دارالحکومت پر حکمرانی کامعیار

ڈاکٹر رسول بخش رئیسrasool

اسلام آباد میرا گھر ہے، یا یوں کہہ لیں کہ یہ وہ شہر ہے جہاں میں فروری 1974ء میں تدریس کے شعبے میں ملازمت کی تلاش میں آیا تو پھر یہیں آبادہوکر رہ گیا۔ یہ فروری کا خنک دن تھا جب میں دارالحکومت، جو اُس وقت ابتدائی تعمیراتی مراحل طے کررہا تھا، کی طرف زندگی میں پہلی مرتبہ روانہ ہوا۔ لاہور سے ویگن میں سوار ہوتے وقت میرے ذہن میں بہت سی رومانوی جگہوں کا تصور تھا جن کے بارے میں اپنے دوستوںسے سن چکا تھا۔ جب ویگن دھند میں روپوش راوی پل پر سے گزر رہی تھی تو میرے ذہن میں آبپارہ، زیروپوائنٹ،میلوڈی، سپرمارکیٹ اور اسلام آباد یونیورسٹی کے تخیلاتی نقشے ابھررہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میں کسی طلسمی سفر پر روانہ ہورہا ہوں۔
اسلام آباد درحقیقت اُن شہروں سے بہت مختلف ثابت ہوا جہاں مجھے جوانی میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ تعلیم اور فیلوشپ کے سلسلے میں بیرونی ممالک میں مختلف اوقات میں بسر کیے گئے ایک عشرے کو نکال کر میری زندگی کا بڑا حصہ، تقریباً اکتالیس سال، اسی شہر میں گزرے ہیں۔ اس بنا پر میں یہ پورے وثوق سے دعویٰ کر سکتاہوں کہ یہ شہر ان چارعشروں میںمیرے سامنے تعمیر ہوا ہے۔ وہ وقت بھی میری نظروں کے سامنے ہے جب فیصل ایونیو پر ٹیلی فون اور ٹیلی گراف محکمے کے ملازمین کے رہائشی کوارٹروں کے سوا کچھ نہیں تھا۔ شہر میں وسعت پذیری کا عمل بہت حد تک سست روی کا شکا رتھا، تاہم گزشتہ پندرہ برسو ں میں اسلام آباد نے پنجاب کے ایک ''سرحدی قصبے‘‘ سے ایک شہر کا روپ دھارنے کا مرحلہ نسبتاً تیزی سے طے کیا۔ دارالحکومت نے بطور ِخاص تعلیم کے شعبے میں خاصی ترقی کی ، چنانچہ آج اس میں درجنوں پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں اور سینکڑوں سکول اور کالج موجود ہیں۔ اس کی آبادی جو کبھی ہزاروں میں ہوتی تھی، کم و بیش بیس لاکھ تک پہنچ چکی اور اس میں بلاروک ٹوک اضافہ جاری ہے کیونکہ یہ شہر ہریالی اور پرسکون ماحول اور موسم کی وجہ سے بہت کشش رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگ اسلام آباد میں رہائش رکھنا بھی ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔
جہاں تک ثقافتی سرگرمیوں کا تعلق ہے تو شاید بہت سوں کو میرا یہ دعویٰ مبالغہ آرائی لگے کہ اسلام آباد بھی ثقافت کے اعتبار سے لاہور اور کراچی کا ہم پلہ ہے ، گو کہ یہ دونوں موخرالذکر شہربہت سے عظیم شاعروں، لکھاریوںاور فن کاروں کی موجودگی پر ناز کرسکتے ہیں۔ درحقیقت اسلام آباد میں کئی عشروں سے میں نے لوک ثقافتی میلے ، جو اپنی طرز کا دنیا کا بہترین ثقافتی تہوار ہے، دیگر شہروں کی موسیقی اور سندھ کی تہذیب سے لے کر جدید پاکستان کے خدوخال کی عکاسی کرنے والے عناصر سے لطف اٹھایا ہے۔ اس میلے کی مثل میں نے کسی اور شہر میں نہیں دیکھی۔
میرا خیال ہے کہ اسلام آباد کا قیام پاکستان کے بڑے کارناموںسے میں سے ایک ہے۔ میں اس کا تصورپیش کرنے والوں، اس کی تعمیراتی منصوبہ سازی کرنے والوں اور بطور قومی دارالحکومت اس کی بنیاد رکھنے والوں کو سلام کرتا ہوں۔ کسی خالی جگہ پر شاید ہی کوئی دارالحکومت اس طرح تعمیر کیا گیا ہو۔ سید پور گائوں کے عجائب گھر کے ہال کی دیواروں کے ساتھ آویزاں تصویروں میں مکئی اور گندم کے کھیتوں، چھوٹے سے دیہات اور بل کھاتی ، بہتی صاف شفاف ندیوں اور جھرنوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ دارالحکومت کے لیے رطب اللسان ہوتے ہوئے میری ہمدردی اُن افراد کے ساتھ ہے جنہیں یہاںسے بے دخل کیا گیا اور اُنہیں اپنی آبائی زمینیں چھوڑ کر بہت معمولی معاوضہ لے کر دیگر مقامات پر آباد ہونا پڑا۔ بہرحال یہ اسلام آباد کی خوبصورتی کے پیچھے ایک تلخ اور افسوس ناک کہانی ہے۔ اگر کوئی مثالی صورت ِحال ہوتی توان دیہات کو سید پور کی طرح اسلام آباد کے اندر ہی ثقافتی ورثہ زون قراردے کر محفوظ کرلیا جاتا۔ بہرحال سید پور کو محفوظ کرنے والوں کے تصور کوسراہنا چاہیے۔ اسی طرح درجنوں دیہات اور بھی ہیں جو پھیلتے ہوئے اسلام آباد کی وجہ سے تباہی سے دوچار ہیں۔ اگر ممکن ہو تو انہیں بھی اسلام آباد کے اندر ثقافتی زون قرار دے کر محفوظ بنا لیا جائے۔ یہ مقامات شہر کی سیر کو آنے والوں کے لیے بہت پرکشش ہوں گے اور شاید ایسا کرتے ہوئے ہم ایک دارالحکومت میں شہری اور دیہی زندگی کی عملی نمائندگی کا تاثر دینے میںبھی کامیاب ہوجائیں۔
اس وقت اسلام آباد ہر طرف بہت تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔ سی ڈی اے اور ڈیفنس ہائوسنگ سوسائٹی کے علاوہ درجنوں نجی رہائشی سکیمیں اس کی سرحدوں کو میلوں تک پھیلارہی ہیں۔ اس کی رئیل سٹیٹ، چاہے رہائشی ہو یا کمرشل، کی اونچی مارکیٹ قدر کی وجہ سے بہت کشش رکھتی ہے۔ سرکاری افسران کی کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی پوسٹنگ اس شہر میں ہوجائے تاکہ وہ یہاں کے وسائل سے استفادہ کرسکیں۔ اس کے علاوہ دارالحکومت کو کنٹرول کرنے والے سیاست دان بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ گزشتہ کئی عشروںسے قائم ہونے والی ہر حکومت سرکاری پراپرٹی کو سیاسی حمایت کے طور پر پیش کرنے یا اپنے اہل ِ خانہ یا دوستوں کے نام الاٹ کرنے کی روایت رکھتی ہے۔اراکین ِ اسمبلی ، جن کا تعلق ملک کے متمول طبقے سے ہے، کو ایک سے زیادہ مرتبہ پرکشش پلاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ، ان کے دوست اور اہل ِخانہ مزید دولت میں کھیلنے لگتے ہیں۔ تاہم یہ کیک کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔۔۔ اصل حصہ سی ڈی اے اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپر کی پلیٹ میں دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد کے حوالے سے افسوس ناک ترین چیز یہ ہے کہ یہاں سے مقامی سیاسی نمائندگی کا فقدان دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی ، جیسا کہ ملک کے دیگر حصوں میں کسی نہ کسی حد تک دکھائی دیتا ہے، کسی جماعت یافرد کا انتخابات کے ذریعے احتساب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پارکوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں اور دیگر عوامی مقامات کی حالت انتہائی خراب ہے۔۔۔۔۔۔ (جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *