دارالعلوم دیوبند کے استاد ودرجنوں کتابوں کے مصنف علامہ جمال ؒنہ رہے

" محمد نجیب قاسمی سنبھلی "

ایشیا کی سب سے بڑی دینی درسگاہ ”دارالعلوم دیوبند“ کے استاد تفسیر وفقہ وعربی ادب حضرت مولانامحمد جمال بلندشہری ؒ کے انتقال کے بعد علمی حلقوں میں کافی رنج وغم کا ماحول ہے کیونکہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں سے دارالعلوم دیوبند میں صرف چار اساتذہ باقی بچے تھے۔ اب علامہ جمال ؒ کی وفات کے بعد دارالعلوم دیوبند میں صرف تین اساتذہ شیخ الاسلام کے تلامذہ میں سے رہ گئے ہیں: استاد الاساتذہ حضرت مولانانعمت اللہ صاحب اعظمی، حضرت مولانا بلال اصغر صاحب دیوبندی اور حضرت علامہ قمر الدین صاحب گورکھپوری۔ اللہ تعالیٰ اِن تینوں حضرات کو صحت وتندرستی کے ساتھ رکھے۔
شارح جلالین حضرت مولانامحمد جمال بلندشہری ؒ ۶۳۹۱ء میں بلندشہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم مختلف مدارس سے حاصل کرتے ہوئے پنجم کے سال دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے کر اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا۔ ۵۵۹۱ء اور ۶۵۹۱ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث کی مشہور ومعروف کتاب ”صحیح البخاری“ از اوّل تا آخر پڑھی۔ دارالعلوم دیوبند سے ۶۵۹۱ء میں فراغت کے بعد مولانا مرحوم نے گجرات اور مدراس کے مختلف مدرسوں میں درس وتدریس کی خدمات انجام دیں۔ آپ اصل میں بلند شہر کے رہنے والے تھے مگر بعد میں شہر میرٹھ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ حضرت مولانا محمد جمالؒ کی دارالعلوم دیوبند میں استاد کی حیثیت سے تقرری ۴۸۹۱ء میں ہوئی۔ تفسیر، فقہ اور عربی ادب سے متعلق متعدد کتابیں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں پڑھائیں۔ اسی دوران آپ نے درسی کتابوں کی شرح لکھنے پر اپنا قلم اٹھایا اور مختلف شروحات تحریر فرمائیں، جن میں ہدایہ، حسامی، مبادیئ الاصول اور مقامات حریری کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن جو قلمی کارنامہ آپ کی عالمی شہرت کا سبب بنا وہ مشہور ومعروف تفسیر ”جلالین“ کی ”جمالین“ کے نام سے اردو شرح ہے جو چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ حضرت مرحوم کی جلالین کی یہ مذکورہ شرح آپ کے دریائے علم اور بحر عرفاں کی غمازی کرتی ہے۔ تقریباً سترہ سال آپ نے تفسیر کی مشہور کتاب ”جلالین“ دارالعلوم دیوبند میں پڑھائی۔ اوّلاً آپ نے آسان زبان میں جلالین کا معنی خیز اردو ترجمہ بنام ”قرۃ العینین“ تحریر کیا جو آج بھی علمی حلقوں میں کافی مقبول ہے۔ ہر مکتب فکر کے علماء نے حضرت مرحوم کی خاص کر اِن دونوں کتابوں کو اس طرح ہاتھوں میں لیا کہ آپ ”شارح جلالین“ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
حضرت مولانا محمد جمال بلندشہریؒ نہ صرف ایک مایہئ ناز مصنف تھے بلکہ آپ ایک کامیاب استاد بھی تھے، چنانچہ آپ کی مکمل کوشش رہتی تھی کہ طلبہ پابندی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔ میں نے بھی حضرت سے مقامات حریری اور جلالین پڑھی ہے۔ حضرت استاد محترم کو اللہ تعالیٰ نے جہاں دوسرے اوصاف سے نوازا تھا وہیں آپ کو نرم مزاج، سادہ لوح اور ہر ایک کے لئے مشفق ومحبوب بنایا تھا۔ غصہ کرنا تو درکنار حضرت چہرے پر شکن لانا بھی نہیں جانتے تھے۔ فیشن کے اِس موجودہ زمانہ میں بھی سادہ کرتا پائجامہ ہی آپ زیب تن کیا کرتے تھے۔ احاطہ مولسری سے مسجد قدیم کی طرف نکلتی ہوئی گلی کے کونے میں آپ کا کمرہ تھا۔ کمرہ سے درسگاہ جاکر بچوں کو پڑھانا، مسجد قدیم میں جاکر نماز ادا کرنا اور تصنیف وتالیف ہی آپ کا سب سے بڑا مشغلہ تھا۔ استاد محترم کی دیگر بے شمار خوبیاں تھیں جن میں مزید ایک خوبی کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حضرت طلبہ کے ساتھ میل جول کے ساتھ رہتے تھے جس سے طلبہ اپنی باتوں اور ضرورتوں کو حضرت سے شیئر بھی کرلیا کرتے تھے۔ آپ طلبہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے۔ غرضیکہ علامہ جمالؒ ایک پیکر جمال تھے۔ متعدد کتابوں کے مصنف اور دارالعلوم دیوبند کے مایہئ ناز استاد حضرت مولانا محمد جمال بلندشہری ؒ ۷۱ محرم الحرام ۱۴۴۱ء مطابق ۷۱ ستمبر ۹۱۰۲ء بروز منگل کو میرٹھ میں دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے۔ آپ تقریباً ۳۸ سال کے تھے اور تقریباً ۵۳ سال سے دارالعلوم دیوبند میں قرآن وحدیث کی عظیم خدمات پیش کررہے تھے۔ گزشتہ سال تک سخت بیماری کے باوجود انتہائی جانفشانی کے ساتھ دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، لیکن امسال شوال سے سخت علالت کی بناء پر تدریسی سلسلہ منقطع رہا۔ مرحوم کی نماز جنازہ دارالعلوم دیوبند کے احاطہ مولسری میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب نے ادا کرائی جس میں علماء کرام خاص کر دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کے اساتذہ، طلبہ، مولانا کے آبائی شہر بلند شہر اور میرٹھ سے آنے والے افراد اور دیوبند شہر کی کثیر تعداد کے علاوہ آپ کے ہزاروں شاگردوں نے شرکت فرمائی۔ بعد میں دارالعلوم دیوبند کے مشہور قبرستان ”مزار قاسمی“ میں دارالعلوم دیوبند کے اِس عظیم سپوت کو دفن کردیا گیا۔
خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر شخص کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعین کردی ہے اور موت ایسی شی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر یا فاجر حتی کہ دہریہ ہی کیوں نہ ہو، موت کو یقینی مانتا ہے۔ اللہ کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ استاد محترم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے، آمین۔ ایک دن ہمیں بھی یہ دنیاوی زندگی چھوڑ کر جاناہے، الحمد للہ! ابھی ہم بقید حیات ہیں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لئے کب آجائے، معلوم نہیں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھایا جائے۔ بڑھاپہ آنے سے قبل جوانی سے۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔ کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بیماری سے قبل صحت سے۔لہذا ہمیں نیک اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *