پاکستان میں اقوامِ متحدہ کی پابندیوں سے متعلق ہدایات جاری

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے ’اقوامِ متحدہ کی پابندی کمیٹی (یو این اسی سی 1267) کی پابندیوں کے اطلاق کے حوالے سے ہدایات (گائیڈلائنز) جاری کردیں۔

جس کا مقصد حکومتی اداروں کو پابندیوں کے دائرہ کار کے حوالے سے آگاہ کرنا اور اس پر عملدرآمد کو آسان بنانا ہے۔

اس حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ جہاں پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر موثر عملدرآمد کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف بہتر فوائد حاصل کیے، وہیں یہ ضروری ہے کہ اس حوالے سے بین الاقوامی قانونی تقاضوں کو بھی ذہن میں رکھا جائے۔

اس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں شامل ہیں جس پر اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے 'باب 7' کے تحت عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

مذکورہ تقریب میں بڑی تعداد میں صوبائی و وفاقی حکومتوں کے افسران اور مالیاتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ ہدایات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل 1267، القاعدہ/داعش پابندیوں کے دائرہ کار اور سلامتی کونسل 1988 (طالبان پر پابندیوں کے دائرہ کار) کے تحت کسی فرد اور ادارے پر پابندی کو دیکھنے والی قومی کمیٹی نے تیار کی۔

اس سلسلے میں یو این ایس سی 12567 پابندی کمیٹی اور فنانشل ٹاسک فورس کی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کی گئی۔

اس موقع پر سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اُمید ظاہر کی یہ ہدایات اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کے موثر اطلاق کے حوالے معانت کریں گی۔

علاوہ ازیں یہ ہدایات نہ صرف حکام کو بہتر طور پر پابندیوں کا بین الاقوامی دائرہ کار سمجھنے میں مدد کریں گی بلکہ اس سے متعلقہ ملکی قانون سازی کرنے میں بہتری آئے گی اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کا بھی ادراک ہوگا۔

ان ہدایات کے ہمراہ ایک پیغام میں سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ یہ دستاویزات ہمارے اداروں کے کام میں معاونت کریں گی، اس کے ساتھ یہ اقوامِ متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے دہشت گردی کے سدِ باب کے لیے حکومت پاکستان کے عہد اور سنجیدگی کا بھی مظہر ہیں‘۔

اس ضمن میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’جیسا کے ہم دہشت گردی کے خلاف حاصل کیے گئے نتائج کو مضبوط بنانے پر ڈٹے ہوئے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ہدایات نہ صرف پاکستان میں یو این ایس سی پابندیوں کے بہتر اطلاق میں مدد کریں گی بلکہ دیگر ممالک کی تقلید کے لیے بھی میعار ثابت ہوں گی‘۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *