سڑک کنارے

میں نے ۲۰۰۵ میں ڈرائیونگ کرنا سیکھی۔ میری ابتدائی تربیت ہمارے گھریلو ڈرائیور نے کی اور پہلے ہی دن سے وہ مجھے راولپنڈی شہر کی مصروف ترین سڑک پرگاڑی چلاتے ہوئے فیض آباد تک لاتے لیکن اس کے بعد خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لیتے۔ میں سمجھتی رہی کہ اسلام آباد کی پولیس کی سختی سے کتراتے ہوئے وہ ایسا کرتے ہوں گے۔ مگر ایک دن میرے پوچھنے پر انہوں نے بتلایا کہ "میں آپ کو آسانی کی عادت نہیں ڈالنا چاہتا۔ آپ اگرشروع ہی سے مشکل ٹریفک میں صحیح ڈرائیونگ کرنا سیکھ جائیں گی تو کبھی گھبرائیں گی نہیں۔" میں بے حد شکر گزار ہوں ان کی کہ انہوں نے مجھے مشکل صورتحال میں قانونی طور پر درست ڈرائیونگ کرنے کے اصول بتلائے اورعادت بھی ڈالی۔ میں نے اکثر راولپنڈی اور اسلام آباد آتے جاتے لوگوں کوٹریفک کی خلاف ورزی کرتے، ٹکراتے اور پھر ایک دوسرے سے الجھتے دیکھا ہے۔ اکثر غلطی بھی دونوں کی ہوتی ہے اس لیے فیصلہ بھی نہیں ہو سکتا۔ مجھے ان پر حیرت نہیں ہوتی۔ بلکہ افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے سیکھنے کا عمل یا تو مکمل ہی نہیں کیا یا پھرسب سیکھ کر بھلا دیا۔ اور اگر کبھی کوئی معصوم فرد ایسا ہو جو قانون جانتا بھی ہو اور اس کی غلطی بھی نہ ہو تو اس کی حالت دیدنی ہوتی ہے کیونکہ اسے لگ رہا ہوتا ہے کہ یا تو وہ اکیلا پاگل ہے یا آس پاس کے تمام لوگوں کو کوئی ذہنی مسئلہ ہے۔

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ والدین کو بھی اپنے بچوں کی تربیت کے دوران ایسی ہی حقیقت پسندی سے کام لینا چاہئے جیسا کہ میرے استاد محترم نے لیا تھا۔ والدین برس ہا برس بچوں کومشکل حالات سے بچائے رکھتے ہیں۔ انہیں ایک تخئیلاتی اور اچھوتی دنیا کی تصویر دکھاتے ہیں، کیا ہونا چاہئے اور در حقیقت کیا ہو رہا ہے کا فرق بیان نہیں کرتے۔ لہذا  سب اچھا ہے کے وہم کے ساتھ جینے کی عادت ڈال دیتے ہیں۔ جب اولاد جوانی کے عالم میں تخئیلاتی دنیا سے نکل کر حقیقی دنیا کا سامنا کرتی ہے تو ایک کے بعد ایک غلطی کرتی ہے۔ ایک الجھائو کا شکار ہوتی اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔۷۲ سالوں میں پاکستان کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو غیر تعلیم یافتہ رہی ہے یا پھر صرف پرائمری یا مڈل پاس۔ یہ نو جوان کوئی عملی قبلیت نہ ہونے کی وجہ سے اس معاشرے کا کار آمد شہری بننے کے لیے سالہا سال کاوش کرتے رہتے ہیں۔  اور پھر کہیں جا کر اس قابل ہوتے ہیں کہ گھر اور معاشرہ ان کے وجود کی اہمیت کو تسلیم کرے۔ ان حالات میں یہ ناممکن ہے کہ معاشرے کے یہ افراد مثبت رویے لے کر آگے بڑھیں کیونکہ حالات اور واقعات کی تلخی ان کے اندر سرائت کر چکی ہوتی ہے۔

اس تمام عمل کے دوران ہر نسل میں ایک تعداد ان نو جوانوں کی بھی رہی ہے جو نہ صرف یہ کہ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ ان کے والدین اور اساتذہ نے ان کی تربیت ایک مہذب معاشرے کے شہری بننے کے لیے کی ہے۔  یہ نوجوان جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کا سامنا ایک بےہنگم اورغیر مہذب ہجوم سے ہوتا ہے۔ وہ اپنی سی کاوش جاری رکھتے ہیں کہ جو اصول و ضوابط ان کے اساتذہ اور ان کے والدین نے بتلائے تھے انہی کے مطابق کام کریں۔ مگر کچھ ہی عرصہ میں وہ شدید ذہنی دبائو اور وحشت کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ کیونکہ ان کے آس پاس ایک بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی ہوتی ہے جنہوں نے دھکم پیل اور چھینا جھپٹی سے اپنا حق چھیننا سیکھ رکھا ہے نہ کہ قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنا۔ ایسے معاشرے میں سلجھے ہوئے افراد کی حالت بالکل ویسی ہی نظر آتی ہے جیسی ٹریفک قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اس شخص کی تھی جو بالآخر اس سوچ میں تھا کہ کیا وہ اکیلا پاگل ہے یا آس پاس کے تمام لوگوں کو کوئی ذہنی مسئلہ ہے۔

میری اپنے ہم عمر افراد سے درخواست ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اس معاشرے کے مطابق کیجئے۔ انہیں قانون کی پاسداری سکھائیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ احتیاط پرہیز بھی بتائیے جیسا کہ میرے استاد محترم نے بتایا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ڈرائیونگ ایسے کرنی ہے کہ سڑک پر کسی کو قانون کا نہ تو پتہ ہے نہ فکر ہے، ایک بس تمہیں پتہ ہے اس لیے تم نے خود کو بھی بچانا ہے اوردوسروں کو بھی۔  ایسے معاشرے جہاں لاعلم اور لاپرواہ لوگوں کی تعداد دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہو وہاں رہنے والے اہل علم و دانش کے لیے ضروری ہے کہ سڑک کنارے چلا کریں تا کہ تصادم کا اندیشہ کم سے کم ہو اور ضرورت پڑنے پرنہ صرف اپنی رفتار کم کی جاسکے، بلکہ رک بھی جایا جائے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *