صوبائی حکومتیں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ دیں ورنہ عدالت دے گی، چیف جسٹس

Iftikharچیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ گزشتہ سال سے بلدیاتی انتخابات کیلئے کہہ رہی ہے مگر پنجاب اور سندھ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ دیں ورنہ عدالت تاریخ دے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے کوئٹہ رجسٹری میں بلوچستان امن وامان کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے بلدیاتی انتخابات کے متعلق وفاق اور صوبوں کی پیشرفت کے بارے میں استفسار کیا اس موقع پر وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور کا کہناتھا کہ وفاق تو بلدیاتی انتخابات کیلئے پہلے سے تیار ہے پنجاب حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے صوبے میں نئی حد بندیاں کرانی ہیں اور نیا قانون لانا ہے اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو کچھ کرنا ہے جلد ازجلد کریں عدالت نے پہلے بھی 15 ستمبر کی تاریخ دی تھی کہ اس وقت تک تمام امور طے کرلیں چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی حد بندی نہیں ہونی، پنجاب حکومت محض وقت گزارنا چاہتی ہے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں تو پرانی پر ہی بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں اور اگر نئے الیکشن نہیں کراسکتے تو کیوں نہ پرانے والے بحال ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ گزشتہ سال سے بلدیاتی انتخابات کیلئے کہہ رہی ہے مگر پنجاب اور سندھ تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ متعین کریں ورنہ عدالت تاریخ دے گی، دوسری جانب بلوچستان حکومت کے وکیل شاہد حامد نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات سیاسی بنیادوں پر کرائیں گے،اس پر چیف جسٹس کے ریمارکس تھے کہ بلدیاتی انتخابات بلوچستان کی بہت اہم ضرورت ہیں، بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بعد 85 فیصد مسائل خود بخود حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *