کاملہ شمسی کا نیا ناول

MHTبچپن میں، میں نے بھانت بھانت کے شوق پالے ہوئے تھے، ڈاک کے ٹکٹ جمع کرتا تھا، بچوں کے رسالے اور ناول پڑھتا تھا اور کبھی کبھی ان رسالوں میں پوشیدہ کر کے منٹو اور دت بھارتی کی تحریریں پڑھتا تھا، قلمی دوستی کا بھی شوق تھا بلکہ قلمی دوستی کا ایک کلب بھی قائم کر رکھا تھا۔ ایوا گارڈنر، سٹیورٹ گرینجر اور فضل محمود کی تصویریں اخباروں میں سے کاٹ کر البم بناتا تھا۔ دلیپ کمار اور نرگس کو خط لکھا کرتا تھا بلکہ مجھے نرگس نے اپنی آٹو گراف شدہ تصویر بھی بھیجی تھی اور آٹو گراف جمع کرنے کا جنون بھی تھا۔۔۔ ان میں ایک آٹوگراف شوکت تھانوی کا تھا اور انہوں نے میرے لئے لکھا تھا ’’انسان ساری زندگی طالب علم رہ سکتا ہے، مطلب فیل ہونے سے نہیں ہے‘‘۔۔۔ تو میں فیل تو کبھی نہ ہوا لیکن ساری زندگی ایک طالب علم رہا۔۔۔ یعنی میں ایک دائمی طالبان تھا۔۔۔ کتاب سے کبھی رشتہ نہ توڑا۔۔۔ مجھے اپنی زندگی کا کوئی ایک ایسا دن یاد نہیں، سوائے شادی کے دن کے جب کوئی نہ کوئی کتاب میرے زیرمطالعہ نہ رہی ہو۔۔۔ میرے والد صاحب تو کتابوں کے ڈھیر میں گھرے رہتے تھے اور والدہ زچ ہو کر کہا کرتی تھیں کہ یہ کتابیں میری سوکنیں ہیں۔ البتہ میری بیگم نے کبھی میری کتاب بینی پر اعتراض نہیں کیا کہ اُسے ہمیشہ یہ خدشہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں سچ مچ کی سوکن نازل نہ ہو جائے تو اُس سے بہتر کتاب کی سوکن ہے۔ میرے پسندیدہ ترین موضوعات میں تاریخ، آرکیالوجی، فلسفہ، سیرت نبویؐ اور دنیا بھر میں لکھی جانے والی نثر ہے۔ ناول، کہانی اور ڈرامہ ہے۔۔۔ کچھ عرصہ پیشتر میں نے اپنے پڑھنے والوں کو اُن چند ناولوں میں شریک کیا تھا جنہوں نے مجھے متاثر کیا تھا اور ان میں سرفہرست البانیہ کے اسماعیل قدارے اور الجیریا کے یاسمین خدرا ہیں۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے آکسفورڈ لٹریری فیسٹیول میں میرے افسانوں کے حوالے سے جو خصوصی نشست ترتیب دی گئی جس کے میزبان مسعود اشعر تھے، وہاں ادب کے متعدد شائقین نے مجھ سے فرمائش کی کہ مجھے بین الاقوامی ادب کے بارے میں اُنہیں آگاہ کرتے رہنا چاہئے کہ یوں وہ میرے پسندیدہ ناول نگاروں کے بارے میں آگہی حاصل کر کے اُن کی تحریروں کے قریب آ سکتے ہیں۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں تو ایک ماہ میں کم از کم دس بارہ کتابیں پڑھ ڈالتا ہوں تو چناؤ کیسے کیا جائے۔۔۔ اور عین ممکن ہے کہ جو ناول میری پسند کے معیار پر پورا اُترے اُسے عام پڑھنے والے بہت معمولی قرار دیں تو اس مسئلے کا حل میں نے یوں نکالا ہے کہ ماضی کی مانند میں زیادہ تر ایسے ناول نگاروں کا تذکرہ کروں گا جو مسلمان ہیں اگرچہ وہ ہماری مسلمانی کے معیار پر پورے نہیں اترتے یا پھر افریقہ سے تعلق رکھنے والے ناول نگاروں کا تذکرہ کروں۔۔۔ یقین کیجئے ہم میں سے بیشتر کو کچھ علم نہیں کہ البانیہ، مراکو، تیونس، الجیریا، نائیجیریا یا ایتھوپیاکا ایک ناول نگار کیسے اپنی ثقافت اور روایت کو ناول میں ڈھالتا ہے، ان ملکوں کے مسائل کیا ہیں اور ایک عام شخص کس نہج پر سوچتا ہے۔ چلئے ہم آغاز اپنی کاملہ شمسی سے کرتے ہیں۔۔۔ کاملہ کو بین الاقوامی طور پر ایک اہم ناول نگار کے طور پر پہچانا گیا ہے۔ وہ اگرچہ برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن اُن کے تقریباً سب ناولوں کا پس منظر پاکستان اور خاص طور پر کراچی ہے۔۔۔ میں اُن کے ناول ’’سالٹ اینڈ سفران‘‘ سے بہت متاثر ہوا تھا، اُن کے دیگر نالوں میں ’’ان دے سِٹی بائی دے سِی‘‘، ’’کارنوگرافی‘‘، ’’بروکن ورسز‘‘ اور ’’برنٹ شیڈوز‘‘ شامل ہیں۔ آکسفورڈ کے کراچی فیسٹیول کے دوران کبھی ناول نگار محمد حنیف کے ہاں اور کبھی ایچ ایم نقوی کے گھر اُن سے بہت طویل ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں۔ وہ ایک خوش شکل اور اپنی گفتگو سے دل کو موہ لینے والی خاتون ہیں، اُنہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں نے اُن کا تازہ ترین ناول ’’اے گاڈ اِن ایوری سٹون‘‘ پڑھا ہے تو میں نے ہنس کر کہا تھا کہ اب میں صرف وہ ناول پڑھتا ہوں جو مجھے عنایت کئے جاتے ہیں۔۔۔ اگلے روز وہ اپنا ناول میرے لئے لائیں پر میں وہاں نہ تھا جہاں مجھے ہونا چاہئے تھا۔۔۔ بہرطور میں نے لاہور واپس آ کر یہ ناول ’’اے گاڈ اِن ایوری سٹون‘‘ حاصل کیا اور اسے پڑھ ڈالا۔ یہ نام معنویت سے بھرپور ہے۔ پشاور کے آس پاس گندھارا کی سلطنت تھی اور تب ہر پتھر کو تراش کر ایک مہاتما بُدھ تخلیق کر لیا جاتا تھا۔ اس ناول کا مرکزی کردار برطانوی لڑکی روز سپنسر ہے جسے آرکیالوجی سے دلچسپی ہے اور وہ تُرکی میں کھنڈروں کی کھدائی کے دوران اپنے باپ کے ایک تُرک دوست تحسین بے کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ تحسین بے کا کردار نہایت مؤثر ہے اور ان دونوں کے درمیان محبت کے جو لمحے بیان کئے گئے ہیں وہ دل کو چھو لینے والے ہیں۔ تحسین بے ایک ناگہانی موت کا شکار ہو جاتا ہے اور روز سپنسر اُس کی یاد میں کسی دیومالائی قدیم ہار کی کھوج میں پشاور کا سفر اختیار کرتی ہے اور وہاں یک چشم قیوم ہے۔۔۔ اور یہ وہی زمانے ہیں جب انگریزوں نے قصہ خوانی بازار میں ٹینک چڑھا کر ہندوستان کی آزادی مانگنے والوں کو سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک کر ڈالا تھا۔ ناول کا ابتدائی حصہ آپ کو باندھے رکھتا ہے لیکن قصہ خوانی کا قتل عام بے حد طوالت اختیار کرتے بیانیے کو ایک طویل اُکتاہٹ سے دوچار کر دیتا ہے۔ شکر ہے کہ کاملہ شمسی کو اُردو تحریروں سے کچھ سروکار نہیں ورنہ وہ میرے اس تبصرے کو پڑھ کر مجھ سے بے حد خفا ہوتی اور مجھ سے ’’کُٹّی‘‘ کر لیتی۔ بہرطور اس ناول کو پڑھنا تو چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *