جلیانوالہ اور جناح

13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا اندوہ ناک واقعہ پیش آیا جس کو آج 100 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس موقع پر قائد اعظم نے سیکرٹری آف سٹیٹ ایڈون مونٹیگو کو مندرجہ ذیل الفاظ میں ایک احتجاجی مراسلہ بھیجا:

اس سے قبل کے دیر ہو جائے، کونسل اس  اہم معاملے میں بھارتی عوام کے جذبات کی طرف انڈیا کے سیکرٹری آف سٹیٹ کی توجہ دلانا چاہتی ہے۔ عوام اس وقت تک مطمئن نہیں ہو گی جب تک پنجاب پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والوں کے کے خلاف انصاف کےتقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ کونسل کا مطالبہ ہے کہ ایچ ایم کے سیکرٹری آف سٹیٹ آف انڈیا پنجاب انکوائیر کمیٹی کی سفارشات پر بھر پور طریقے سے عمل کو یقینی بنائے گی جو انڈین نیشنل کانگریس اور آفیشنل ہنٹر کمیٹی نے ملکر تیار کی ہے۔ کونسل امید کرتی ہے کہ ظلم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف اس قدر سخت ایکشن لیا جائے کہ دوبارہ کوئی ایسے ایکشن کی ہمت نہ کر پائے۔ کولکتہ میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ سیشن کی صدارت کرتے ہوئے محمد علی جناح نے 7 ستمبر 1930 کو ایک اہم تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

ہم صرف عوام کی حقیقی سیاسی آزادی چاہتے ہیں اور ہمیں عہدوں اور سرکاری نوکریوں سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری بات، کونسل کے سامنے رولٹ ایکٹ پاس ہونے میں جو جلد بازی دکھائی گئی اور رائے عامہ کے بر عکس ایسا کیا گیا اس سے حکومتی پالیسی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اور جب پنجاب میں رولٹ ایکٹ کے خلاف عالمگیر اپوزیشن نے آئینی طریقے سے اپنی طاقت دکھائی تو لیوٹیننٹ گورنر نے بد دیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سر عام بغاوت قرار دیا۔

ان کے انتظامی طریقہ کار کو دیکھ کر ہی سر عام بغاوت کے نظریہ کو پہچانا جا سکتا تھا۔ مارشل لاء لگا دیا گیا جس طریقے اور حالات میں یہ لگایا گیا اس سے نہ صرف پنجاب بلکہ بھارت بھر کے لوگوں کی سیاسی آزادی، سیاسی زندگی، سلب کر لی گئی تھی اور لوگوں کے دلوں میں خوف بھر دیا گیا تھا۔

ہنٹر کمیٹی کی اکثریتی رپورٹ ایک اور ایسی بھدی اور افسوسناک چیز ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انگریز اور انڈین کے بیچ جھگڑا میں کبھی انصاف نہیں ہو سکتا۔ بھارتی حکومت اپنے حسن مزاح اور شرمیلے پن کی خوبیوں کی بدولت ایک قرارداد سیکرٹری آف سٹیٹ کو بھیج رہی  ہے لیکن یہ بھول رہی ہے کہ وہ خود ایک ملزم ہے جس کو فیصلہ کرنے کا حق دیا جا رہا ہے۔ اب فیصلے کی اس بڑی غطلی کی طرف توجہ دیں۔ جس کابینہ نے یہ رپورٹ تیار کی ہے وہ خود ایک فیصلے کا مذاق ہے  اور یہ بات ہمیں روئیٹرز نے پہلے ہی بتا دی تھی۔ اس کے فالو اپ واقعات کو دیکھتے ہوئے میں اس پارلیمانی مباحثہ  کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس میں پنجاب کو بھلا کر جنرل دیار کو ڈسکس کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر مونٹیگو  کے پاس بھارت کا مقدمہ ہاوس کے سامنے پیش کرنے کا وقت نہیں تھا  لیکن ذاتی بہانے اور وضاحتیں پیش کرنے کا بہت وقت تھا۔ اور پھر انگلینڈ کی طرف سے لارڈ فنلے نام کے انقلاب کا ظہور ممکن ہوا۔

اور پھر گولڈن بوسپورس کی مقدس زمین کے ساتھ کیا ہوا؟ اس کا خلیفہ قیدی بن کر رہ گیا اور اس کے علاقے متحدہ افواج کے قبضہ میں چلے گئے اور پھر ایسے ایسے معاملات ہوئے جو بلکل ناممکن دکھائی دیے۔ یہ معاہدہ نہیں ڈیتھ وارنٹ ہے۔ یہ ایسے واقعات ہیں جو چیخ چیخ کر ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں اور ہم ایک خطرناک اور تباہ کن صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کا حل آسان نہیں ہے اور مشکلات بہت کڑی ہیں۔ لیکن میں عوام کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہر نا انصافی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جائیں۔ لیکن میں حکومت کو یہ کہوں گا کہ بھارتی عوام کو مایوس نہ کرے ورنہ عوام کے پاس عدم تعاون کے اعلان کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہے گا اگرچہ فی الحال گاندھی کا ایسا اعلان کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

دسمبر 1920 کے ناگپور میں ہونے والے مشہور کانگریس سیشن میں محمد علی جناح نے کہا: میں اس اسمبلی میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ خونریزی کے بغیر آزادی کا حصول کبھی ممکن نہیں ہو گا۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو خونریزی کے بغیر آزادی نہیں ملے گی تو میرا ماننا ہے کہ آپ لوگ سب سے بڑی غلطی کر رہے ہو۔ اس لیے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ ایک ایسا معاہدہ کر رہے ہو  جس کو نبھانے کے لیے تمہارے پاس ذرائع اور وسائل موجود نہیں ہیں۔

انہوں نے تبھی کانگریس چھوڑ دی اور کبھی اس پارٹی میں واپس نہ آئے۔

1919میں جلیانوالہ باغ میں ہونے والی خونریزی نے بھارت کی آزادی کی مہم کو ایک نئی جہت عطا کی۔ بدنام زمانہ رالٹ سکیم نے ابتدائی راہ ہموار کی، نہ کوئی وکیل تھا نہ اپیل اور نہ ہی دلیل۔ محمد علی جناح کی زبان زیاد مضبوط ہوتی گئی۔

یہ پوزیشن لے کر محمد علی جناح نہ صرف موجودہ مسئلے پر ایک واضح موقف اپنایا بلکہ مستقبل کے لیے ایک بڑے ویژن کی طرف بھی واضح اشارہ دے دیا۔ جلیانوالہ باغ کا واقعہ برطانوی تسلط کے اختتام کا ایک واضح استعارہ تھا۔ برصغیر کی تاریخ، ثقافت اور مذہب میں پاکستان اور بھارت بہت سے معاملات میں بہت مماثلت رکھتے ہیں۔ لازمی ہے کہ دونوں ممالک جلیانوالہ باغ جیسے واقعات کی یاد منائیں اور بھگت سنگھ جیسے ہیروز کو مشترکہ طور پر خراج تحسین پیش کریں۔

جلیانوالہ اور جناح” پر ایک تبصرہ

  • اپریل 15, 2019 at 2:34 PM
    Permalink

    سانحہ جیلیانوالہ پر برطانوی ملکہ, وزیراعظم,اور آرمی چیف کو مسلمانوں سکھوں اور ہندوؤں سے معافی مانگے کہ کہ برطانوی چہرے پر لگا غلیظ ترین اور ظلم و بربریت کا داغ کچھ ہلکا ہو جائے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *