مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )
روزنامہ 92نیوز
ارشاداحمد عارف کاکالم
مگر ارشاد صاحب کو یہ عارفانہ بات کس نے بتائی؟
روزنامہ 92نیوز میں جناب ارشاد احمد عارف کا تازہ کالم سامنے ہے۔ ’’عجلت یا حماقت‘‘؟ فاضل کالم نگار روزنامہ92کے گروپ ایڈیٹر بھی ہیں۔ فرما تے ہیں:
’’ جلد باز تو انسان واقع ہوا ہے، پر اتنابھی نہیں جتنی جلدی پاکستان میں بسنے والے اشرف المخلوقات کو ہے۔۔۔ہر ایک کی شدید خواہش ہے کہ ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں اور ماضی کے حکمران جو کچھ تین تین چار چار باریاں لے کر نہ کرسکے، عمران خان وہ آٹھ ماہ میں کردکھائیں ، ورنہ گھر جائیں‘‘۔ (آپ سے یہ کس نے کہا، کہ ’’پاکستان میں بسنے والے اشرف المخلوقات‘‘ صرف8ماہ میں دودھ اور شہد کی نہروں کی خواہش میں مرے جارہے ہیں؟ لیکن کیا یہ خواہش بھی حماقت ہے کہ ان کے بچوں کے منہ سے کم از کم وہ نوالا تو نہ چھینا جائے، جو خان صاحب کی تبدیلی والی سرکار سے پہلے ان کے بچوں کو حاصل تھا اور ماشاء اللہ پیٹ بھر کر حاصل تھا۔ ویسے خود خان صاحب نے کچھ کاموں کے لیے100دن کی مہلت مانگی تھی(جمہوری معاشروں میں اسے نئی حکومت کا ہنی مون پریڈ کہتے ہیں) اس کے بعد مسلح افواج کے ترجمان نے 6ماہ مزید انتظار کی تلقین کی۔ یہ 6ماہ بھی گزرنے کو ہیں اور حالات ہیں کہ بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ ۔۔ فاضل کالم نگار ، جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور صوبہ جنوبی پنجاب کے بھرپور حامی ہیں۔ خان صاحب نے یہ ’’کار خیر‘‘ بھی ابتدائی100دنوں میں کر گزرنے کا اعلان کیا تھا)کیا موجودہ حکومت بھی نوٹ چھاپ کر، آئی ایم ایف سے قرض لیکر اور دوستوں سے ادھار مانگ کر زرتلافی (سبسڈی )کے ذریعے بجلی ، گیس اور پٹرول قیمت خرید سے کم، بلکہ نرخوں پر فروخت کرنے کا اہتمام کرتی؟ لیکن آپ کی چہیتی حکومت بھی گزشتہ آٹھ ماہ سے نوٹ چھاپ کر اور دوستوں سے ادھار مانگ کر کام چلا رہی ہے(آئی ایم ایف سے قرضے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں) لیکن اس کے باوجود بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ یہ سوال بھی بے جانہیں کہ فاضل کالم نگار کے خیال میں کیا ریاست اور شہریوں کا تعلق دوکاندار اور خریدار کا ہوتا ہے یا ریاست، اپنے شہریوں کے لیے مہربان ماں کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور کالم نگار کے ممدوح خان صاحب تو ’’ریاست مدینہ‘ ‘ کے علمبردار ہیں۔ 
پاکستان کے ’’اشرف المخلوقات‘‘ کو عجلت یا حماقت کا طعنہ دینے کے بعد کالم نگار موصوف کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ’’غلطی کچھ نہ کچھ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی بھی ہے۔ عوامی توقعات بڑھانے کے بعد انہیں جس مستعدی، چابکدستی اور تیز رفتاری سے کام کرنے کی ضرورت تھی، وہ نہ کرپائے۔ بہتر ٹیم کی سلیکشن میں ٹھوکر کھائی اور میڈیا کو خوامخواہ دشمن بنا لیا۔۔۔عام شہری تو ستم رسیدہ ہے۔ صبح سے شام تک رزقِ حلال کی تلاش میں سرگرداں اور غربت وافلاس کی حقیقی وجوہات سے لاعلم۔۔۔مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی نے ملک کو گورننس کے قابل نہیں چھوڑا۔ میاں نوازشریف اور اسحاق ڈار نجی محفلوں میں بتاتے تھے کہ ہمارے بعد کوئی پاکستان کو چلا نہیں پائے گا۔‘‘ہم پیپلز پارٹی کی بات نہیں کرتے لیکن مسلم لیگ (ن) کے بارے میں بھی کیا یہ بات دیانتدارانہ ہے کہ اس نے ملک کو گورننس کے قابل نہیں چھوڑا۔یہ جو نوازشریف کے دور میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن وامان بحال ہوا۔ سی پیک منصوبوں پر تیزرفتار عملدرآمد، گوادر گاہ کی بندرگاہ پر نقل وحمل کا آغاز۔۔۔ بجلی کے بحران کا خاتمہ ، سٹاک ایکسچینج کا 58ہزار پوائنٹس تک پہنچ جانا، 5.8فیصد گروتھ ریٹ (جسے اگلے سال 6.2تک پہنچ جانا تھا) ملک میں موٹر وے کا جال۔۔۔عبدالحکیم والی موٹوے نے تو فاضل کالم نگار کے لیے بھی لاہور سے ملتان کا فاصلہ پانچ ، ساڑھے پانچ گھنٹے سے کم کرکے سواتین گھنٹے کردیا ہے اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوا کہ وزیر اعظم نوازشریف کو اپنی چار سالہ وزارتِ عظمیٰ میں ایک دن بھی سکون کا نصیب نہ ہوا۔ اقتدارکے اگلے ہی سال دھرنے، پھر پانامہ کا ہنگامہ۔۔۔شاہد خاقان عباسی کے دس ماہ بھی سیاسی بے یقینی کے باوجود ، ایسے برے نہ تھے۔ وہ نوازشریف کا نہیں تو کونسا پاکستان تھا، جسے دنیا بھر کے مالیاتی ادارے، معاشی ماہرین اور اقتصادی تجزیہ کار ’’ایمرجنگ اکانومی‘‘ قرار دے رہے تھے؟۔۔۔میاں نوازشریف اور اسحاق ڈار کن محفلوں میں کہا کرتے تھے کہ ’’ہمارے بعد کوئی پاکستان کو چلا نہیں پائے گا‘‘ ممکن ہے، فاضل کالم نگا رکے کان میں کسی ’’افواہ ساز‘‘ نے یہ بات ڈال دی ہو ۔ ایسے میں کیا ان کا یہ فرض نہ تھا کہ وہ اس کی تحقیق کرلیتے۔ حضورﷺ کی حدیث ہے، کسی شخص کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق) آ گے پھیلادے۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *