پاکستانی معاشرے کا ایک روشن پہلو

عرفان حسین Irfan Hussain

پاکستان۔۔۔۔ اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ اگر چہ ہم ''جی این آئی‘‘(گراس نیشنل انکم۔۔۔ مجموعی قومی آمدنی) کے حوالے سے دنیا میں ایک سو پانچویں نمبر پر ہیں لیکن فی کس آمدنی کے لحاظ سے خیراتی اور فلاحی کاموں میں حصہ لینے والے ممالک میں ہمارا چوتھا نمبر ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے ملک میں غیر منافع بخش بنیادوں پر چلائی جانے والی کم وبیش 45,000 فلاحی تنظیمیںکام کررہی ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک کے لاکھوں شہریوںکی زندگی میں تھوڑی بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی ہی تنظیموں میں سے ایک رشید میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن ہے جو حیدرآباد سے پینتیس کلومیٹردور، میرپورخاص کی طرف قائم کی گئی ہے۔
میں نے چند ماہ پہلے ایک دوست، جو وہاں کام کرتا تھا، کے اصرار پر زیریں سندھ کے علاقے، جو آموں کی پیداوار کے لیے مشہور ہے، میں اس تنظیم کے منصوبے، رشید آباد کا دورہ کیا۔ پاکستان ریلوے کے سابق جنرل منیجر، اقبال صمد نے اپنی بیوی کے ساتھ اس علاقے کو اپنا گھر بنالیا ہے۔ جب میں دیوار میں گھرے اس ٹائون شپ میں داخل ہوا، تو یہاں صفائی کو دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ کہیں کاغذ کا کوئی ٹکڑا یا پلاسٹک بیگ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ یہ صورت ِحال ہمارے ہاں عوامی مقامات کے برعکس تھی۔ اس سے پتہ چلتا تھا کہ کسی نے خصوصی توجہ سے یہ صفائی ممکن بنائی ہے۔ مجھے جگہ کا دورہ کراتے ہوئے اقبال صاحب نے سکول کے بچوں کے سامنے جھک کر زمین پر گرا ہوا ایک کاغذ کا ٹکڑا اٹھایا جو غالباً کسی ٹافی کاریپر تھا۔ اس عمل میں اُنھوں نے مطلق شرم محسوس نہ کی۔
یہ منصوبہ ریٹائرڈ ایئرکموڈور شبیر احمد خان کی ذہنی اختراع ہے۔ کموڈور صاحب کا بیٹا فلائیٹ لیفٹیننٹ رشید ایک افسوس ناک فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔ اُس دل خراش صدمے کو برداشت کرنے کے بعد سے شبیر احمد خاں صاحب نے اپنے بیٹے کی یادمیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نوے کی دہائی میں رشید میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن (آر ایم ڈبلیو او) قائم کی۔ اس کے قیام سے لے کر اب تک وہ 1.6 بلین روپے (ایک سو پچاس ملین ڈالر)جمع کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے رفتہ رفتہ سو ایکٹر زمین خریدی اور پھرجب ان کو ملنے والے عطیات میں اضافہ ہوا، اُنھوں نے اس کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنا شروع کردیا۔ رشید میموریل ویلفیئر آرگنائزیشن ایک سادہ سی تنظیم ہے۔ اس کے زیر ِ اہتمام قائم ہونے والی عمارتیں تعلیم، صحت، ماحول اور سماجی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے وقف ہیں۔ اسی طرح کئی ایک مشہور تنظیموں، جیسا کہ شہری فائونڈیشن اور لیتون رحمت اﷲ ٹرسٹ(Layton Rehmatullah Trust)نے ان منصوبوں میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا۔ یہاں سٹاف کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔ صاف ستھرے ماحول میں رشید آباد میں رہنا ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ اس منصوبے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس کی عمارت کی ڈیزائننگ شہرت یافتہ ماہرین ِ تعمیرات نے بلامعاوضہ کی ہے۔
یہاں فیملی ایجوکیشنل سروسز فائونڈیشن قوت ِ سماعت سے محروم بچوں کے لیے ایک سکول چلار ہی ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تومجھے بیسیوں بچے دکھائی دیے ۔ اُس وقت اُن کی تفریح کا وقت تھا اور اُنھوں نے مجھے دیکھ کر خوشی سے ہاتھ ہلائے۔ان کے ٹیچر نے اُن سے ہاتھ کے اشاروںسے گفتگو کی اور مجھے تمام سکول کا دورہ کرایا۔ میں نے وہاں ایک کمپیوٹر لیب بھی دیکھی۔ شہری فائونڈیشن تنظیم کے تحت چلائے جانے والے سکول کے نوجوان پرنسپل نے بہت جوش کے ساتھ اپنے ادارے اور اس کے طلبہ کی کامیابی کی داستان بیان کی۔ یہاں میں نے ایک مرتبہ پھر انتہائی صفائی اور سلیقہ شعاری دیکھی۔ طلبہ بہت صاف اور عمدہ یونیفارم میں ملبوس تھے۔ یہاں ایک ٹیکنکل ٹریننگ سنٹر مختلف مہارتیں، جیسا کہ اے سی اور موٹرسائیکل کی مرمت کرنا،سکھاتا ہے۔ یہاں مختلف کاروباری ادارے طلبہ کو سپانسر کرتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک مائیکرو کریڈٹ بینک نے یہاں ووکیشنل سنٹر سے سلائی سیکھنے والی 41 خواتین کو سلائی مشینیں فراہم کیں۔
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ رشید میموریل ویلفیئر فائونڈیشن کراچی کے '' دارالسکون ‘‘ کے لیے ایک بہت بڑی سہولت تعمیر کررہا ہے۔ جب یہ اگلے سال مکمل ہوجائے گی اور اس میں 250 سپیشل بچے اور 100 سینئر شہریوں کو جگہ مل سکے گی۔ یہ لاجواب تنظیم اُن بے سہارا بچوں کی نگہداشت کررہی ہے جنہیں ان کے والدین جسمانی اور ذہنی مسائل کی وجہ سے یہاں چھوڑگئے تھے۔ بہت سے بچے کئی سالوں سے اس تنظیم کے سہارے اچھی زندگی بسر کررہے ہیں۔ جب میں چند برس پہلے کراچی میں ایک نجی یونیورسٹی چلارہاتھاتو میں اپنے طلبہ پر زور دیتا تھا کہ وہ اپنا ویک اینڈ ''دارالسکون‘‘ کے خصوصی بچوں کے ساتھ بسر کریں۔ میری چھوٹی سوتیلی بیٹی Tabithaانگلینڈ سے یہاں آئی اور ان بچوں کے ساتھ کام کیا۔ میں کچھ فیاض افراد کی مدد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگیاتاکہ سسٹر روتھ آف فرانسسکین آرڈر (Sister Ruth of the Franciscan Order) ان بچوں کے لیے ایک وین اور لفٹ کا اہتمام کرسکیں۔ یہ ویلفیئر آرگنائزیشن میرے دل میں ایک خصوصی مقام رکھتی ہے۔
اگرچہ آر ایم ڈبلیو او کی چھتری تلے کام کرنے والی مختلف تنظیمیں اور ادارے مفت خدمات سرانجام دیتے ہیں یا پھر ان کی فیس برائے نام ہوتی ہے، لیکن ایس ایس ٹی پبلک سکول کی فیس بہت زیادہ ہے۔ اسے پی اے ایف پبلک سکول سرگودھاکے سابق طلبہ چلارہے ہیں۔ یہ ایک مکمل طور پر رہائشی سکول ہے اور اس کے طلبہ اے لیول کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اپنے اعلیٰ سٹاف، وسیع گرائونڈز اور دیگر تعلیمی سہولیات کے ساتھ یہ سکول عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ یہاں کے ایک چوتھائی طلبہ کو وظائف دیے جاتے ہیں۔اس حوالے سے پاکستان ایک خوش قسمت ملک ہے کہ یہاں ڈاکٹر ادیب رضوی اور عبدالستار ایدھی کے علاوہ بھی بہت سے لوگ فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ میں نے دیکھا کہ پاکستان میں عطیات کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ لوگ فلاحی کاموںپر خرچ کرنا چاہتے ہیں، بس مسئلہ ساکھ کا ہے۔ عوام کو اعتماد ہو کہ ان کی فراہم کردہ رقم کا استعمال درست ہے تو پھر وہ بڑھ چڑھ کر ایسے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں ، اور یہ پاکستانی معاشرے کا ایک روشن پہلو ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *