عبدالقادر حسن اور۔۔۔’’دونوں بھائی‘‘

نوٹ: دنیا پاکستان کا یہ نیا سلسلہ قارئین کے پر زور اصرار پر شروع کیا گیا ہے۔ ہمارے بہت سے کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں۔ اکثر اوقات کالم نگار خواتین و حضرات کے کالم پڑھتے ہوئے باشعور قارئین کے ذہن میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں یا دوسرا نقطہ نظر ذہن میں آتا ہے۔ ہم وہی سوالات یا فیڈ بیک یا درست حقائق سرخ روشنائی میں درج کر رہے ہیں۔ تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آسکے۔ اختلاف رائے اور متنوع آرا معاشرے کا حسن ہیں اور مکالمہ معاشرے کی ترقی کی علامت ہے۔ ( ایڈیٹر )

 

جناب عبدالقادرحسن کا شمار پاکستان کے بزرگ ترین اخبار نویسوں میں ہوتا ہے۔ انہیں جدید’’سیاسی کالم نگاری‘‘کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں اپنے متعلق یہ دلچسپ انکشاف فرمایا کہ ان کا اصل نام ملک قادر بخش ہے۔ وہ تو جب1960ء کی دہائی کے اوائل میں اپنے گاؤں (وادی سون سکیسرسرگودھا)سے لاہور آئے اور یہاں جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی کی مجالس میں آنا جانا شروع کیا(ان کے بڑے بھائی اپنے علاقے میں جماعت کے اوّلین کارکنوں میں شامل تھے)تو سید مسعود عالم ندوی کے مشورے پر قادر بخش سے عبدالقادر حسن ہوگئے لیکن سرکاری دستاویزات میں وہ اب بھی ’’قادر بخش ‘‘ ہی ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ادوار میں نوائے وقت میں معرکہ آراسیاسی رپورٹنگ کی۔پھر اپنا ہفت روزہ ’’ افریشیا‘‘نکالا۔ضیاء الحق کے دور میں روزنامہ امروز کے چیف ایڈیٹر بھی بنے ۔برسوں ’’جنگ‘ ‘ میں بھی کالم نگاری کی۔ اب عرصہ دراز سے ایکسپریس میں کالم لکھ رہے ہیں۔ میاں نوازشریف کے ابتدائی دنوں ادوار میں وہ ان کے قریبی حلقے میں شمار ہوتے تھے۔ گزشتہ تین ، چار سال میں عمران خان اور تحریک انصاف سے ملک وملت کی بھلائی کی امیدیں وابستہ کرلیں اور وقتاً فوقتاً ’’میاں برادران‘‘ پر جرح وتنقید کے نشتر چلاتے نظر آتے ہیں۔ ’’دنوں بھائی‘‘ کے زیر عنوان ان کا تازہ کالم زیر نظر ہے۔ اس میں میاں برادران کے ساتھ محبت کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں اور ’’پیار بھرا شکوہ بھی:۔۔
’’میاں نوازشریف اور پیپلز پارٹی کے درمیان اقتدار کی جنگ جاری رہی اور آخری بار میاں نوازشریف پیپلز پارٹی کے اقتدار کا پانچ سالہ دور مکمل کرانے کے بعد اقتدار میں آئے توپاکستانی مزاج رکھنے والوں نے ان کا پرُجوش خیر مقدم کیا(میاں صاحب نے پیپلز پارٹی کے اقتدار کا پانچ سالہ دور اسلیے مکمل ہونے دیا کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان میں منتخب حکومتوں کا آئینی عرصہ اقتدار مکمل ہونے کی روایت قائم ہو۔ اس دوران عوام انہیں اچھی طرح جانچ پرکھ لیں اور برسرِ اقتدار سیاسی جماعت کو یہ کہہ کر مظلوم بننے کا موقع نہ ملے کہ اسے پانچ سال مکمل نہیں کرنے دےئے گئے، ورنہ وہ ملک میں دود ھ اور شہد کی نہریں بہا دیتے)
میاں صاحب کے اقتدار کے پہلے دونوں ادوار سے کچھ زیادہ تلخ یادیں وابستہ نہیں تھیں کہ ان کو تیسری بار ناپسندکیا جاتا۔ ۔۔ تیسری بار اقتدار میں آنے کے بعد میاں صاحب ان دوستوں کے نرغے میں آگئے جو انہیں ملک کے ’’مقتدرحلقوں ‘‘کے ساتھ ٹکر لینے کا مشورہ دیتے رہے۔ فاضل کالم نگار یہاں یہ اعتراف کئے بغیر بھی نہ رہے کہ میاں صاحب نے کئی ایسے کام بھی کئے ، جو بالکل غیر روایتی، جارحانہ اور انقلابی تھے۔ مثلاً ان کے پہلے دور میں سندھ کے ہاریوں میں زمین تقسیم کرنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ملک میں موٹرویز اور چائنا پاکستان راہداری بھی کوئی معمولی منصوبے نہیں تھے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے تینوں زمانوں میں بڑے بڑے کام کرنے کی کوشش کی۔ بنیادی اور دیر پا بھلائی کے کئی دوسرے کام بھی کئے۔ (ملک کے ’’مقدر حلقوں‘‘سے ٹکر لینے والی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ ویسے تو جمہوری معاشروں میں ’’مقتدر‘‘ وہی ہوتا ہے جو عوام کے ووٹوں سے برسرِ اقتدار آتا ہے۔ باقی تمام اداروں کا کردار (آئینی طور پر)’’ماتحت‘‘ (Subordinate)کا ہوتا ہے۔ تاہم اپنے ہاں’’مقتدر حلقوں‘‘کا مفہوم کچھ اور ہے۔ کیا جنرل پرویز مشرف جسے خودسپریم کورٹ جولائی2009کے فیصلے میں آرٹیکل 6کی پامالی کا مرتکب قرار دے چکی تھی، اس پر مقدمہ چلانا مقتدر حلقوں سے ٹکر قرار پائے گا؟)
میاں نوازشریف اور ان کے ماضی کی سیاسی حریف پیپلز پارٹی میں بنیادی فرق پاکستانیت کا تھا جو میاں صاحب نے اپنی ذاتی خواہشوں پر قربان کردیا اور عوام کے دلوں میں ان کی بھارت نوازی چھیدکرگئی۔۔۔ میاں نوازشریف بہت بدل گئے۔ ان کی یہ تبدیلی بھارت نواز بیانات اورا مودی کی مہمان نوازی سے ہر پاکستانی پرظاہر ہوگئی۔(بھارت نوازی اور مودی کی مہمان نوازی والی بات’’دلچسپ‘‘ ہے۔ تیسری وزارتِ عظمیٰ کے دوران ، ستمبر2013میں یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں انہوں نے کشمیر پر بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ یہاں تک کہ اگلے روز وزیر اعظم من موہن سنگھ سے چائے پر ہونے والی ملاقات خطرے میں پڑ گئی۔۔۔مودی کی تقریب حلف وفاداری میں نوازشریف کے علاوہ سارک کے دیگر سربراہ بھی موجود تھے۔ یہ سب مودی کی دعوت پر گئے تھے۔ ایسے میں پاکستان کا روٹھ کر گھر بیٹھ رہنا،کیا خطے میں سفارتی تنہائی کے مترادف نہ ہوتا؟ دسمبر2015میں مریم نواز کی بیٹی کی شادی (اور میاں صاحب کی سالگرہ) پر مودی کو کسی نے دعوت نہیں دی تھی، وہ کابل سے دہلی جاتے ہوئے بن بلائے لاہور میں مہمان بن گیاجس پر اسے خود اپنے ملک میں شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا۔۔۔’’مودی کا یار‘‘ کے طعنوں کو پاکستانی عوام نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ورنہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں’’مودی کے یار‘‘ کو دوتہائی اکثریت نہ ملتی۔ تب مودی بن بلائے جاتی امرا چلا آیا تھا۔ اب ہم فون پر فون کرتے ہیں وہ کال سننے کی زحمت بھی نہیں کرتا۔)
آخر میں بزرگ کالم نویس کے حسرت بھرے الفاظ:۔
’’میں نے کئی بار لکھا ہے کہ میاں نوازشریف ذاتی طور پر ایک اچھے انسان ہیں۔ ان کی آنکھوں میں حیا، ہمدردی ہے، خوشگوار طبیعت کے مالک ہیں۔ ان کے بھائی میاں شہبازشریف کی کارکردگی کابھی ہر کوئی معترف ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم تو انہیں ہونا چاہیے تھا (جی ہاں! یہ دانہ غلام اسحاق خاں نے بھی ڈالا، پرویز مشرف نے بھی اور بعد میں آنے والوں نے بھی، لیکن شہبازشریف نے اسے چُگنے سے انکار کردیا۔ چھوٹا بھائی، بڑے بھائی سے بے وفائی پر آمادہ نہ تھا) دونوں بھائیوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ ایک اچھی جوڑی تھی۔ اگر دونوں بھائیوں میں خرابیاں تھیں تو خوبیاں بھی بہت تھیں۔ عوام کی خواہش تھی کہ میاں صاحب کی حکومت کا تسلسل برقرار رہتا(عوام کی یہ خواہش تشنۂ تکمیل کیوں رہی؟)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *