یاسمین راشد کا موقف اب کیوں بدلا؟

" ماریہ سلیم "

 ہاتھ میں قلم پکڑے میں کئی دنوں سے اس سوچ میں مبتلا تھی کہ کوئی ایسا موضوع ہو جسے میں قلم بند کر وں۔ ابھی اس خیال میں محوہی تھی کہ میری نظر کے سامنے سے ایک خبر گزری جس نے ذہن میں اک تلاطم پیدا کردیا۔زمانہء  قدیم سے ان گنت تحاریر میں تشبیہات و استعارات کا استعمال رائج رہا ہے۔حسن کو بیان کرنے کے لیئے مختلف تشبیہات آج بھی نظر سے گزرتی ہیں،  طوطے کا لفظ سنتے ہی ذہن میں ایک خوبصورت پرندے کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ اسی طرح اردوشاعری بھی لفظ چشم سے بھری پڑی ہے۔ مگر ان دونو ں کا مرکب طوطا چشم  بے مروت انسان کے لئیے استعمال کیا جاتا ہے۔اس لفظ کا استعمال کافی عرصے سے نہیں ہو رہا تھا لیکن موجودہ صوبائی وزیرِ صحت نے محکمہ صحت میں اصلاحات لانے کے لیئے جو اقدامات اٹھائے ان کو دیکھتے ہوئے ناچیز پر طوطا چشمی کا مفہوم   اشکار ہو ا۔
مذکورہ خبر میں ایم ٹی آئی کے حوالے سے بات کی گئی تھی۔  یہ وہی ایم ٹی آئی ہے جو کہ آج سے دو تین ماہ  قبل احتجاج کی زینت بن گیا تھا۔ چند ہفتے قبل چھپنے والے   کالم میں  ایم ٹی آئی کے بنیادی نکات کو بیان کر دیا تھا لیکن  قارئین کی زود فہمی کے لئیے دوبارہ عرض کرتی چلوں کہ ایم ٹی آئی ایکٹ  ۵۱۰۲ میں خیبر پختونخواہ میں متعارف ہوا۔ ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت تشکیل پانے والے نجکاری کے اس منصوبے کے مطابق ہسپتالوں کی  فلاحی حیثیت کا خاتمہ کر کے انہیں کاروباری ادارے  کے  طور پر چلایا جائیگا۔ جس میں غریب عوام کو ریلیف ملنا ناممکن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ عوام کا فائدہ کم اورمنافع کمانے کا عمل زیادہ ہوگا۔اس سے عوام غربت میں پستی رہے گی اور حکومت  ظاہری طور پر منافع کماتے دکھائی دے گی لیکن غریب عوام کا  علاج مفت ہونے کے  امکانات معدوم ہو جائیں گے۔  عوام کومختلف شکل میں فیس کا جھٹکا بھی بھگتنا پڑھے گا۔اس کے علاوہ غریب مریض کی جگہ نجکاری کی وجہ سے امیر مریض کو  دے  دی جائے گی یعنی غریب ہسپتال کے باہر تڑپتا رہے گا اور امیر کو  علاج  میسر ہو گا۔انشورنس کے نام پر غریب عوام کو مزید لوٹا  جائے گا۔ ہسپتال میں نجکاری کے عمل سے عوام ہی نہیں بلکہ ڈاکٹروں اور محکمہ کے  دیگر  سٹاف کی نوکریوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔  نجکاری کے اس نظام سے میرٹ کا عمل بھی متاثر ہوگا، نوکریاں کم ملیں گی اورسرکاری ملازمت میں بھی کمی ہوگی۔اس کے برعکس  انہیں بورڈ آف گورنرز کے تحت مختصر مدت کے لیئے ملازمت ملے گی جسے ینگ ڈاکٹرز ایسوسیشن نے معاشی قتل کا ذریعہ کہا ہے۔اس کے علاوہ کم سے کم ملازموں سے زیادہ سی زیادہ کام لیا جائے گا  جس سے ڈاکٹروں کا رویہ مزید سخت ہونے کے امکانات ہیں۔ مختصر یہ کہ عوام اور ڈاکٹر دونوں کے لیئے اس ایکٹ   میں حد نگاہ  تک کسی بھی فریق کا  دور دور تک کوئی فائدہ  دکھائی نہیں دے رہا۔
بات یہاں پر ختم نہیں ہو جا تی بلکہ  اس ایکٹ کو  نافذ کروانے کے خواہشمند صاحبِ اقتدار حلقے کے  لوگوں میں سے ایک شخص کی تاریخ پر نظر ڈالنے پر  میری آنکھیں کھل گئیں  اور   لفظ طوطا چشم  میرے ذہن میں اٹک کر رہ گیا۔  یہ داستان آج سے 17 سال پہلے  کی ہے جب   فاطمہ جناح میڈیکل کالج   میں گائنی کی ایک پروفیسر ڈاکٹر یاسمین را شد ،  جو کہ  ان   دنوں   صوبائی  وزیر برائے  صحت  بھی ہیں،  نے  اس  نجکاری کے خلاف  آواز بلند کی۔  مو صوفہ  نے   اپریل  2002  کو گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج منعقد کروایا۔    میرے لئیے یہ امر حیرانگی کا باعث تھا کہ  انہیں 2 اکتوبر 2002 کو پنجاب ریمول فرام  سروس آرڈیننس 2000 کے تحت انہیں اس عمل پر معطل کیا گیا تھا۔  اس  معطلی کی وجہ  یہ تھی  کہ  انہوں نے1966 کے گورنمنٹ سروس قواعد کے 25 بی کی خلاف ورزی کی تھی۔  آج کے ینگ ڈاکٹرز کے موقف کے مترادف ہی موصوفہ کا موقف تھا جو  پی ایم اے کی جانب سے نجکاری  کو ختم کروانے کے لئیے اور ڈاکٹرز کی کانٹریکٹ پر  تعیناتی کی جگہ ریگیولر  تعیناتی  کے لئیے تھا۔
 جو خاتون ماضی میں اس ایکٹ کے  خلاف تھیں آج  وہ  اسی ایکٹ  پر ڈاکٹرز پر آگ بگولا ہو رہی ہیں۔ 2 مئی 2019 کو جب ینگ ڈاکٹرز نے 2002 کے جیسا احتجاج منعقد کیا تو منسٹر صاحبہ کا رویہ تبدیلی کے ساتھ یکسر  تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے پہلے کہا کہ یہ اصلاحاتی عمل ہے اس میں نجکاری  کا کوئی عمل دخل  نہیں، لیکن حال ہی میں انہوں نے ڈاکٹروں کو خبردار کرتے ہوئے ایم ٹی آئی میں نجکاری کے عمل کا واضح  ذکر کیا۔ اس سے قبل اس احتجاج کو سیاسی چال کا رنگ بھی دینے کی کوشش کی گئی۔مزید یہ کہ 2017 میں مسلم لیگ (ن)  نے پبلک لیبارٹری کی  نجکاری  کا  منصوبہ  پیش کیا تو یہی خاتون احتجاج  میں انہیں بیٹا بیٹا کہتی رہیں اور ان کے ساتھ آواز اٹھاتی رہیں۔ لیکن اب ان کی رائے مختلف ہو گئی ہے، یہاں تک کہ اپنے بیٹوں کو دھمکانے لگ گئی ہیں۔ حال ہی میں ایک پیغام میں انہوں نے ینگ ڈاکٹرز کو خبردار بھی کیا اور احتجاج  کرنے والوں کو نوکری سے نکالنے کی دھمکی کا فرمان جاری کر دیا۔
 کسی  بھی  انسان  کی  رائے میں تبدیلی ایک فطری  عمل ہے  جب کہ  قطبین  جیسی تبدیلی انسانی فطرت کے عمل کا حصہ نہیں ہوتی۔  پہلے انکار پھر اقرار نے عوام کو ایک طرف  پریشان کردیا  تو دوسری  طرف  اربابِ اختیارکا  ایسے اہم محکموں کے بنیادی خدوخال  اور  انکی  انتظامی معاملہ فہمی   اور  فراست   کا بھانڈا پھوڑ دیا۔  نوبت  یہاں تک آن پہنچی ہے کہ  بے شمار ڈاکٹرز نے اپنے بیانات میں کہا کہ ہماری غلطی یہ تھی کہ ہم نے انکو اپنا  خیرخواہ  سمجھا تھا۔ تقریبا 15 سال تک اس عمل کی خلاف آواز اٹھانے والی خاتون، وزارت ملتے ہی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی دکھائی دی۔ اس رنگ کے تبدیل ہونے میں سمجھ نہیں آتا کہ کرسی کا نشہ ہے یا کرسی کا دباؤ۔ یہاں مجھے ہمارے استادِ محترم سہیل وڑائچ صاحب کی بات یاد آگئی،" کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *