ارادے باندھتے ہیں

آپ میں اور بہت سے لوگ ارادے باندھتے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لیے عمل پیرا بھی ہوتے ہیں لیکن اکثر ارادے پورے نہیں کر پاتے۔ بعد ازاں ہم اپنے لیے بہت سے بہانے تراش لیتے ہیں اور خود کو یہ کہہ کر بری الزمہ بھی کر لیتے ہیں کہ قسمت میں نہیں تھا۔ یہ بہانے اور قسمت کے کھیل ہمیں ہمیشہ یہ سکون فراہم کر دیتے ہیں کہ جو ہوا اس میں ہمارا قصور نہیں تھا۔ شکر ہے کہ ہمارے دماغ میں بہانہ سازی کا یہ عمل جاری رہتا ہے ورنہ تو ہمارے لیے آگے بڑھنا ہی مشکل ہو جاتا۔ ہم اپنے ارادوں کے ٹوٹنے پر بکھر ہی جاتے اور آئندہ زندگی سوائے پچھتاوے اور ہار جانے کے احساس کے سوا کچھ بھی نہ رہتی۔

مگر بہانے بازی کی عادت اور اپنی کوتاہی کو ہمیشہ قسمت کا کھیل کہہ کر ٹال دینا بھی بے حد خطرناک ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے نو جوان اس ذہنی بیماری کا شکار نظر آتے ہیں جو یا تو اپنی ناکامی  کا زمہ والدین اور معاشرے پر ڈال دیتے ہیں یا قسمت پر۔ پوچھا جائے کہ بیٹا آجکل کیا کر رہے ہو تو جواب آتا ہے "کچھ نہیں"۔ تعلیم ۱۴ سے ۱۶ سالہ ڈگری اور کام کی تلاش میں گھر بیٹھے ہیں۔ یعنی یہ ایک عظیم سوچ ہے جو انہیں بتلاتی ہے کہ گھر بیٹھنے سے زندگی خود بخود آگے چلنے لگے گی۔ پوچھا جائے کہ کام کیوں نہیں کرتے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے معیار کا کام نہیں مل رہا۔ اور جب تک کام نہیں مل رہا تب تک تمام ترزمہ داری والدین کی ہے کہ وہ نہ صرف ان کا نان نفقہ ادا کریں بلکہ انہیں روزانہ اپنے دوستوں سے ملنے کیلیے بھی خرچہ دیں تا کہ کہیں ڈپریشن نہ ہو جائے۔ یہ عرصہ طویل ہوتے ہوتے اس قدر طویل بھی ہو جاتا ہے کہ والدین اکثر کہہ دیتے ہیں "اچھا تو بیٹا کچھ اور پڑھ لو"؛ اور یہ تجویز ہمارے شاہینوں کو بے حد بھلی لگتی ہے، لیکن اگر والد صاحب یہ کہہ دیں کہ جب تک کام نہیں ملتا میرا کام سنبھال لو تو ان کی با عزت ڈگری خطرے میں آ جاتی ہے۔

کیونکہ پاکستانی گھرانوں میں اکثر لڑکوں اور لڑکیوں کی کہانی الگ ہوتی ہے تو یہاں بھی لڑکیاں اپنی انفرادیت قائم رکھتے ہوئے اچھی پوزیشن کا نہیں بلکہ اچھے رشتے کا انتظار کرتی نظر آتی ہیں۔ کوئی نہ کوئی شہزادہ ان کے خوابوں میں اس لیے بس چکا ہوتا ہے کیونکہ اس کے بغیر انہیں انہی کی سہیلیوں اور ہم جولیوں میں نارمل نوجوان دوشیزہ ماننے سے انکار کر دیا جائے گا۔ والدین کی پسند کو ہی اپنی پسند بیان کردینے والی پارسا لڑکی تو ہیروئین ہوتی ہے، جو اپنے دل پر پتھر رکھ کر چپ چاپ ماں باپ کی پسند اور عقائد کے عین مطابق اپنی آئندہ زندگی کسی ارادے اور خواہشات کے بغیر ہی شروع کر لینے کو تیار ہو۔ ان بچیوں کے لیے ارادے باندھنا تو دور اس لفظ کے معنی جاننا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ متوسط گھرانوں کی بچیاں آجکل دو کیا تین تین کشتیوں کی سوار ہیں۔ ان کا ارادہ اکثر قرض میں جکڑے والد صاحب کی مالی مدد سے شروع ہوتا ہے، اور گلیوں، بازاروں یا دفتروں میں موجود مردانگی کے نشے میں دھت مردوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے گھر پہ جا کر ختم ہو جاتا ہے جس نے زیادہ جہیز نہ مانگا ہو۔

ارادے باندھنا نوجوانی کا ایک اہم حصہ ہے اور ان کی تکمیل کے لیے درکار محنت ہی زندگی ہے۔ والدین، گھرانے یا ادارے تو آپ کو صرف اور صرف مدد فراہم کر سکتے ہیں، آپ کو ان ارادوں کی تکمیل کی راہ دکھا سکتے ہیں لیکن ان کے حصول کی کاوش خالصتا" آپ کی اپنی زمہ داری ہے۔ آپ کا ہر دن اور ہر لمحہ آپ کو اپنے ارادوں کی تکمیل کی جانب یا اس سے دور لے جانے میں ہی سرف ہو رہا ہوتا ہے۔ اب اگر آپ کے خیال میں ایک معمولی کام کرنا آپ کی عزت میں کمی کرتا ہے تو یقین کیجئے آپ کی تعلیم اور تربیت دونوں میں شدید کمی رہ گئی ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ گھر کے کسی بڑے کی زمہ داری ہے کہ وہ آپ کو کام کیلیے پلیٹ یا پلیٹ فارم تیار کر کے دے تو یہ آپ کی شدید غلط فہمی ہے، اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ ایک رات آپ ارادہ کر کے سوئیں گے اور صبح اس کے لیے تمام راستے کھلے ملیں گے تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ جائیے جا کر کامیاب لوگوں کی زندگی کے وہ ابواب پڑھئے جو انہوں نے انتھک محنت اور ایک کے بعد ایک رکاوٹ کا سامنا کرتے ہوئے گزارے، لیکن جب تک اپنے ارادوں کی منزل حاصل نہیں کر لی تب تک کہانی ختم نہیں ہونے دی۔

آپ کو ، آپ کے گھرکو، آپ کے معاشرے کو اور اس کرۃ ارض کو کار آمد انسانوں کی ضرورت ہے، آپ کا ایک ایک ضائع کیا ہو لمحہ کسی کے کاندھوں پر مسلسل بوجھ میں اضافے کا باعث ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *