نئے لوڈمینجمنٹ پلان کے تحت صنعتوں اور سی این جی کے لئے 3 ماہ گیس کی بند ش کا فیصلہ

 shahidوفاقی حکومت نے لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرتے ہوئے صنعتوں اور سی این جی کیلئے تین ماہ گیس بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہےجس کی حتمی منظوری اقتصادی تعاون کی کمیٹی دیگی۔ ادھر سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید نے بتایا کہ سی این جی سیکٹر کو 3 ماہ کے لئے گیس بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اس طرح کسی ایک سیکٹر کو نشانہ بنانا مناسب نہیں اور اس حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ گزشتہ روز یہاں سردیوں میں گیس لوڈمینجمنٹ پلان کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم وقدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دسمبر، جنوری اور فروری میں سوئی ناردرن ریجن میں گیس اسٹیشنز اور کھاد کارخانوں کو گیس فراہم نہیں کی جائیگی اور سردیوں میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔ انہوں نے بتایا کہ سوئی ناردرن سسٹم پر سردیوں میں 40کروڑ مکعب فٹ گیس کی کمی ہوگئی ،گھریلو صارفین کو گیس فراہمی کیلئے سی این جی سیکٹر میں مزید لوڈشیڈنگ کی جائیگی جس کا شیڈول جلد جاری کردیا جائیگا۔ دریں اثناء پارلیمنٹ ہائوس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صارفین کی سہولت کیلئے گیس صارفین کے سکیورٹی ڈپازٹ فیس میں کمی کیلئے کمپنیوں کو ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں تشکیل دی جاچکی ہیں کچھ کمیٹیوں کے چیئرمین کا تعین ابھی ہونا ہے جو جلد مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے ‘ مذاکرات ہی ترجیح ہے تاہم حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دسمبر، جنوری اور فروری کے تین ماہ کے دوران ملک کو روزانہ 1.8 ارب کیوبک فٹ گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اجلاس میں موجود ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ سی این جی اسٹیشنز، کیپٹو پاور پلانٹس اور صنعتی و کھاد بنانے والے کارخانوں کو سردیوں کے تین میں گیس کی سپلائی بند رہے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تین ماہ کے دوران ملک کو روزانہ اوسطاً 1800 ملین کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن کو 400 جبکہ سوئی ناردرن کو روزانہ 1400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبہ پنجاب کو اگلے موسم سرما میں سب سے زیادہ گیس کی قلت کا سامنا رہے گا۔ ایک سوال پر مذکورہ افسر نے بتایا کہ وزارت پٹرولیم موسم سرما کی گیس لوڈ مینجمنٹ کے لئے ایک سمری تیار کرنے والی ہے جسے منظوری کے لئے اقتصادی تعاون کی کمیٹی (ای سی سی) کو بھجوایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضائع ہوجانے والی گیس (یو ایف جی) کا حجم 11 فیصد تک پہنچ گیا ہے جبکہ قبل ازیں کے دعوئوں کے مطابق یہ 8 فیصد تھا۔ سوئی سدرن سے گیس کے ایک فیصد نقصان کا مطلب 1.75 ارب روپے جبکہ سوئی ناردن کے سسٹم میں گیس کے ایک فیصد نقصان کا مطلب 2.25 ارب روپے نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ملک کو گیس چوری اور سسٹم لاسز کی مد میں ہر سال 45ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور انڈسٹریل سیکٹر کے درمیان جو معاہدہ ہوچکا ہے اس کے تحت حکومت صنعتی سیکٹر کو سال کے صرف 9 ماہ کے لئے گیس فراہم کرے گی۔ معاہدے کے تحت وزارت پٹرولیم دسمبر، جنوری اور فروری میں صنعت اور کھاد کے سیکٹر کو گیس سپلائی نہیں کرے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *