’ریچھ پکڑنے کے لیے پہلے اس کی ماں کو مارا جاتا ہے‘

پاکستان کے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے محکمہ وائلڈ لائف نے ایک ڈرامائی آپریشن میں ریچھ کو بر آمد کرنے کے بعد ریچھوں کے لیے قائم بحالی سینٹر میں بھجوا دیا ہے۔

راولپنڈی ڈویثرن کے محکمہ وائلڈ لائف کی خاتون افسر رضوانہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کو انھیں اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کی جانب سے مدد کے لیے کہا گیا تھا جس کے بعد وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ راولپنڈی کے علاقے کری روڈ پر پہنچے تو وہاں پہلے سے اسلام آباد وائلڈ لائف کے اہلکار موجود تھے جبکہ موقع پر ایک شخص ریچھ کے ہمراہ موجود تھا جس کو ہم نے اپنی تحویل میں لے کر مقامی عدالت میں پیش کیا۔

عدالت نے ریچھ کو وزارت ماحولیات کے زیر اہتمام قائم کردہ ریچھوں کے بحالی مرکز منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے جبکہ گرفتار شخص کو ضمانت پر رہا کر دیا۔

وائلڈ لائف اہلکار

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں گذشتہ دنوں اطلاع ملی کہ اسلام آباد کی حدود میں ریچھ کو لایا جاتا ہے جس پر محکمے کے اہلکاروں نے ان کی تلاش شروع کی۔

ذرائع کے مطابق اہلکاروں کو عدالت حسین نامی شخص کے بارے میں پتہ چلا جسے اپنے اعتماد میں لینے کے لیے محکمے کے اہلکاروں نے ملزم سے ریچھ خریدنے کا سودا چار لاکھ روپیہ میں طے کیا جس پر عدالت حسین نے ریچھ حوالے کرنے اور پیسے وصول کرنے کے لیے راولپنڈی کے علاقے کری روڈ کا انتخاب کیا۔

ذرائع کے مطابق جگہ کا تعین ہونے کے بعد محکمہ وائلڈ لائف راولپنڈی کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا اور ان سے مدد طلب کی گئی۔

جب عدالت حسین ایک گاڑی میں ریچھ لے کر پہنچا تو وائلڈ لائف کے اہلکار جو پہلے سے تیار تھے نے ریچھ کو اپنی تحویل میں لے لیا اور ملزم کو پولیس کی حراست میں دے تھا۔

 

دستاویز

واضح رہے کہ یہ ایک ماہ میں دوسرا موقع ہے جب اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ نے کسی ریچھ کو اپنی تحویل میں لیا اور ملزم کو گرفتار کیا۔

ملزم کی گرفتاری کے وقت کی ایک وڈیو میں عدالت حسین ممکنہ پر وائلڈ لائف اہلکاروں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے بتا رہا تھا 'بر آمد کیا جانے والا ریحھ اس کا اپنا ہے جبکہ تاجی خان کھوکھر نامی شخص کے پاس دو، تین اور ریچھ بھی موجود ہیں۔ تاجی کھوکھر ہمارے خان ہیں۔

ریچھ پر ہاتھ ڈالنا جان جوکھوں کا کام ہے

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمن نے بی بی سی کو بتایا ’ریچھوں کی خرید و فروخت میں منظم مافیا کام کر رہی ہے جو انتہائی طاقت ور اور اثر و رسوخ رکھتی ہے یہاں تک کہ حالیہ پکڑے جانے والے ریچھ سے پہلے جب اسلام آباد سے ایک اور ریچھ پکڑا گیا تو اس وقت ان پر سیاسی طور پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔‘

ڈاکٹر انیس الرحمن کے بقول ’اس ریچھ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے محکمے کے ساتھ بھرپور جنگ لڑی گئی۔ میں بتا نہیں سکتا ہم پر کتنا زیادہ دباؤ ڈالا گیا تھا۔ پکڑے جانے والا ریچھ کو بھی ہمارے حوالے نہیں کیا جا رہا تھا کہ ہم اس کو ریچھوں کے بحالی مرکز میں منتقل کرتے جس کے بعد مجبوری میں ہمیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رٹ پیٹیشن کے ذریعے رجوع کرنا پڑا اور معزز عدالت نے تمام حقائق جاننے کے بعد ریچھ کو بحالی سینٹر میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔‘

ملزم

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم جانتے ہیں کہ حالیہ واقعے اور اس سے پہلے کے واقعے میں ریچھ کے ہمراہ جو لوگ پکڑے گئے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ صرف ملازم ہیں۔ اصل مالک کوئی اور ہوتا ہے۔ ان کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ ریچھ کو گلیوں محلوں میں لے کر گھومتے پھراتے ہیں اور اس کا تماشا دکھا کر پیسے اکھٹے کرتے ہیں اوراس آمدن کا بڑا حصہ اصل مالک کو جاتا ہے۔‘

ڈاکٹر انیس الرحمن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تصدیق شدہ اطلاعات تو نہیں ہیں مگر ہمیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد اور گرد و نواح کے علاقوں میں مزید ریچھ بھی موجود ہیں جن کے حوالے سے کام ہو رہا ہے اور آنے والے چند دونوں کے اندر ہم ان ریچھوں کو بھی پکڑ کر قانون کے مطابق کاروائی کریں گے۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر انیس الرحمن، ماحولیات اور وائلڈ لائف کے لیے کام کرنے والے صوبہ خیبر پختونخوا محکمہ ماحولیات کے سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان رشید اور ممتاز قانون دان ظفر اقبال ایڈووکیٹ کے مطابق ریچھ کو پکڑنا اور پھر اس کو نچانے، تماشا اور کتوں کے ساتھ لڑائی کے لیے تربیت فراہم کرنا سب کچھ انتہائی ظالمانہ اور سفاکانہ ہوتا ہے۔ ریچھ کو پکڑنا صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ نومولود بچہ ہوتا ہے اور پیدائش کے چند دونوں کے بعد جب اس کو ماں لے کر اپنے ٹھکانے سے باہر نکلتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ریچھ کی ماں اپنے بچوں سے انتہائی محبت کرتی ہے اور اس کی دکھ بھال اپنی جان سے بڑھ کر کرتی ہے۔ ماں کی موجودگی میں اس کا بچہ اس سے چھینا نہیں جاسکتا اس لیے بچے کو پکڑنے کے لیے ریچھ کے شکاری پہلے اس کی ماں کو مارتے ہیں اور پھر ریچھ کو پکڑا جاتا ہے۔

ڈاکٹر انیس الرحمن کا کہنا تھا کہ اس میں اب کیا شک ہو سکتا ہے کہ ماں کو مارنے ہی سے نسل کشی شروع ہو جاتی ہے مگر اس کے بعد جو سلوک بچے کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کی اجازت کوئی بھی معاشرہ اور قانون نہیں دے سکتا۔

ان کے بقول ’ریچھ ایک طاقت ور جانور ہے اسی لیے سب سے پہلے اس کے دانت نکالے جاتے ہیں۔ اس کے ناخن انتہائی بے دردی سے زنبور کے ساتھ اکھاڑے جاتے ہیں اور اس کے کان میں بے رحمانہ طریقے سے نکیل ڈالی جاتی ہے تاکہ وہ ہمیشہ قابو میں رہے۔‘

’اس کے بعد تربیت کا عمل شروع ہوتا ہے جس میں اس کو ڈنڈوں کے ساتھ مارا جاتا ہے۔ اس کے تلوے جلائے جاتے ہیں، بھوکا رکھا جاتا ہے۔جس کے بعد اس کو ناچنے، تماشا دکھانے یا کتوں کے ساتھ لڑائی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ‘

نعمان رشید نے بتایا ’ریچھ کی آماج گاہیں وزیرستان کے علاقے سے لے کر گلگت بلستان، کشمیر اور بلوچستان میں پائی جاتی ہیں۔ خیبرپختوںخوا کے علاقوں میں کالا ریچھ پایا جاتا ہے جبکہ انتہائی نایاب بھورا ریچھ گلگت بلستان کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔‘

وائلڈ لائف اہلکار

مختلف اطلاعات کے مطابق سوات میں پایا جانے والا ریچھ انتہائی کم ہوچکا ہے جبکہ اس کی ایک قابل ذکر تعداد مانسہرہ اور کوہستان میں موجود ہیں۔ کوہستان ایک دور دراز علاقہ ہے جہاں پابندی کے باوجود ریچھ کو پکڑنے کی اطلاعات ہیں جس میں زیادہ تر خانہ بندوش اور پھر مقامی لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔

نعمان رشید کے مطابق ’مادہ ریچھ عموماً فروری میں بچے جنم دیتی ہے۔ فروری سے لے کر مارچ تک مادہ اپنے بچوں کو انتہائی محفوظ ٹھکانے پر رکھتی ہے جہاں پر رسائی اس وقت تو کسی بھی حال میں ممکن نہیں ہوتی مگر جب مارچ کا آغاز ہوتا ہے اور سردی کچھ کم ہوتی ہے تو اس وقت مادہ اپنے بچوں کو لے کر باہر نکلتی ہے۔ مارچ کے وہ چند دن ہوتے ہیں جب ریچھ کے بچے کو پکڑا جا سکتا ہے اس کے بعد اس کو عملاً زندہ پکڑنا ناممکن ہوتا ہے‘۔

ظفر اقبال ایڈووکیٹ کا کہنا تھا ’اب تک کی دستیاب اطلاعات کے مطابق اس وقت ریچھ کی خرید و فروخت کے دو بڑے ٹھکانے پشاور اور گوجرانوالہ ہیں۔ جب ریچھ کو مقامی لوگ یا خانہ بدوش پکڑتے ہیں تو وہ عمومی طور پر اس کی بلیک مارکیٹ سے نا واقف ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ان سے مڈل مین رابطہ کرتا ہے جو ان سے 30 سے 50 ہزار روپے میں ریچھ خریدتا ہے جس کے بعد وہ یہ ریچھ پشاور پہنچاتا ہے جہاں اسے گوجرانوالہ پہنچایا جاتا ہے یا اس کو پشاور ہی میں اس دھندے میں ملوث لوگ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے میں خریدتے ہیں۔‘

’اب تک جو اطلاعات ہیں ان کے مطابق گوجرانوالہ ہی میں اس کی بڑی خفیہ منڈی سجتی ہے۔ وہاں ہی پر ریچھ کے دانت نکالے اور ناخن اکھڑے جاتے ہیں اور گوجرانوالہ ہی میں اس کے ایسے مراکز ہیں جہاں پر اسے تربیت دی جاتی ہے جس کے بعد اس کی قیمت دو سے لیکر چار لاکھ اور بعض اوقات اس سے بھی زیادہ تک پہنچ جاتی ہے۔ وہاں سے اس کو پھر پورے ملک میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ‘

وائلڈ لائف اہلکار

پاکستان میں ریچھ کی صورت حال

نعمان رشید نے بتایا ’حکومت پاکستان نے سنہ 2004 میں وائلڈ لائف پر ایک بین الاقوامی سروے منعقد کروایا تھا جس میں ریچھ کو انتہائی خطرے کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ سنہ 2012 کی ایک اور بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھورے ریچھ کی تعداد 200 جبکہ کالے ریچھ کی تعداد 450 کے لگ بھک ہوسکتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2004 میں سروے کے بعد اس صورت حال کا تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ دیگر ماحولیاتی عوامل کے علاوہ ریچھ کی کتوں سے لڑائی اور ناچ تماشا کے لیے استعمال بھی بڑا خطرہ ہے۔ جس کے بعد ریچھ اور کتوں کی لڑائی پرایک مربوط پالیسی بنائی گئی جس میں جو آخری لڑائی رپورٹ ہوئی وہ سنہ 2014 میں ہوئی تھی اس کے بعد اب تک ایسی کوئی لڑائی رپورٹ نہیں ہوئی تاہم خفیہ طور پر کی جانے والی ایسی سرگرمیوں کے امکانات موجود ہیں۔

نعمان رشید کے مطابق ’ناچنے اور تماشا دکھانے والے ریچھوں کے خلاف سب سے پہلے سنہ 2002 میں صوبہ خیبر پختونخوا میں کاروائی ہوئی اور اس حوالے سے قانون بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں اب تک ایسی سرگرمی سامنے نہیں آئی ہے۔ سنہ 2005 میں ایسا ہی قانون بلوچستان میں پاس ہوا جس کے بعد اس دھندے میں ملوث لوگ سندھ پہنچ گئے تھے جن کے خلاف سندھ میں وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت تو کارروائیاں ہوتیں تھیں مگر صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی طرح قانون نہیں تھا تاہم سنہ 2015 میں سندھ میں بھی ریچھ کو رکھنے، نچانے، تماشا دکھانے وغیرہ میں استعمال کرنے کو جرم قرار دے دیا گیا تھا اور وہاں پر بھی کاروائیاں ہوئیں تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں اطلاعات کے مطابق ایسے پانچ ریچھ موجود ہیں جن میں سے ایک کو سنہ 2015 میں پکڑا گیا تھا جس میں سے دو اسی ماہ میں پکڑے گئے ہیں جبکہ دو ابھی بھی خفیہ مقام پر موجود ہیں۔

نعمان رشید نے بتایا کہ پنجاب اس وقت واحد صوبہ ہے جہاں پر ریچھ کے ناچ تماشا دکھانے پر پابندی کا کوئی خصوصی قانون موجود نہیں ہے اور جس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

’پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف جو کارروائی کرتا بھی ہے وہ وائلڈ لائف ایکٹ اور انگریز کے بنے ہوئے دور کے قانون اینمل کریولوٹی ایکٹ کے تحت کرتے ہیں جو جاندار نہیں ہے بلکہ انتہائی کمزور ہے یہہی وجہ ہے کہ اس وقت پنجاب بھر میں 116 ریچھ ایسے ہیں جو ناچ تماشا دکھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔‘

ظفر اقبال ایڈووکیٹ نے بتایا ’پنجاب میں ریچھ کے ناچ تماشا دکھانے کے حوالے سے خصوصی قانون اس وقت پنجاب کابینہ کی منظوری کا منتظر ہے جس کے بعد اس کو اسمبلی میں پیش کیا جانا ہے۔ سب لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ پنجاب کابینہ کب اس قانون اس کی منظوری دیتی ہے تاکہ یہ اسمبلی میں پیش ہو سکے۔

’پنجاب میں جو 116 ریچھ موجود ہیں ان کو مائیکرو چپ کر دیا گیا ہے اور ان کی نقل و حرکت محدود ہے۔ اب صرف انتظار اس بات کا ہے کہ صوبائی حکومت باقی صوبوں کی طرح خصوصی قانون پاس کرائے اور محکمہ وائلڈ لائف ان کو بازیاب کروائے۔‘

واضح رہے کہ ریچھ اور کتوں کی لڑائی پر پابندی کاقانون سنہ 2001 میں اس وقت کے صدر مشرف نے خصوصی آرڈنیس کے ذریعے جاری کیا تھا جو کہ پورے ملک میں مکمل طور پر نافذ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *