ایم کیو ایم کا معاملہ

naveed chایم کیو ایم کا محاصرہ کر کے کوئی کشمیر فتح نہیں کیا گیا، اس ایکشن پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والوں میں محض عام لوگ ہی نہیں بلکہ بعض موقع پرست عیار بھی شامل ہیں۔ اہل دانش کی ایک معقول تعداد اس سارے معاملے کا نہایت احتیاط سے جائزہ لے رہی ہے۔ پچھلے کئی ماہ سے ایم کیو ایم اور اسٹیبلشمنٹ کی جاری کشمکش کا نکتہ عروج بظاہر بی بی سی کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں بھارت سے مالی امداد حاصل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ شہری سندھ کی سیاست پر مسلسل نگاہ رکھنے والوں کیلئے اگرچہ یہ کوئی نئی بات نہیں یا یوں کہہ لیں کہ انکشاف کا درجہ تو ہر گز نہیں رکھتی۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل سے ہی یہ بات کئی مرتبہ قومی اخبارات میں شائع ہو چکی تھی کہ کراچی پر قابض سیاسی گروہ کا دشمن ہمسایہ ملک سے گہرا تعلق ہے۔ بھارتی کیمپوں سے عسکری تربیت حاصل کرنے کے حوالے سے پارٹی کے رہنما جاوید لنگڑا کا نام آج بھی اس حوالے سے جانا جاتا ہے۔ بھارت ہی کیا اس حوالے سے امریکہ کا سازشی کردار بھی بار بار سامنے آتا رہا۔ لندن میں قتل ہونے والے ڈاکٹر عمران فاروق1992 ء والے آپریشن کے بعد کئی سال روپوش رہنے کے بعد بیرون ملک جلوہ گر ہوئے۔ اس وقت کی تحقیقات کے مطابق اس تمام عرصے کے دوران ڈاکٹر عمران فاروق کراچی کے امریکی قونصلیٹ کے انتہائی آرام دہ اور محفوظ ماحول میں مفروری کاٹتے رہے۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کا کراچی میں کتنا اثر ور سوخ ہے اس حوالے سے امریکی اخبارات میں رپورٹس شائع ہو چکی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پارٹی کے قاتل ٹولے کی خونریز کارروائیوں سے ناپاک عزائم رکھنے والی بیرونی قوتوں سے تعلقات کے حوالے سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں ۔یہ پوشیدہ رہ بھی کیسے سکتا تھا ،ہر بار الزامات عسکری حکام نے ہی عائد کیے اور معقول شواہد بھی پیش کیے گئے۔ بی بی سی پر چلنے والی حالیہ رپورٹ میں بھی اسکے حصول کا ذریعہ مقتدر حلقوں کو ظاہر کیا گیا ہے سو یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ اس تہلکہ خیز ’’انکشاف‘‘ کو دہرانے میں سویلین اداروں کا کردار کچھ خاص نہیں ،ہاں مگر سندھ کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے اسٹیبلشمنٹ کی کھلی محاذآرائی دیکھ کر اکثر دیگر سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی واضح اسٹینڈ لینے کے سوا اور کوئی چار ہ نہیں پاتی۔
کراچی میں جاری تازہ ترین کارروائیاں اگر ایم کیو ایم کو ’’کٹ ٹو سائز‘‘ کرنے کیلئے ہیں تو شاید بازی الٹ چکی۔ نبیل گبول کے استعفے، تحریک انصاف کیلئے جگہ بنانے کی کوششوں اور نائن زیرو پر چھاپوں سمیت دیگر تمام کارڈز کھیل کر جو مقاصد حاصل کیے جانے تھے ان میں ملنے والی کامیابی کو جزوی ہی کہا جاسکتا ہے۔ خطرناک اور حیرت انگیز بات مگر یہ ہے کہ شہر میں ایم کیو ایم کی مقبولیت میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں اور اب تو یہ عالم ہے کہ طے شدہ منصوبے کے تحت ہی سکیورٹی اداروں کے خلاف زہریلی تقریریں کر کے معافی مانگنے والے الطاف حسین کے لہجے کی کاٹ بڑھتی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم کو توڑنے یا دھڑے بندیاں کرانے کے تمام منصوبے بھی سعی لا حاصل ثابت ہو رہے ہیں۔ بیرون ملک مقیم مصطفی کمال نے ہر طرح کا دانہ ڈالے جانے کے باوجود اب تک کوئی چوں چراں کی نہ ہی گورنر ہاؤس میں مقیم ڈاکٹر عشرت العباد’’ بھائی‘‘ سے بغاوت پر آمادہ ہوئے۔ نائن زیرو پر رینجرز کے دھاوے کے دوران رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والے عامر خان بھی ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ سندھ کے شہری علاقوں پر ایم کیو ایم کی گرفت کمزور یا ختم کرنے کیلئے اب اور کیا نسخے آزمائے جا سکتے ہیں؟ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اگر ہڑتال یا احتجاج وغیرہ کی کال آ گئی تو معاملہ کس طرف جائے گا۔ ایم کیو ایم کی قیادت اپنے خلاف لگنے والے ہر الزام اور دائر ہونے والے ہر مقدمے کو مظلومیت کے لبادے میں چھپا کر کارکنوں کو مشتعل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو بات کدھر کو جائیگی؟ مانا کہ سردست ایسے آثار نہیں لیکن اس نوع کے خدشات کو یکسر نظر انداز کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو سکتا ہے۔ اگرچہ فرمان امروز یہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی قوت کے آگے ہر طاقت پست ہے لیکن پاکستان مخالف اندرونی اور بیرونی عناصر نے کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت ایک ہو کر گڑ بڑ پھیلانا چاہی تو مشکلات میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس بار امریکہ اور برطانیہ بھی ایم کیو ایم کے خلاف قانونی کارروائی کے حق میں ہیں۔ اس موقف کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل مگر نہیں دی جارہی۔ امریکی ڈپلومیسی تو ہے ہی منافقت کا دوسرا نام، کہیں ایسا تو نہیں کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو اکسا کر ایم کیو ایم کی قیادت کو ورغلا کر تصادم کے راستے پر آگے بڑھانے کی سازش کی جارہی ہو۔ شدید ہنگامہ آرائی کی ایسی کسی امکانی صورت میں پاک چین راہداری تو کیا چھوٹے چھوٹے منصوبے بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ایم کیو ایم آخر ہے کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کا تیار کردہ ایک لشکر جس نے اپنے زیر اثر علاقوں میں ہولناک وارداتیں تسلسل کے ساتھ کیں۔ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر شہریوں کو اذیتیں دے دے کر قتل کیا۔ جان نکالنے کیلئے ڈرل مشینوں کا استعمال، زندہ افراد کو دیوار کے ساتھ لگا کر کیلیں ٹھونکنا، بوری بند لاشوں کا کلچر، بھتہ خوری ، موت بانٹنے کا سلسلہ دراز ہوا تو مختلف ادوار میں اپنے خلاف آپریشن میں حصہ لینے والے باوردی افراد کو بھی چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ ان سب کے باوجود کسی بھی سول حکومت میں جرأت نہ تھی کہ ایم کیو ایم سے مخالفت مول لے سکے۔ بینظیر یا نواز شریف جس نے بھی ایسا کیا اسکی حکومت کی ہی چھٹی کرا دی گئی۔
ایم کیو ایم کی اپنی ہولناکیاں ایک الگ موضوع ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کیلئے وہ اندرون ملک ’’ایٹم بم‘‘ سے بھی بڑا ہتھیار بنی رہی۔ جب چاہا ، جیسے چاہا ،جس کے خلاف چاہا استعمال کر لیا۔ 12 مئی 2007 ء کا قتل عام ہو یا وکلاء کو زندہ جلانے کی وارداتیں ،یہ سب ’’سرکاری احکامات‘‘ کی بجا آوری کرتے ہوئے کیا گیا۔ خصوصاً مشرف دور میں تو اسکی نشوونما اس انداز میں کی گئی کہ اب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ تازہ لڑائی کسی عفریت سے چھٹکارا پا نے کی کوشش ہے۔ بھارت سے امداد لینے سمیت قتل و غارت کی وارداتوں سمیت پرانے الزامات دہرانے سے کیا مطلوبہ مقاصد حاصل ہو پائیں گے۔ عسکری ونگ کا زور توڑ دیا گیا تو کراچی میں ایم کیو ایم کا سیاسی متبادل کیا ہے؟خصوصاً ایسے میں کہ جب دیہی سندھ کی نمائندہ جماعت پیپلز پارٹی سے بھی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم امن و سلامتی کی تلاش میں نئے بحرانوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ طاقت کا استعمال ہر مسئلے کا حل ہے نہ ہی قانون کی عملدداری پر سمجھوتہ ممکن۔ ارباب اختیار کو حکمت سے کام لینا ہو گا۔ وزیراعظم اگر کوئی کردار ادا کرنے کے قابل ہیں تو بلاخوف و خطر آگے بڑھ کر اپنی آزادانہ رائے کا اظہار کریں۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی تائید و حمایت اچھا عمل ہے لیکن ایسا کوئی تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ پنجاب کے حوالے سے پہچانی جانے والی مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت اور اسکی صوبائی اسمبلی کسی ایک جماعت یا طبقے کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی حمایت کررہی ہے۔ تحریک انصاف یا ق لیگ جیسی جماعتوں کے دباؤ قبول کرنے کے بجائے معقول روش اختیار کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔
ہر باوردی فرد کی خوشامد میں قلابے ملانے والے موجودہ فوجی قیادت کو بھی ’’اوتار‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ یہ کہا جارہا ہے کہ فوجی حکومت ہی تمام امراض کی دوا ہے۔ کاسہ لیسی کرنے کی دھن میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر وردی والوں کی حکومت آ جائے تو ملک کو ’’ سپر پاور‘‘ بنانے میں دو تین سال ہی لگیں گے۔ ایسے عناصر سے سب سے زیادہ خبردار رہنے کی ضرورت خود فوجی حلقوں کو ہے کیونکہ یہ انہیں متنازعہ بنانے کی سوچی سمجھی سازش ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کی ڈوریاں بھی بیرون ملک سے ہلائی جا رہی ہوں۔ غیر جمہوری حکومتیں ملکی مسائل کا پہلے کبھی کوئی حل تھیں نہ ہی آئندہ ہوں گی۔پاکستان کو اکٹھا رکھنے کے لیے سب سے بڑی دستاویز آئین ہی ہے۔ جمہوری نظام چلتا رہا تو جلد وبدیر گڈ گورننس کا دیدار بھی نصیب ہو جائے گا۔خدانخواستہ بریک لگ گئی تو اس مرتبہ ہونے والی ٹوٹ پھوٹ پھر سے کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان میں جب بھی آرمی چیف براہ راست حکومت سنبھالتا ہے تو اسکو صدر ،وزیر اعظم ،چیف جسٹس وغیرہ کے اختیارات بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔’’بزرگ شیطان‘‘ امریکہ کی موسلا دھار ’’مہربانیوں ‘‘کا نزول بھی شروع ہو جاتا ہے۔ان ڈکٹیٹروں کے طویل ادوار بھی پاکستان کو دنیا میں کوئی نمایاں مقام دلوانے میں کجا بلکہ اندرونی نظام کی درستگی کے لیے بھی مکمل ناکام ثابت ہوئے۔فوجی حکومتیں زہر ہیں یا تریاق،ریکارڈ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ملک کے طاقتور ترین جرنیل تمام تر اختیارات اور بیرونی حمایت ملنے کے باوجود ملک کے لیے کچھ نہ کر سکے تو سول حکومتوں پر ہاتھ پاؤں باندھ کر چند سالوں میں ’’ایشین ٹائیگر‘‘بنا کر دکھانے کی لازمی شرط کیوں لگائی جارہی ہے۔فوجی حکومت کے ذریعے چند سال میں ترقی کی بات کرنے والے جہلا سے پوچھا جا نا چاہیے کہ اگر ایسا ہی ہے تو جنرل ایوب کے دور اختتام پر ہم فرانس بن چکے ہوتے۔جنرل یحییٰ خان ہمیں جاپان کے مساوی کھڑا کردیتے،جنرل ضیاء الحق پاکستان کو چین کے ہم پلہ بنا دیتے اور مشرف دور کے تو کیا ہی کہنے ہم امریکہ کے برابر نہیں ،بلکہ کچھ اوپر ہی ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *