پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کی انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی حکمراں جماعت تحریک انصاف کے سابق اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی بلدیو کمار نے ملک چھوڑ کر انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کردی ہے۔

انڈیا کے خبررساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) سے گفتگو کرتے ہوئے بلدیو کمار نے الزام لگایا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو کئی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔ وہاں غیر مسلموں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی مبینہ طورپر غیر محفوظ ہیں لہذا وہ انڈین حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ انھیں سیاسی پناہ دی جائے۔ انھوں نے کہا کہ وہ کسی صورت اب واپس پاکستان نہیں جائیں گے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے شہر سوات میں مقیم بلدیو کمار کے بھائی اور تحصیل کونسلر تلک کمار نے رابطے کرنے پر بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا کہ ان کے بھائی کی طرف سے انڈیا میں سیاسی پناہ کی درخواست دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ بلدیو کمار کی بیٹی تھلیسمیا کے مرض میں مبتلا ہے اور وہ عید کے دنوں میں بیٹی کے علاج کے لیے بیوی بچوں سمیت انڈیا چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں یہ سن کر نہایت افسوس ہوا کہ بلدیو کمار نے وطن چھوڑ کر دوسرے ملک میں پناہ کی درخواست دائر کردی ہے۔

تلک کمار کے مطابق 'ہمارا سارا خاندان پاکستان میں رہتا ہے، یہ ہمارا ملک ہے، بلدیو کمار کی پیدائش بھی پاکستان میں ہوئی ہے اور ہمیں یہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ان کے بڑے بھائی کو جب بلدیو کمار کی سیاسی پناہ کے درخواست کے بارے معلوم ہوا تو انھیں بھی اس بات سے سخت دکھ پہنچا ہے۔

دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اور صوبائی حکومت کے ترجمان شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ بلدیو کمار پر پی ٹی آئی کے اقلیتی ایم پی اے سردار سورن سنگھ کے قتل کا الزام لگنے کے بعد ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب وہ پی ٹی آئی کے رکن نہیں ہیں۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بلدیو کمار کو سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سورن سنگھ کے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ اور ابھی بھی ان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔

عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ سورن سنگھ کے قتل کے بعد بلدیو کمار کو پارٹی سے بے دخل کردیا گیا تھا اور پارٹی نے ان کی رکنیت کے حلف کی مخالفت کی تھی۔ عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ بلدیو کے الزامات پر یقین کرنے سے پہلے یہ پرکھنا ضروری ہے کہ ان کا ایسا کرنے کا محرک کیا ہے۔

تاہم بلدیو کمار کے بھائیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کے بھائی (بلدیوکمار) بدستور تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے اقلیتی رہنما سردار سورن سنگھ سنہ 2016 میں بونیر میں ایک حملے میں ہلاک کیے گئے تھے۔ تاہم بعد میں اس قتل کا الزام ان ہی کی سیاسی جماعت کے رکن بلدیو کمار سمیت پانچ افراد پر لگایا گیا تھا اور انھیں اس ضمن گرفتار کر کے ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کے عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت بونیر میں دو سال تک اس کیس کی سماعت ہوئی اور 26 اپریل 2018 کو بلدیو کمار سمیت تمام پانچ افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔

سورن سنگھ

پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما سردار سورن سنگھ کو سنہ 2016 میں ضلع بونیر کے علاقے پیر بابا میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کی طرف سے مخصوص نشستوں کے لیے دی گئی لسٹ میں اس اقلیتی نشست پر بلدیو کمار کا نام دوسرے نمبر پر دیا گیا تھا۔ جس کے تحت سردار سورن سنگھ کی موت کی صورت میں بلدیو کمار کو اس نشست پر منتخب ہونا تھا۔

لیکن حکومت کی طرف سے بلدیو کمار کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے گئے جس پر بعد میں ملزم کی طرف سے ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا۔

عدالت عالیہ کی طرف سے حکم کے بعد بھی حکومت کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے رہے اور بلدیو کمار کو آخری روز جب اسمبلیوں اور حکومت کی مدت ختم ہو رہی تھی اسی دن اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ اس دن ان سے سپیکر کی طرف سے حلف لیا گیا اور اسی طرح وہ چند گھنٹوں کے لیے صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔

سردار بلدیو کمار کا تعلق سکھ مذہب سے ہے۔ ان کا سارا خاندان سوات کے علاقے بری کوٹ میں رہائش پذیر ہے جہاں ان کے دو بھائی اور والدہ مقیم ہیں۔ بلدیو کمار کی اہلیہ کا تعلق بھی انڈیا سے بتایا جاتا ہے۔

دریں اثنا پی ٹی آئی کے مقتول اقلیتی رہنما سردار سورن سنگھ کے صاحبزادے اجے سورن سنگھ نے دعویٰ کیا ہے کہ بلدیو کمار کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں ان کے والد کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے اور ایسے میں وہ کیسے ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے بلدیو کمار کو بری کیا گیا لیکن بعد میں ان کی طرف سے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی اور اس کیس کی سماعت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'ایسا ملزم کیسے بیرونی ملک کا ویزہ حاصل کرسکتا ہے جس کے خلاف عدالتوں میں قتل کے کیس کی سماعت جاری ہو۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *