمت ادا کر رہی ہیں  کیونکہ یہ مڈل کلاس ہی پی ٹی آئی اور ملی ٹیبلشمنٹ کی اصل طاقت ہے۔ ان دونوں بڑی پارٹیوں کے خلاف جو مہم چلائی گئی وہ کرپشن کےنام سے تھی۔ مڈل کلاس اور ملی ٹیبلشمنٹ دونوں کا خیا ل ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ایک نئے بہتر معاشی دور کی آمد کا بیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے  جس سے نوجوانوں کو زیادہ نوکریاں ملیں گی اور سکیورٹی اوردفاعی بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔

دونوں گروپس یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک خاص نوعیت کا ایڈمنسٹریٹو سیٹ اپ ہونا چاہیے جس میں صدارتی نظام کے تحت ایک سیاسی لیڈر کی حکومت ہو اور اختیار ات نچلی سطح پر عوامی نمائندوں کو منتقل ہوں ۔ دونوں طبقات عمران کو کرشماتی لیڈر اور تبدیلی کا چہرہ گردانتے ہیں جو سٹیٹس کو کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دونوں طبقات مل کر دوسرے ریاستی اداروں  جن میں عدلیہ، میڈیا، اور احتساب کے ادارے شامل ہیں کو دباو میں لا کر ان کو درست طریقے سے کام کرنے پر مجبور کرنا چاہتے ہیں۔ ملی ٹیبلشمنٹ کے مقاصد کے حصول کے لیے پی ٹی آئی ایک قانونی کور کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کرپشن اور معاشی ترقی میں کوئی خاص لنک نہیں ہوتا اور نہ ہی سیاسی اور انتظامی نظام میں کوئی خاص تعلق ہوتا ہے۔کچھ ایسے ممالک جہاں کرپشن عروج پر ہے جیسا کہ چین (ڈکٹیٹرشپ) اور بھارت (جمہوری ریاست) وہاں بھی معاشی ترقی کی رفتار دنیا بھر میں نمایاں نظر آتی ہے۔  انہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ سیاسی و انتظامی نظام جو ان کےذہن میں ہے اور جسے ماضی میں تین بار آزمایا جا چکا ہے  جن میں جنرل ایوب کا ایک دہائی تک کا اقتدار، ضیاالحق اورمشرف کا بھی اتنا ہی لمبا عرصہ اقتدار پر قبضہ تھا ، پھر بھی انہیں یقین ہے کہ اس بار ان کے سویلین ساتھی اور کٹھ پتلی بہتر پرفارم کر پائیں گے۔

ملی ٹیبلشمنٹ پاکستانی ریاست کا سب سے اہم ستون رہی ہے۔ ریاست کے مفادات کے معاملے میں سب سے زیادہ اہمیت اس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رائے کو دی جاتی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ  مشرقی اور مغربی بارڈر پر پچھلے چار دہائیوں سے مخاصمانہ رویہ ہے جس کی وجہ سے ملک میں سویلین دور حکومت کے دوران سیاسی مینیجمنٹ کی ضرورت محسوس  ہوتی ہے۔ اس مینیجمنٹ کا ظہور 2008 سے 2013 کے دوران پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوا  جس کے تحت ن لیگ، اعلی عدلیہ اور کارپوریٹ میڈیا نے ملکر زرداری حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنائے رکھا  اور پی پی کو صرف ایک صوبے تک محدود کر کے رکھ دیا۔ نواز شریف کے دور حکومت  میں بھی عدم استحکام پیدا کرنے کےلیے دونکاتی ایجنڈا پر عمل کیا گیا۔ پہلے نکتہ  میں نواز کو زرداری پر دباو بنانے پر مجبور کیا گیا  اور کرپشن اور دہشت گردی کے نام سے سندھ حکومت کو مشکلات کا شکار بنایا گیا۔

دونوں بڑی پارٹیوں کو ایک دوسرے سے دور کر کے  پی ٹی آئی اور عمران خان میں نئی روح پھونکی گئی ۔ نواز شریف کو ہٹانے کے لیے پانامہ لیکس کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس دوران زرداری سائیڈ پر بیٹھ کر یہ کھیل دیکھتے رہے۔ آخری چال2018 کے الیکشن میں چلی گئی۔

اگر نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر زرداری کو ٹارگٹ کرتے رہے ہیں تو زرداری نے بھی پی ٹی آئی کو اوپر لے جانے میں اسٹیبلمشنٹ کا تعاون کر کے اپنے آپ کو استعمال ہوتا دیکھ چکے ہیں۔پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ اور سینٹر کی حکومت دلوانےکے  بدلےزرداری کو  سندھ حکومت ملی ہے۔ اب ن لیگ اور نواز شریف کو بے کار کر کے ملی ٹیبلشمنٹ زرداری کے پیچھے پڑ گئی ہے۔

زرداری اور نواز شریف دونوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ عمران خان کو گھوڑے کی زین پر پوری قوتکےساتھ نصب کیا گیا ہے۔ اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ نواز اور شہباز کے بیچ اختلاف پیدا کیے جائیں اور شہباز شریف کو استعمال کیا جائے  تا کہ ملی ٹیبلشمنٹ کی پاکستان میں اصلاحات کی گرینڈ سکیم  کے خلاف باقی تمام اپوزیشن کو کنٹرول کیا جا سکے۔

2018 الیکشن کے کچھ عرصہ بعد مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کا بیانیہ اپنا لیا کہ الیکشن کے نتائج چوری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے نواز اور زرداری دونوں کو مشورہ دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں نہ بیٹھیں کیونکہ اس سے الیکشن کو قانونی حیثیت حاصل ہو جائے گی۔ زرداری نے فضل الرحمان کا مشورہ ماننے سے انکار کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنے سے انہیں سندھ میں فری ہینڈ مل جائے گا۔ نواز شریف نے فضل کی نصیحت اس لیے رد کر دی کہ انہیں شہباز شریف نے ملی ٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون کر کے قید سے آزادی کے حصول کا مشورہ دیا۔ اب دونوں رہنما اپنے حساب کتاب میں کی جانے والی غلطیوں کو پہچان چکے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان بجٹ کےفوری بعد احتجاجی تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت تک عوام مشتعل ہوں گے اور ملی ٹیبلشمنٹ بھی عمران کی لیڈرشپ سے تنگ آ چکی ہو گی۔ کیا نواز اور زرداری میں اتنی سیاسی بصیرت ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کو قربان کر کے مولانا کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے مفادات کو تحفظ کر سکیں؟ یا پھر ایک بار پھر وہ استعمال ہوں گے؟ کڑا وقت آ چکا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *