قندیل بلوچ قتل کیس: والدین کی بھائیوں کو معاف کرنے کی درخواست

پاکستان کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا سیلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کے الزام میں گرفتار ان کے دو سگے بھائیوں کو ان کے والدین نے ایک مرتبہ پھر معاف کرنے کے لیے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا ہے۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ مدعی کے طور پر انھوں نے قندیل بلوچ کے قتل میں نامزد ان کے دونوں بھائیوں وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی استدعا کی گئی ہے کہ عدالت قندیل کے والدین اور دونوں ملزمان بھائیوں کے درمیان راضی نامے کی اجازت دے۔

تاہم ریاست کی جانب سے مقدمے کی پیروی کرنے والے استغاثہ نے ملتان کی ماڈل عدالت میں جمع کرائے جانے والے اپنے بیان میں ایسی اجازت دینے کی مخالفت کی ہے۔

قندیل کے والدین کا موقف کیا ہے؟

استغاثہ کی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ قندیل بلوچ کے والدین کی جانب سے جمع کروائے جانے والے حلف نامے میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 'قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ 16 جولائی سنہ 2016 کو درج ہوا جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانون میں ترمیم 22 اکتوبر سنہ 2016 میں آئی۔'

’لہذا غیرت کے نام پر قتل کے ترمیمی قانون دفعہ 311 کا اطلاق قندیل کے قتل کے مقدمے پر نہیں ہوتا اس لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 345 زیلی دفعہ 2 کے مطابق ان کے دونوں بھائیوں کو والدین کی طرف سے معاف کیے جانے کے بعد رہا کر دیا جائے۔‘

قندیل بلوچ

استغاثہ کا موقف

استغاثہ کے رکن کے مطابق انھوں نے عدالت میں اپنے جواب میں جو موقف اپنایا ہے اس میں کہا گیا ہے غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے قانونِ فوجداری میں ترامیمی ایکٹ سنہ 2005 میں منظور ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترامیمی ایکٹ کے مطابق 'غیرت کے نام پر قتل کے مقدمے میں راضی نامہ نہیں ہو سکتا خصوصاً اس وقت جب مدعی اور ملزمان مرنے والے کے قانونی وارث ہوں۔'

تاہم اس قانون میں یہ جج کی صوابدید پر ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ قتل کا واقعہ غیرت کے نام پر قتل کے زمرے میں آتا ہے۔

استغاثہ نے عدالت میں جمع کروائے گئے اپنے اختلافی بیان میں مزید کہا ہے کہ ’موقع کے شواہد اور 19 گواہان کے بیانات کے علاوہ دونوں ملزمان کے اعترافی بیانات موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ انھوں نے قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔‘

استغاثہ نے عدالت میں یہ بھی موقف اختیار کیا کہ قندیل بلوچ کے والدین جو قانونی وارث ہونے کے ناتے ان کے قتل کے مقدمے کے مدعی ہیں اس سے قبل بھی ایک مرتبہ ملزمان سے صلح کرنے کی غرض سے حلف نامہ جمع کروا چکے ہیں۔

اس کے بعد ان پر ملزمان کے خلاف اپنے بیان حلفی سے مکرنے اور منحرف ہونے پر مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے کبھی بھی ملزمان کو قندیل بلوچ کو قتل کرنے کے بارے میں نہیں اکسایا۔

قندیل بلوچ نے مفتی عبدالقوی کے ساتھ ملاقات کے دوران کئی سیلفیاں کھینچی تھیں جو وائرل ہوگئی تھیں

غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں پاکستان کی پارلیمان نے قندیل بلوچ کے قتل ہی کے ردِ عمل میں شروع ہونے والی مہم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی جس کے مطابق مرنے والے کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر مقدمات میں یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ مدعی قتل کرنے والے کے ماں باپ یا بہن بھائی ہوتے تھے جو انھیں معاف کر دیتے تھے جس کے بعد ان پر مقدمہ ختم ہو جاتا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اسے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لایا گیا اور یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا۔

قندیل بلوچ کا قتل

15 جولائی 2016 کو قندیل بلوچ کو سوتے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

قندیل کے بھائی وسیم نے شروع میں گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ’قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں‘ لیکن بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انھوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ قتل کیس میں ملزمان

قندیل بلوچ کے قتل کے کیس میں ان کے بھائی محمد وسیم مرکزی ملزم ہیں جبکہ بعدازاں مدعی مقدمہ نے اس قتل کے مقدمے میں اپنے ایک اور بیٹے اسلم شاہین کا نام بھی درج کروایا تھا جو مقامی پولیس کے مطابق فوج میں ملازم ہے۔

قندیل بلوچ کے مقدمے میں مذہبی سکالر اور پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کے سابق رکن مفتی قوی سمیت محمد وسیم، عبدالباسط، ظفر اقبال، اسلم شاہین اور حق نواز کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم مفتی قوی اور محمد وسیم کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا جبکہ باقی ماندہ ملزمان اس وقت جیل میں ہیں۔

22 اگست

ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیع نے 22 اگست کو ملزمان کے وکیل کو دلائل دینے کے لیے طلب کیا ہے اور عدالت ملزمان کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مدعی مقدمہ کی طرف سے ملزمان کو معاف کرنے کی درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *