سٹریٹیجک ڈپتھ کی ڈیتھ اور کشمیر

 صورت حال اس قدر غیر واضح ہے کہ کسی کی سمجھ  میں نہیں آرہا کہ حکومت کو جنگ کا مشورہ دے یا آدھ گھنٹہ مزید کھڑا ہونے کا؟  چنانچہ کسی معقول مشورے یا نتیجے پر پہنچنے کے لیے ان سوالات پر غور کیجیے:
جب ہمارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنت مقامی جنرل حمید گل سی آئی اے کے سربراہ کو ایک گھنٹہ اپنے دفتر میں انتظار کرانے کے بعد قدم بوسی کی اجازت مرحمت فرماتے تھے تو اس وقت ہم اپنی سٹریٹیجک ڈیپتھ کی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ سوال یہ ہے کہ مودی سرکار کب سے اس ڈیپتھ سے نچنت یعنی بے پروا ہو گئی ؟ اس ڈیپتھ میں کہیں ہمارے کشمیر کاز کی ڈیتھ تو نہیں ہو گئی؟
اگر ہمیں یقین ہو کہ ہم بھارتی سورماؤں کو جنگ ہرا سکتے ہیں تو کیا پھر بھی ہم امن امن کے راگ  اور احتجاج احتجاج کھیل  رہے ہوتے؟
جب امریکی یاترا میں پلپلے منہ سے ٹرمپ مہاراج نے کشمیر پر ٹالثی کی پیش کش کی تھی تو ہمارے وزیراعظم اور ان کے سیناپتی ( لفظ پتی پر آپ اگر ٹھہر گئے ہیں تو میرا کوئی قصور نہیں) نے اس کا کیا مطلب لیا تھا ؟
حافظ سعید صاحب نواز شریف دور میں ہر تیسرے دن انڈیا پر تین حرف اور دو میزائیل  بھیجتے تھے اور سرعام  کھلے پھرتے تھے تو گویا کوئی جرم نہیں کرتے تھے ۔ آج کل انھیں خارم حسین رضوی کو کھلانے والی گولیاں دے کر ہم نے اپنی حفاظت میں رکھا ہوا ہے تو کیا  ان کا جرم یہ ہے کہ آج کل انھوں نے   کشمیر پر سنیاس لے لیا ہے ؟
اور لشکر طیبہ کے اس سالار سے ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ نے بھرے جلسے میں گرج گرج اور اچھل اچھل کر کہا تھا کہ ہم بھارت کے اندر ایسی ہلچل برپا کر سکتے ہیں کہ بھارتی فوج کشمیر بھول جائے گی، اسے اپنی پڑ جائے گی بس آپ قدم بڑھائیں کیونکہ کشمیر  بات سے نہیں ، ہندو کی مرمت کی آزاد ہو گا ۔۔۔۔۔ تو حضور اب آپ کہاں ہیں ؟ دشمن ملک میں ہلچل مچانا آسان ہوتا ہے یا اپنے ملک میں ؟ اس وقت آپ کا جزبہ جہاد کہاں  دبکا بیٹھا ہے ؟ کوئی ایک نعرہ ، کوئی ایک طعنہ؟
کشمیر پر تین موقف ہیں ، پہلا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، یہ ہمارا ہے ،اس کے بغیر ہم ادھورے ہیں ، دوم کشمیر ، کشمیریوں کا ہے ، وہاں کے باشندے فیصلہ کریں گے کہ انھوں نے بھارت کے ساتھ جانا ہے ، پاکستان کے ساتھ یا وہ آزاد ریاست بننا چاہتے ہیں ، آخری فیصلہ ان کا ہے ۔ سوم اتنے خواب دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ استصواب کرانا سو من تیل کے مترادف ہے اس لیے رادھا کو نچوانے کا غیر ثقہ کام نہیں ہو سکتا۔ بس مقبوضہ کشمیر انڈیا کو اور آزادی کشمیر پاکستان کو دے کر LOC  کو حتمی بارڈر مان لیا جاۓ ۔ سوال یہ ہے کہ اس میں سرکاری ، عوامی اور عادلانہ موقف کون کون سا ہے ؟
ایک فریق  کہتا ہے کہ کشمیر کو غزوہ ہند کی روشنی میں حل کریں ۔ کیا آپ کا ایمان کمزور ہے یا  اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں؟
جنگ اس مسٔلے کا حل نہیں تو کیا مذاکرات حل ہے ؟ مذاکرات اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب آپ کے پاس جنگ جیتنے کی صلاحیت ہو۔ اس وقت دونوں ملک ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں ، جیتنے کی نہیں ،تو اس  کا مطلب ہے سٹیٹس کو ہی رھنا ہے ؟
 کیا اس کا حل انڈیا کو گوریلا وار کے ذریعے سے تھکا تھکا کر مارنا ہے ؟ ایسا ہے تو کیا ہماری سیاسی، اقتصادی ،عالمی اور اخلاقی حالت اس کی اجازت دیتی ہے ؟ اگر نہیں دیتی تھی تو ماضی  میں یہ جھنجھنا کیوں بجاتے رہے ہیں ؟ اب اگر ترک کر دیا ہے تو آگے کیا ارادے ہیں؟
کیا کشمیر انڈیا کے لیے مشرقی پاکستان بن سکتا ہے ؟
کیا کشمیر انڈیا کے لیے فلسطین بن سکتا ہے ؟
 عالمی طاقتوں اور متمول مسلمان ریاستوں کا جھکاؤ ہماری طر ف ہے یا بھارت کی طرف ؟
 ہم نے کشمیر پاکستان بنانے کے لیے پہلی کوشش کی تو آزاد کشمیر ملا ۔ دوسری کوشش آپریشن جبرالٹر سے کی ، رسوا ہوئے، تیسری کارگل میں کی ، زخم چاٹے ، لیکن انڈیا نے پہلی دفعہ سب سے بڑا قدم اٹھایا ۔ کون فتح کے قریب ہوا اور کیوں ؟
 ان سوالوں کے جواب میں یا کچھ ان دیکھے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کیے جانے والے فیصلے کے حق میں ہم بطور پاکستانی کسی ایک فیصلے پر یکسو ہو سکتے ہیں ؟
کوئی فیصلہ کسی نہ ڈکٹیٹ کرایا تو کیا بحیثیت قوم اس کو رد کر سکتے ہیں ؟
سوالوں کا یہ جنگل عبور کیجیے اور پھر مڑ کر دیکھیں کون کون زندہ بچا ہے ؟ اور چراغوں میں کتنا تیل باقی ہے !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *