ڈرونز اور جی پی ایس کا 1744 میں ڈوبے جہاز کے ملبے سے کیا تعلق ہے؟

5 اکتوبر 1744 کو انگلش چینل میں ایک طوفان آیا۔ پرتگال کے ساحل کے قریب ایک فرانسیسی بحری بیڑے کا پیچھا کرنے کے بعد واپس وطن کی جانب گامزن برطانوی جنگی بحری جہازوں کا ایک بیڑا مشکل میں پڑ گیا تھا۔

اس بیڑے کی قیادت کرنے والا بحری جہاز ایچ ایم ایس وکٹری پلے متھ سے 50 میل جنوب میں ڈوب گیا اور 100 میٹر نیچے سمندر کے فرش پر جا لگا۔ اس پر سوار 1100 مرد اور افواہوں کے مطابق بہت سارا پرتگالی سونا بھی سمندر نگل گیا۔ اس جہاز کے بقایاجات کو پہلی بار 2009 میں ایک سمندر سیلویج کمپنی نے دریافت کیا۔

جہاز سے اُس خزانے کے علاوہ ایک اور چیز ملی جو کہ شاید اس خزانے سے بھی زیادہ قیمتی تھی۔

وہ تھا ایک آئیڈیا، جو کہ آج تو آب دوزوں سے سیٹلائیٹوں، مریخ پر روور سے لے کر آپ کی جیب میں فون کو گائیڈ کرتا ہے مگر وہ ایسا نظام بنانے کی پہلی کوشش بھی تھی۔ ایچ ایم ایس وکٹری پر جان سرسن کا ’ورلنگ سپیکیولم‘ بھی تھا جو کہ موجودہ مائروسکوپ کا پرانا ورژن تھا۔

سرسن ایک سمندری کیپٹن تھے اور بامشکل پڑھے لکھے تھے۔ مگر جیسا دی جنٹلمینز میگزین نامی جریدے نے بعد میں کہا وہ ایک ’انتہائی ذہین میکینک‘ بھی تھے۔

وہ ایک انتہائی سنگین مسئلے کا حل تلاش کر رہے تھے۔

ملاح کسی کشتی یا بحری جہاز کی پوزیشن کا تعین کرنے کے لیے سورج یا افق سے زاویے کی مدد لیتے تھے۔ مگر آپ کو ہمیشہ افق کی لکیر دھند کی وجہ سے نظر نہیں آ رہی ہوتی تھی۔

A Venetian illustration showing how to measure the distance from ship to shore, using a quadrant marked with shadow-scales from 1598

بچوں کے کھلونے لٹو کو دیکھ کر سرسن نے سوچا کیا وہ ایک مصنوعی لکیرِ افق بنا سکتے ہیں جو جہاز کے ہر طرف ڈولنے کے باوجود اپنی سطح درست رکھے۔

جنٹلمینز میگزین نے ان کی ایجاد کے بارے میں بعد میں لکھا کہ انھوں نے ایک لٹو نما آلہ بنوایا جس کی بالائی سطح پر ایک پولش شدہ دھاتی پلیٹ تھی جو کہ وسطی ایکسس سے عمودی تھی۔ اگر اس لٹو کو ہلایا جاتا تھا تو وہ جلد ہی واپس اپنی جگہ پر آ جاتا تھا۔

بحریہ کے دو اعلیٰ سطح کے افسروں اور ایک ممتاز ریاضی دان کو متاثر کرنے کے بعد سرسن کو کہا گیا تھا کہ وہ مزید ’مشاہدات (کے لیے)۔۔۔۔ایچ ایم ایس وکٹری میں سوار ہو جائیں۔‘ اور اس طرح بے چارے جناب سرسن ہلاک ہوگئے۔

ان کی بیواہ ساراہ سرسن اپنے شوہر کی موت کے بعد بالکل کنگال ہو گئی تھیں اور انھوں نے بحریہ سے درخواست کی تھی کہ انھیں ان کے خاوند کے آلے کی دستاویز فراہم کی جائیں تاکہ وہ اس آلے سے کچھ پیسے بنا سکیں۔ لیکن اس سے متعلق ان کی کامیابی کے ثبوت نہیں ملتے۔

تاہم ایک صدی کے بعد فرانسیسی ماہر طبعیات لیعون فوکوہ انھی اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے جس سے وہ سرسن مسحور ہوتے تھے ایک کامیاب نمونہ بنایا۔

Part of Foucault's gyroscope demonstration apparatus, 1883.

فوکوہ نے اس آلے کو ’جائروسکوپ‘ کا نام دیا۔ یہ دو یونانی الفاظ سے بنا ہے جس کا مطلب ’گھومنا‘ اور ’مشاہدہ‘ کیونکہ وہ اسے زمین کی گردش کا مطالعہ کرتے تھے۔

اس میں ایک گھومتی ہوئی تشتری تھی جو گمبل پر لگی ہوئی تھی۔ گمبل سہارا دینے والا وزن ہوتا ہے جس کی وجہ سے تشتری اپنی جگہ پہ ہی رہتی ہے چاہے اس کے نیچے موجود فرش ہل ہی کیوں نہ رہا ہو۔

پھر بجلی کی موٹر ایجاد ہوئیں جس کے بدولت گھومنے والی تشتری غیر معینہ مدت تک گھوم سکتی تھی اور اس کے بعد اس آلے کے عملی استعمال کے بہت سارے طریقے سامنے آتے گئے۔

بحری اور ہوائی جہازوں کے پاس مصنوعی لکیرِ افق آگئیں۔ 20ویں صدی کے شروع میں دو موجدوں نے یہ معلوم کر لیا کہ کیسے گھومتی ہوئی تشتری کو زمین کے شمالی اور جنوبی محور سے ہم آہنگ کرنا ہے جس سے ’جائروکمپس‘ کی ایجاد ہوئی۔

A cigarette card illustration of a gyrocompass built by the Sperry Gyroscope Company, from a 1938 series called "Modern Wonders"

اور جب ان آلات کو دوسرے آلات جیسے ’ایکسیلرومیٹرز‘ اور ’میگنیٹومیٹر|ز‘ کے ساتھ جوڑا گیا تو اس سے یہ معلومات ملنا شروع ہوئیں کہ آپ کس طرف اوپر جا رہے ہیں اور کس سمت بڑھ رہے ہیں۔

ان سے لی گئی معلومات ہی آٹو پائلٹ اور دیگر بہت سے نیویگیشن نظام کی بنیاد ہیں۔ جی پی ایس بھی اسی ٹیکنالوجی سے بنا ہے۔

گھومنے والی ان دھاتی پلیٹوں کو کس قدر چھوٹا بنایا جا سکتا ہے اس کی ایک فزیکل حد ہے مگر دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے جائروسکوپ کو انتہائی چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ وائبریٹ کرنے والے مائیکرو الیکٹرک مکینیکل جائروسکوپ صرف چند مربع ملی میٹرز کے ہوتے ہیں۔ محققین نے لیزر پر مبنی جائروسکوپ بنائے ہیں جو کہ انسانی بال سے بھی پتلے ہیں۔

The first GPS watch, produced by Casio in 1999

جیسے جیسے یہ آلات چھوٹے ہوئے گئے، کمپیوٹرز تیز ہوتے گئے، اور بیٹریوں کا وزن کم ہوتا گیا، یہ آلات سمارٹ فونز، روبوٹس، ویڈیو گیمز کونسولز اور ورچوئل ریئیلٹی ہیڈ سیٹس میں آنے لگے۔

ایک اور ٹیکنالوجی جس کے بارے میں لوگوں کو کافی تجسس رہا ہے وہ ہے ڈرون!

دنیا کی پہلی بغیر پائلٹ کے پرواز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 1849 میں ہوئی، فوکوہ کے جائروسکوپ سے تین سال قبل۔

آسٹریا نے وینس پر حملہ کرنے کے لیے غباروں سے بم لٹکا کر امید کی کہ ہوا کا رخ درست ہوگا۔ یہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں تھا، کچھ بم آسٹریا میں ہی گر گئے۔

مگر عسکری ضروریات ہی ڈرون سازی کے عمل کو آگے بڑھاتی رہیں۔ اگر آپ آج سے چار پانچ سال پہلے ڈرونز کے بارے میں تحقیق کرتے تو شاید تمام اہم ترین کہانیاں آپ کو جنگ کے بارے میں ملتیں۔

اور پھر ایک دم معاملہ ’تفریحی ہوابازوں کے لیے قوانین کیا ہونا چاہیئیں‘ یا پھر ’ڈونز ہمارا سودا کم لایا کریں گے؟‘ پر چلا گیا۔

ڈرونز اپ ایک عام سی بات بنتے جا رہے ہیں۔ یہ فضائی عکس بندی، فلم سازی سے لے کر دور دراز علاقوں میں طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔

مگر اصل تبدیلی تو وہ ہوگی جب ڈرون روز مرہ کے کام کرنے لگیں، ٹیکسیاں بن جائیں یا سودا سلف لانے لگیں۔

دیہی چین میں ڈرون ٹیکنالوجی تو تیزی سے مقبول ہو رہی ہے کیونکہ یہاں پر انتظامی ڈھانچہ نہیں ہے جیسے کہ سڑکیں۔ مثال کے طور پر جیانسو صوبے میں زیانگوے گاؤں میں زیادہ تر لوگوں کے پاس گاڑیاں نہیں ہیں اور تقریباً نصف کے پاس فریج ہوگا۔ مگر یہاں لوگ اپنے موبائل فونز پر ہر قسم کی آن لائن شاپنگ کرتے ہیں۔

A JD.com drone lands in Jiangsu Province, China in June 2016

کمپنی کے جیانگ فین نیویارکر میگزین ے بات کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ تقریباً دن میں چار مرتبہ ویئرہاؤس میں کام کرنے والے ایک ڈرون گاؤں کی طرف بھیجتے ہیں جو کہ 30 پاؤنڈ وزن کی اشیا 45 کلومیٹر گی گھنٹہ کی رفتار سے لے کر آتے ہیں۔ اس سے سب خوش ہیں، سوائے بگ آئنٹی کے جو کہ گاؤں میں جنرل سٹور چلاتی ہیں۔

اگر ڈرونز کو اور مقبول ہونا ہے تو ہمیں ’آخری میل‘ کے مسائل کے لیے بہتر حل چاہیے۔ زیانگوے میں جے ڈی ڈاٹ کام گاؤں کے اندر تقسیم کے لیے انسانوں کا استعمال کرتا ہے مگر جہاں لیبر مہنگی ہو وہاں یہ آخری میل کے مسائل ہی ڈلیوری کے زیادہ اخراجات کا باعث بنتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ آخری مرخلہ آٹومیٹ ہوجائے تو روایتی دکانیں ہی ختم ہوجائیں۔ مگر کسی کو پتا نہیں کہ یہ کیسے ہوگا۔

An Amazon "Prime Air" drone

کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آن لائن خریداری ہمارے گھروں کے صحن میں پھینکی جائے یا ہماری عمارتوں کی چھتوں پر اتارا جائے۔ یا پھر سمارٹ کھڑکیاں ہوں جو کہ ہماری غیر موجودگی میں خود ہی کھل جائیں اور ڈرونز کو اندر آنے دیں۔

کیا زیادہ سخت فضائی قوانین کی ضرورت ہے تاکہ ایک ڈرون ہیتھ رو اور گیٹوک ہوائی اڈوں پر ہونے والی سینکڑوں پروازوں میں تاخیر کا باعث نہ بنے۔

اور ایک اور مسئلہ جو جان سرسن کو بھی پیش آیا تھا، وہ ہے موسم!

اگر ہم نے فضائی ڈلیوری پر انحصار کرنا ہے تو انھیں ہر قسم کے موسم میں کام کرنا ہوگا۔ کیا ڈرونز ایسے موسم کا مقابلہ کر سکیں گے جو بحری جہازوں کو ڈبو دے۔

شاید تب ہی جائروسکوپ کا وعدہ پورا ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *