فلپائن کی ایک غار میں نوعِ انسان کی نئی قسم دریافت

ہمارے یعنی بنی نوع انسان کے شجرے میں اضافہ ہو گیا ہے۔ فلپائن میں انسانوں کی ایک ناپيد نوع دریافت ہوئی ہے۔

اس ملک کے سب سے بڑے جزیرے لوزون پر پائے جانے کے بعد ان کا نام بھی ھومو لوزونینسِس رکھ دیا گیا ہے۔

اس کے جسمانی نقوش ہمارے قدیم آباوٴ اجداد اور حالیہ انسانوں کا امتزاج معلوم ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ابتدائی انسانی رشتے دار افریقہ سے نکل کر جنوب مشرقی ایشیا تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جو کہ اس سے پہلے ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

ان تحقیقات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے میں انسانی ارتقا ایک پیچیدہ معاملہ تھا اور یہاں ہمارے آباوٴ اجداد کی آمد کے وقت شاید تین یا اس سے بھی زیادہ انواع موجود تھیں۔

ان میں سے ایک نوع ھومو فلورے سینسِس ہے جس کو ہم ’ھوبِٹ‘ کے نام سے بھی جانتے ہیں، جو انڈونیشیا کے فلوریس جزیرے پر 50،000 سال پہلے تک پائے جاتے تھے۔

لندن میں نیچرل ہسٹری میوزیم کے پروفیسر کرس سٹرنگر کا کہنا ہے ’ھومو فلورے سینسِس کی 2004 میں نادر دريافت کے بعد میں نے کہا تھا کہ فلورس میں انسانی ارتقا کا یہ تجربہ شاید اس علاقے کہ دیگر جزائر پر بھی دہرایا گیا ہو‘۔

’اس اندازے کی تصدیق 3،000 کلومیٹر دور لوزون کے جزیرے پر ہوئی۔‘

شمالی لوزون کے کلاؤ غار میں پائے جانے والے ان نمونوں کی ’نیچر‘ نامی جریدے میں تفصیل ہے۔ ان کی عمر تقریباً 50،000 سے 67،000 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

اس میں کم از کم تین بالغوں اور بچوں کی 13 باقیات دریافت ہوئی ہیں، جن میں دانت، ہاتھ اور پاؤں شامل ہیں۔ ان کو 2007 سے جاری کھدائی میں ایک غار سے نکالا گیا ہے۔

ھومو فلورے سینسِس کی جدید دور کے انسانوں سے کچھ جسمانی مماثلات ہیں۔ لیکن باقی نقوش آسٹرالو پائتھاسینز کی مانند ہیں، جو کہ افریقہ میں 20 سے 40 لاکھ سال پہلے رہنے والی، عمودی انداز سے چلنے والی بن مانس نما مخلوق تھی۔

انگلی اور انگوٹھے کی ہڈیاں مڑی ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چڑھائی پر چڑھنا اس نوع کے لیے ضروری تھا۔ آسٹرالو پائتھاسینز کی کچھ اقسام میں بھی یہی دیکھا گیا ہے۔

انگلی

انگلی اور انگوٹھے کی ہڈیاں مڑی ہوئی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چڑھائی کرنا اس نوع کے لیے ضروری تھا

اگر آسٹرالو پائتھاسینز نما انواع جنوب مشرق ایشیا تک پہنچ سکی تھیں تو اس سے ہمارا افریقہ سے انسانوں کے نکلنے کا نظریہ بدل سکتا ہے۔

بہت عرصے سے یہ خیال تھا کہ انسانی سلسلے میں افریقہ سے پہلے ھومو اریکٹس نے تقریباً 19 لاکھ سال پہلے ہجرت کی تھی۔

اور کیونکہ لوزون تک صرف سمندر کے راستے پہنچا جا سکتا ہے، اس سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ قبل از انسان مخلوق اس جزیرے تک پہنچی کیسے۔

ھومو لوزونینسِس کے ساتھ ساتھ اس جزیرے پر ڈینی سؤونز نامی ایک اور مخلوق نے بھی گھر بسایا تھا، جنھوں نے ہمارے آباؤ اجداد کے آنے پر ان سے ملاپ کیا۔

ڈی این اے کا مشاہدہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اس خطے میں ڈینی سؤونز کے کوئی آثار نہیں ملے۔

غار

شمالی لوزون کے کلاؤ غار میں پائے جانے والے ان نمونوں کی عمر تقریباً 50،000 سے 67،000 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہے

خیال ہے کہ انڈونیشیا کے فلورس جزیرے پر پائے جانے والے ’ھوبِٹس‘ یا ھومو فلورے سینسِس کی تاریخ کوئی 50،000 سے 100،000 سال پرانی ہے، جس کا مطلب ہے کہ شاید ان کا جدید انسانوں سے واسطہ پڑا ہو۔

سائنس دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ھومو فلورے سینسِس اور آسٹرالو پائتھاسینز کے جسمانی نقوش آپس میں ملتے ہیں۔ لیکن محققین کا کہنا ہے کہ ھوبٹس ھومو اریکٹس سے ہی آئے تھے لیکن ان کے کئی اعضاﺀ نے وقت کے ساتھ پھر سے ابتدائی شکل اختیار کر لی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *