دشمن

محمد طاہرM tahir

بلوچستان کے مسئلے کاحل چمکتے دمکتے الفاظ کی گوٹا کناری سمجھ لیا گیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اب تک نوکر شاہی اور اشرافیہ کو یہ سمجھ نہیں آیا کہ اب ریشمی فقروں اور گلابی جملوں کا دور لد گیا ہے۔ جب حکومتی انتظامیہ اور عسکری اشرافیہ ایک چھڑی یا سرخ رنگ کی شعاع دار اشارہ نما سے ہمارے سامنے اعداد وشمار پیش کرتے ہیں تو سب سے پہلے خود اپنے آپ پر غصہ آتا ہے کہ ہماری بصیرتوں کے بارے میں یہ کس نوع کا گمان پالتے ہیں اور اپنی دانش کے موتی رولتے ہوئے یہ ہماری بے وقوفیوں کی کون سی حد اپنے ذہنوں میں متعین کر لیتے ہیں۔
سانحۂ مستونگ کے مضمرات پر غور کے لئے کوئی سنجیدہ کاوش کہیں نظر نہیں آتی۔اس دوران بلوچستان میں آپریشن (جراحت ) اور لرزہ خیز وارداتوں کا سلسلہ بیک وقت جاری ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ ا س عامیا نہ مساوات میں یہ سلسلہ اگلی کئی دہائیوں تک یوں ہی جاری رہے گا۔ظاہر ہے کہ اس پر ایک طویل اور جوہری نوعیت کے غور وفکر کی ضرورت ہے مگر یہ کوشش کسی بھی سطح پر نہیں ہورہی۔ براہِ مہربانی وزیر اعظم کے دورۂ بلوچستان کا ذکر نہ کیجئے گا ، بلا امتیاز کسی بھی وزیر اعظم کی اس نوع کی روایتی مشق کی اب کوئی وقعت باقی نہیں رہ گئی ۔اب تو یوں لگتا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ اربابِ اختیار اس پر سرکاری دورے کرنے سے اجتناب کریں۔ تاکہ اس پر اُٹھنے والے سرکاری اخراجات سے مرے کو مارے شاہ مدارکا نقشہ نہ بنے۔اصل بات وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک کے لاہور میں نیشنل پارٹی پنجاب کے کنونشن سے خطاب کے دوران ایک فقرے میں ہے کہ
’’بلوچستان لاکھ چیخے کوئی نہیں سنتا، لاہور میں ایک چیخ پورا ملک سنتا ہے۔‘‘
یہی شکایت باقی تین صوبوں کی بھی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ خودپنجاب کے اندر یہی شکایت بالائی پنجاب کے علاقوں اور سرائیکی پٹی پر آباد لوگوں کو بھی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ یہ شکایت دراصل ایک مخصوص سیاسی اشرافیہ کی بدولت ہے ۔جو مملکت کے اندر کسی بھی مسئلے کو اپنے سیاسی اہداف کی روشنی میں دیکھتے ہیں ، اُس کے اپنے میرٹ (وصف ) پر نہیں۔اگر یہ صوبائی تعصب کا مسئلہ ہوتا توباقی تین صوبوں سے زیادہ یہ شکایتیں خود پنجاب کے اندر نہ پائی جاتیں۔ انتہائی ادب سے عرض ہے کہ اس قومی رویئے میں ’’را‘‘ کا کوئی عمل دخل نہیں، جی ہاں! بھارت کہیں بھی ملوث نہیں۔بیرونی دشمن صرف وہیں کامیاب ہوتا ہے جہاں اندرونی ہاتھ ایک دوسرے کے خلاف اُٹھے ہوئے ہو، اور بدگمانیوں کی زہریلی فصل اُگی ہوئی ہو۔ ایسے میں پہلا کام بیرونی دشمن کو للکارنے کا نہیں اپنی صفوں کو ترتیب دینے کا ہوتا ہے۔ عسکری اشرافیہ سے زیادہ کون جانتا ہے کہ دشمن سے لڑائی میں اپنی صفوں کی ترتیب کی اہمیت کتنی فیصلہ کن ہوتی ہے؟ سیاسی اور قومی معاملات میں بھی مضمون واحد ہے۔
سیاسی اور قومی معاملات کامگر حال کیا ہے؟ کسی پہلو سے آغاز کیجئے، آغازِ حقوقِ بلوچستان کو ہی لے لیں، جسے ایک خوب صورت دستاویز کی شکل دے کر باور کرا دیا گیا کہ بس اب اس دارالشفاء سے ملنے والا تریاق ہر زہر کا علاج بن جائے گا۔ پھر کیا ہوا ؟ وہی بلوچستان اور وہی مسائلستان۔ اس حل سے وابستہ لوگوں کا کوئی احتساب ہوا ؟ کیا یہ پوچھنے کی زحمت بھی گوارا کی جاتی ہے کہ اس پیکیج کے اہداف پورے ہوئے یا نہیں؟ چلیں یہ نہ سہی خوداس پیکیج پر ہی کوئی عمل ہوا ہے یانہیں؟ مگر اس دوران کچھ نئے لوگ امیر اور کچھ پُرانے لوگ زیادہ امیر ضرور بنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم بلوچوں کو ایک پیکیج کے نام پر رقوم کے دل لبھانے والے اعدادوشمار یاترقی کے نام پر کوئی دلکش منصوبہ دینے کا واویلا کرتے ہیں تو کتنی بار یہ سوچتے ہیں کہ بلوچ آخر ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ اگر ہم ایک ہی ملک کے شہری ہیں تو پھر ہمارا رویہ بھی استعمار کی ٹکسال میں ڈھلا ہوا کیوں لگتا ہے؟پُرانے برطانیا اورنئے امریکا نے جتنے بھی ملکوں پر حملے کئے تو وہ وہاں کیا لے کر گئے تھے؟ ترقیاتی منصوبے اور فوج۔۔ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ فوجی حل نواستعماری ذہن کی کاریگری ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس سے نکل ہی نہیں پاتے۔اس ضمن میں مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کو اختیار ہواور اس کا پہلا فائدہ بھی بلوچ عوام کو پہنچے۔ یہ نکتہ اتنی بار کہا اور بولاجاتا ہے کہ اب اس کی حیثیت ایک پامال فقرے کی ہوکر رہ گئی ہے۔ مگر اس فقرے پر پورا دھیان کبھی دیا ہی نہیں گیا۔چنانچہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے بھی گزشتہ روز یہی الفاظ دُہرائے تو یہ اخبارات میں کسی بڑی سرخی کے حقدار نہ ٹہرے۔ اُن کے الفاظ بھی جُوں کے تُوں پڑھ لیجئے:
’’بلوچ عوام ساحل اور وسائل پر حق چاہتے ہیں، اُنہیں چوکیدار نہ بنایا جائے۔‘‘
ایک بار پھر پڑھ لیجئے ’’اُنہیں چوکیدار نہ بنایا جائے‘‘ اس کا مطلب کتنا توہین آمیز ہے۔بلوچ کیوں نہ بگڑیں؟ اگر اُن کے وسائل پر اُن کا اختیار اشرافیہ کی بھیک ،رعایت ،رحم اور دَیا پر انحصار کرتا ہو۔ پھر عزت یا توہین کے معاملے میں حساس یہ بدعنوان اشرافیہ ہی ہو سکتی ہے ۔ کیا تہی دست اور بے وسیلہ خلق اپنی عزت یا توہین کے معاملے میں ذرا سی بھی حساسیت کی مستحق نہیں۔ وہ بے عزت کرنے والوں کو یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ عزت ماب !آپ ہماری بے عزتی فرما رہے ہیں!!!ذرا دوسری طرف کا ماجرا دیکھئے!عزت کے معاملے میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک دوسوال کی تاب نہیں لا سکے ۔ دیکھئے وہ اُس اینکر پرسن عمران خان پر کتنا بگڑے۔ قدیم زمانوں کے شاہی مزاج کی رعونت اُن کے الفاظ میں سمٹ آئی تھی اور اُن کے رویئے میں استعمارزدہ ذہن کی تحقیر کلام کر رہی تھی۔پھر وہ کتنی جلدی اپنے مزاج میں تبدیلی لائے اور گویا ہوئے کہ بھائیوں میں ایسا ہو جاتا ہے۔ بھائیوں میں؟ مجھے تو بس اِسی لفظ پر اعتراض ہے، اُن کی جانب سے کی گئی تحقیر یا ملامت پر نہیں۔ ہم اس اشرافیہ کے بھائی کیسے ہوگئے؟ وہ ہمیں ہر طرح سے مارتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اِسے بھائیوں کی طرح لیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ترتیب کو ذرا بدل کر اس مکالمے کو ادا کیا جائے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ترتیب کبھی بدلتی ہی نہیں۔ آمدم برسرِ مطلب! بلوچستان کے وسائل پر بلوچ عوام کے اختیار کا مطلب ایک سیاسی نظام میں سیاستدانوں کا اختیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ذیلی تفہیم میں دھیان کہیں قبائلی سرداروں کی طرف بھی چلا جاتا ہے۔قبائلی سردار اور سیاست دان سرے سے یہ اعتماد رکھتے ہی نہیں ہے۔ بلوچ عوام ہی نہیں پورے پاکستان میں اس کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے کہ دودھ کی رکھوالی بلے کے حوالے ۔۔بدقسمتی سے اس باب میں پیپلزپارٹی کے رہنما ہو یا مسلم لیگ نون کے رہنما، ان میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ اگر کوئی فرق ہے تو وہ صرف طریقۂ واردات کا ہے۔ان کے میزان، اوزان اور اوسان ایک جیسے ہی ہیں۔ ذرا ایک بار بلوچستان کے لئے پیکیج کی تیاری میں نوکر شاہی کے چنگل سے نکل کر اس پر دھیان دیجئے کہ بلوچ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟ علیحدگی پسندی اُن کا آپشن نہیں ہمارے رویئے پر اُن کا ردِ عمل ہے۔ فعال علیحدگی پسندوں میں بھی یہی لوگ زیادہ ہیں۔ یہ کام تب ہی ہو سکے گا جب ریاست اس بات کو اچھی طرح جان اور جانچ لے گی کہ اس کی نوعیت ایک وفاق کی ہے۔
ایک وفاقی ریاست کے طور پر پاکستان اور اس کی حکومتوں کو کیسے بروئے کار آنا چاہئے؟ اگر پاکستان ایک وفاق ہے تو اس کی ہئتِ مقتدرہ کو طاقت کی ارتکاز پسندی سے نجات پانی ہوگی۔ ریاست کی یہ نوعیت موجودہ پاکستان کو مستقل ایک دردِ سر میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ پھر ایسا بھی نہیں کہ ہم نے قوت کے بے پناہ ارتکاز کے ناقابل قبول بہاؤ میں اقتدار کو ایک ایسی آدرش سطح پر آزما کر دکھا یا ہو کہ عام لوگ اِسے دیگر فوائد کو دھیان میں رکھ کر قبول کر لیں۔یہاں ہر قسم کی حب الوطنی کو صرف دولت بٹورنے اور استحصال کے نئے نئے طریقے ڈھونڈنے پر صرف کیا گیا ہے۔ اگر حکومتیں انصاف کی بلا امتیاز فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو اپنی اولین ترجیح بنا دیتی تو پھر اقتدار کی نوعیت کا سوال اپنی کشش کھو دیتا۔ مگر بدعنوان اشرافیہ ایک طرف اپنی بدعنوانیاں ترک نہیں کررہی اور دوسری طرف وہ دوسروں کے جائز سوالات کو بھی حب الوطنی کی آڑ لے کر ٹھکرا دیتی ہے۔ اس کے ردِعمل میں پھر ایک عام آدمی میں بھی حقارت کیوں کر پیدا نہ ہو؟وہ ہورہی ہے۔ وہ صرف بلوچستان میں نہیں ہر جگہ ہو رہی ہے۔ بات پھر ادھوری رہتی ہے مگر بھارت کا کام کسی اور نے نہیں ہم نے آسان بنایا ہے۔ بھارت تو ہمارا ازلی دشمن ہے مگر ہم اپنے کیسے اور کب کے دشمن ہیں اسے بھی بہت اچھی طرح ٹولنے اور ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *