مدرسے کون جاتا ہے؟

rasoolآج پاکستان میں مدرسے کی تعلیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس کی حقیقت کو سمجھ پاتے ہیں۔ اکثر ناقدین محض خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں ۔ مدرسہ، جو مسلمانان ِ بر ِ صغیر کے لیے روایتی تعلیم کاذریعہ تھا، کے بارے میں پائی جانے والی کنفیوژن تاریخ اور انگریز سرکار کے تعلیمی اداروں کے قیام سے پہلے مدرسے کی طرف سے تعلیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ دراصل برطانوی تعلیمی اداروں کے قیام نے مسلمان آبادی میں روایت پسندوں اور جدید سوچ رکھنے والوں کے درمیان فرق کرنے والی لکیر کھینچ دی تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد بہت سی سماجی، معاشی اور سیاسی تبدیلیاں واقع ہوچکی ہیں لیکن یہ لکیر آج تک باقی ہے، بلکہ بعض صورتوں میں اس کے مزید گہرا ہونے کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔
قومی شناخت کی تلاش، سیاسی طاقت کے سوال ، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں مذہب کے کردارنے تعلیم کی بنیاد پر سماجی تقسیم کو دوچند کردیا ہے۔ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو کس قسم کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے اور اس کے لیے تعلیمی ادارہ کیسا ہو ۔ حاصل کی گئی تعلیم کسی شخص کو پیشے کے انتخاب میں بھی مدد دیتی ہے اور معاشرے کے پیچیدہ تر مسائل کے بارے میں ان کے رویے اور اپروچ پر اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ مدرسے پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ اس سے حاصل کردہ تعلیم کی کوئی مارکیٹ ویلیونہیں۔ دوسری طرف مدرسہ تعلیم کو آفاقی زندگی کی تیاری کا ایک مرحلہ قراردیتا ہے۔
روایتی طور پر شہروں اور قصبوں میں موجودزیادہ تر مساجد میں ایک معلم ہوتا تھا جو قرآن ِ پاک کے علاوہ کچھ دیگر علوم کی تعلیم دے سکتا تھا۔ تقسیم سے پہلے ہندو اور سکھ بھی اپنے بچوں کو عام مضامین کی تعلیم کے لیے مدرسوں میں بھیجتے تھے۔ مثال کے طور پر بہاولپور ریاست میںتمام مدرسے ریاست کے پاس رجسٹرڈ تھے اور ریاست ہی ان کے اساتذہ کو تنخواہیں دیتی تھی۔ موجودہ پاکستان کے بہت سے حصوں میں بہت سے معاملات میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ایک بات کم و بیش یکساں ہے ۔ یہ مقامی سماج پر مدرسے اوروہاں دی جانے والی مذہبی تعلیم کا اثر ہے۔
جدید تعلیم کے فروغ کے ساتھ مدرسہ ایجوکیشن کی جگہ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں قابل ِ ترجیح ادارے بن گئے۔ سیکولر تعلیم کو حاصل ہونے والی مقبولیت اور اس سے وابستہ معاشی اورسماجی حالات میں بہتری کے امکانات نے نوجوانوں کو مدرسوں کی جگہ جدیدتعلیمی اداروں کی راہ دکھائی۔ چونکہ جدید تعلیم مہنگی تھی، اس لیے عام طور پر غریب یا پھر قدامت پسندمذہبی گھرانوں نے اپنے بچوں کو مدرسوں میں بھیجنا شروع کردیا۔ چونکہ جدید تعلیم کو بدیسی تعلیم ، خاص طور پر فرنگی کے متعارف کردہ نظام کے تحت ملنے والی تعلیم، کے طور پر متعارف کرایا گیا ، اس لیے مدرسے نے اس سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے دینی تعلیم کی راہ اپنالی۔ جب تک ایسا نہیں تھا، مدرسے ہی دینی اور دنیاوی تعلیم کا مرکز تھے ، لیکن تعلیم کو نظریات کے ساتھ وابستہ کرنے کی پالیسی نے مدرسے کو مکمل طور پر دینی تعلیم تک محدود کردیا۔ قیام ِ پاکستان سے پہلے جب مسلم شناخت کا مسئلہ ابھر کر سامنے آیا تو مدرسے نے اپنا دائرہ مزید محدود کرلیا۔ تاہم پاکستان بننے کے بعد مدرسے کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ ریاست کو ان کی مطلق خبر نہ تھی یہاں تک کہ چار دہائیاںبیت گئیں۔ اس کے بعد خطے کے معروضی حالات تبدیل ہونا شروع ہوگئے، غیر ملکی طاقتوں نے یہاں اپنا کھیل کھیلنے کے لیے سرمایہ کاری شروع کردی۔ اس کے ساتھ ہی مدرسے کے حالات تبدیل ہونا شروع ہوگئے۔ اس سے پہلے مدرسہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے آواز بلندکرتا رہا تھا لیکن اب علما کے پاس زیادہ طاقت اور اختیار آچکا تھا۔ مدرسے کا نیٹ ورک بھی بہت منظم ہوگیا۔ جب ریاست نے اسے نظر انداز کردینے کی پالیسی اپنائے رکھی توسب سے پہلے یہاں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا ملنے لگی۔ مختلف فرقوں نے اپنے اپنے مدرسے قائم کیے اور اپنا اپنا نصاب طے کرنا شروع کردیا۔ یہ نصاب ان کے فروعی عقائد کے مطابق ہوتا تھا۔پاکستان کے مدرسہ کلچر پر دو واقعات کا اثر بہت گہرا ہوا۔۔۔۔ ایک ایرانی انقلاب اور دوسرا سوویت یونین کی افغانستان میں مداخلت۔ ان دونوں عوامل کی وجہ سے فرقہ وارانہ بنیادوں پر مدرسوں میں سرمایہ کاری کی جانے لگی۔ مدرسہ کے وسائل میں اضافہ ہوا تو ان میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے اپنے اہداف کو بھی پھیلانا شروع کردیا۔
آبادی میں بے تحاشا اضافے ، غربت اور مختلف حکومتوںکی طرف سے تعلیم پر کی جانے والی کم سرمایہ کاری کی وجہ سے روایتی تعلیم مہنگی ہوتی گئی۔ ان حالات میں چونکہ مدرسہ مفت تعلیم فراہم کرتا تھا، اس لیے معاشرے میں غربت میں اضافے نے مدرسے میں طلبہ کی حاضری بڑھا دی۔ غریب والدین کے سامنے اچھا آپشن تھاکہ سرکاری یا نجی سکولوں میں بچوں کی تعلیم پر رقم خرچ کرنے کی بجائے اُنہیں کسی مدرسے میں داخل کرادیں جو نہ صرف اُنہیں مفت تعلیم دیتا ہے بلکہ بہت سے مدرسے رہائش اور خوراک کی ذمہ داری بھی اٹھاتے ہیں۔قابل ِ غور بات یہ ہے کہ غریب سے غریب خاندانوں کے لیے بھی اپنے بچوںکو تعلیم دلانے کے لیے مدرسہ پہلی اور قابل ِ ترجیح چوائس نہیںہے، وہ اپنے بچوںکو جدید تعلیم دلانا چاہتے ہیں لیکن بہ امر ِ مجبور ی وہ اُنہیںمدرسوں میں بھیجتے ہیں۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرتی تو شاید مدرسے اس روش پر نہ چل پاتے جس پر ہم آج دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔
(جاری)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *