اسرائیل کا بریشیٹ خلائی جہاز چاند کی سطح پر گر کر تباہ

اسرائیل کی چاند پر بھیجی جانے والی خلائی گاڑی چاند کی سطح پر گر کر تباہ ہو گئی ہے۔ یہ مشن نجی فنڈنگ سے بھیجا گیا تھا۔ مشن کی ناکامی کی وجہ انجن کی خرابی بتائی جا رہی ہے۔

بریشیٹ نامی اسرائیلی خلائی جہاز نے محفوظ لینڈنگ کی کوشش کی مگر چاند پر اترتے ہوئے تکنیکی مسائل سے دوچار ہوگیا۔

مشن کا مقصد تصویریں لینا اور تجربات کرنا تھا۔ اسرائیل پُر امید تھا کہ وہ چاند پر خلائی جہاز لینڈ کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔

چاند پر اس سے قبل صرف تین سرکاری خلائی اداروں نے کامیاب مشن سرانجام دیا ہے جن میں امریکہ، چین اور سابق سوویت یونین شامل ہیں۔

پراجیکٹ کے بانی مورس کاہن نے کہا کہ ’ہم کامیاب نہیں ہو پائے مگر ہم نے کوشش تو کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں جو کچھ بھی ہم نے حاصل کیا ہے اور جہاں ہم آج ہیں یہ ایک زبردست کامیابی ہے اور ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے۔‘

وزیر اعظم بینیامن نتن یاہو تل ابیب کے قریب ایک کنٹرول روم سے یہ مناظر دیکھ رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’اگر پہلی مرتبہ کامیابی نہ ملے تو آپ کو دوبارہ کوشش کرنی چاہیے۔‘

خلائی گاڑی کے آخری لمحات

چاند کی جانب سات ہفتوں طویل سفر کے بعد یہ خلائی جہاز چاند کی سطح سے صرف 15 کلومیٹر کی دوری پر تھا۔

کمانڈ سینٹر میں کافی کشیدگی تھی کیونکہ خلائی جہاز کا مواصلاتی نظام منقطع ہوگیا تھا جس کے بعد اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کے جنرل مینیجر اوفر ڈورون نے یہ اعلان بھی کیا کہ خلائی جہاز میں کوئی فنی خرابی سامنے آئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بدقسمتی سے کامیاب لینڈنگ نہیں کرپائے۔‘

اسرائیل ایئروسپیس انڈسریز

کنٹرول روم کے باہر کھڑے لوگوں کا رد عمل

باہر موجود سامعین خود ایک غیر معمولی کیفیت کا شکار تھے کیونکہ انھوں نے لینڈنگ کے پہلے حصہ کو دیکھا تھا جو منصوبے کے مطابق طے ہوا تھا۔

جب اوفر ڈورون نے انجن میں ناکامی کا اعلان کیا پورے کمرے میں لوگوں نے آہیں بھر لیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم انجن کی بحالی کے لیے خلائی جہاز کو ری سیٹ کر رہے ہیں۔‘

اس اعلان کے چند سکینڈ بعد ہی انجن کام کرنے لگا مگر کچھ دیر بعد ہی جہاز سے رابطہ پھر منقطع ہوگیا۔ مشن ختم ہوگیا تھا۔

پراجیکٹ پر لگ بھگ 10 کروڑ امریکی ڈالر لگے جس نے مستقبل میں چاند پر جانے کے لیے کم لاگت پر ہونے والے سفر کی راہ ہموار کر دی ہے۔

ماہر فلکیات اور سائنسی خبروں کی رپورٹر ڈاکٹر کمبرلی کارٹیئر نے ٹویٹ کی کہ ’دکھ ہے کہ بریشیٹ ناکام ہوا مگر تمام ٹیم سپیس آئی ایل پر فخر ہے۔‘

’بریشیٹ‘ جس سے عبرانی زبان میں مراد ہے ’آغاز میں‘، ایک نجی فنڈنگ سے کام کرنے والی اسرائیلی این جی او سپیس آئی ایل اور اسرائیل ایئروسپیس انڈسٹریز کا مشترکہ پراجیکٹ ہے۔

چاند پر پہنچنے کے لیے ہفتے کیوں لگ گئے؟

خلائی زبان میں چاند زمین سے زیادہ فاصلے پر نہیں اور اکثر مشن کو وہاں تک رسائی کے لیے صرف چند دن لگتے ہیں۔

البتہ بریشیٹ مشن جس کو 22 فروری کو فلوریڈا کے کیپ کینیویرال سے لانچ کیا گیا تھا، اپنی منزل تک پہنچنے میں ہفتے لگ گئے۔

اس سفر میں بریشیٹ کو زمین کے بڑے سے بڑے مدار میں چکر لگا کر آگے بڑھانا پڑا جس کے بعد چاند کی کشش ثقل نے اسے اپنی طرف کھینچا اور وہ چاند کے مدار میں 4 اپریل کو داخل ہوگیا۔

سپیس ایکس

چاند سے اوسطاً فاصلہ 380 ہزار کلومیٹر ہے مگر بریشیٹ نے 15 گناہ زیادہ لمبا سفر کیا اور اس کی بنیادی وجہ مشن میں پیسے کی بچت ہے۔

ایک راکٹ پر اکیلے روانہ ہونے کی بجائے جو اسے چاند تک پہنچا دے، بریشیٹ کو سپیس ایکس فیلکن 9 راکٹ سے لانچ کیا گیا جس میں ایک مواصلاتی سیٹالائٹ کے علاوہ ایک تجرباتی ہوائی جہاز بھی موجود تھا۔

خلائی سفر میں دوسروں کے ساتھ روانہ ہونے کا مطلب تھا کہ اس مشن کو خلاء میں لانچ کرنے کی قیمت کم آئِے گی مگر اس سے خلائی جہاز کو ایک پیچیدہ راستے سے گزرنا پڑا۔

سپیس آئی ایل

جہاز کو لینڈ کرنا کتنا دشوار ثابت ہوا؟

اسرائیلی خلائی جہاز کے لیے چاند کی سطح پر ایک محفوظ اور متوازن لینڈنگ کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔

انجن کو برطانیہ میں تعمیر کیا گیا تھا جسے نامو نامی خلائی طیارہ ساز کمپنی نے ویسٹکوٹ بکنگھم شائر میں بنایا۔ اس انجن کی بدولت خلائی جہاز چاند پر تو پہنچ گیا مگر بریشیٹ کے لیے اترنے کی یہ آخری کوشش ثابت ہوئی۔

1.5 میٹر اونچے اس خلائی جہاز کو بہت تیزی سے اپنی رفتار کم کرنی پڑی تاکہ انجن کی آخری فائرنگ سے بریک لگائی جاسکے اور خلائی جہاز ایک محفوظ لینڈنگ عمل میں لا سکے۔

نامو میں سینئر پروپلژن انجینئر روب ویسٹکوٹ نے لینڈنگ سے قبل کہا کہ ’ہم نے کبھی ایک انجن کو اس طرح استعمال نہیں کیا۔‘

خلائی جہاز نے چاند پر کرنا کیا تھا؟

اس کا پہلا کام تھا کہ وہ ہائی ریزولوشن کیمرا سے تصویریں لیں جس میں ایک سیلفی بھی شامل ہو اور گرنے سے قبل وہ سیلفی لینے میں تو کامیاب ہوگیا۔

اس کے بعد اس جگہ کے مقناطیسی میدان کی پیمائش کی جانی تھی جہاں یہ لینڈ ہوا، اس مقام کو ’میر سیرینٹیٹس‘ کے طور پر جانا جاتا ہے.

چاند کی سطح

بریشیٹ نامی اسرائیلی خلائی جہاز کی گرنے سے پہلے لی گئی آخری تصویر

اوپن یونیورسٹی میں سیارہ اور خلائی سائنس کی پروفیسر مونیکا گریڈی نے کہا کہ ’لینڈنگ کے مقام کا بہت غور سے مشاہدہ کیا جائے گا، یہ ہمیں مدد دے گا کہ چاند کے مقناطیسی میدان کی پیمائش ارضیات اور جغرافیہ میں کیسے بیٹھتی ہے جو چاند کی تشکیل کی بہتر سمجھ بوجھ فراہم کرے گا۔

چاند پر درجہ حرارت کافی زیادہ ہوتا ہے اور جب سورج طلوع ہوا تو شدید گرمی خلائی جہاز کے لیے ایک چیلنج تھی۔

برشیٹ

یہ مشن کتنا اہم تھا؟

60 سال کی خلائی تاریخ میں صرف تین ممالک ہی چاند پر پہنچ پائے ہیں۔

سابق سوویت یونین نے پہلی سافٹ لینڈنگ اپنے خلائی جہاز لونا 9 کے ساتھ سنہ 1966 میں کی۔ ناسا نے اس کے بعد سنہ 1969 میں پہلے انسان کو چاند کی سطح پر پہنچایا۔ چین کے چینج 4 خلائی جہاز نے رواں سال کے ابتدا میں چاند کی سطح پر لینڈ کیا۔

اسرائیل چاند پر جانے والا چوتھا ملک بن جاتا اگر اگر مشن کامیاب ہوجاتا تو۔

البتہ مشن کا کم بجٹ اور اس مشن کو کسی بڑے خلائی ادارے کی طرف سے امداد نہ ملنا اہم ثابت ہوا۔

خلائی جہاز سے لی گئی تصویر

ناسا اور ایسا دونوں نے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بھی نجی خلائی جہاز استعمال کرکے چاند کی سطح پر لینڈ کریں گے۔

چاند

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *