اعترافِ جرم کا موسم

 Najam Sethiاس وقت عوامی سطح پر کیے جانے والے دو اعترافات گردش میں ہیں۔ پہلاایم کیو ایم کے چیف، الطاف حسین کے دستِ راست طارق میرکا میٹروپولٹین پولیس لندن کے سامنے دیا گیا بیان کہ بھارتی حکومت گزشتہ دو عشروں سے الطاف حسین کو فنڈز اور ایم کیو ایم کے لڑکوں کو بھارت میں کسی مقام پر دھشت گردی کی تربیت دیتی رہی ہے۔ دوسرا اعتراف عمران خان، جو لاکھوں افراد کے محبوب رہنما ہیں، کاہے کہ جنھوں نے آخر کار تسلیم کرلیا ہے کہ نجم سیٹھی(راقم الحروف) کے خلاف’’ پنتیس پنکچروں‘‘ کا الزام محض سیاسی تھا، اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہ تھی، چنانچہ یہ بے بنیاد تھا۔
طارق میر نے اعتراف کیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے الطاف حسین کو دوبئی میں موجود بھارتی ایجنٹوں نے بنکوں کے ذریعے کئی ملین پاؤنڈز منتقل کیے۔ اُنھوں نے تفصیل سے بیان کیا کہ کس طرح الطاف حسین اوراُن کے قریبی راز داروں ، جن میں طارق میر خود بھی شامل تھے،نے یورپ کے مختلف مقامات پر بھارتی ایجنٹوں سے ملاقات کیں، فنڈز وصول کیے اور بریفنگز کا تبادلہ کیا۔ اُنھوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو الطاف حسین کی اجازت سے بھارتی میں دی جانے والی فوجی تربیت اور ہتھیاروں کی فراہمی کا بھی تفصیل سے ذکر کیا۔ یہ اعتراف اُس تحقیقات کا حصہ ہے جو برطانوی حکام الطا ف حسین اور اُن کے قریبی افراد سے منی لانڈرنگ کے حوالے سے کررہے تھے۔
طارق میر کا اعترافِ جرم بی بی سی کی ایک انتہائی باوثوق ذرائع سے تیار کی گئی رپورٹ، کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را ایم کیو ایم کو فنڈز فراہم کرتی ہے، کے بعد سامنے آیا۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم کے دھشت گرد صولت مرزا اور دیگرگرفتارشدہ دھشت گرد ایسے ہی اعترافا ت کرچکے تھے۔ چنانچہ آرمی چیف ، جنرل راحیل شریف کواعلی اعلان کہنا پڑا کہ بھارتی ایجنسی را کراچی اوربلوچستان میں گڑبڑ پھیلا کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کررہی ہے۔ اسے کسی اعلیٰ ترین دفاعی افسر کی طرف سے دیا گیا غیر معمولی بیان قرار دیا گیا۔ اس دوران لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ تین سال بعد حکومتِ پاکستان نے آخر کار برطانوی تحقیقاتی ٹیم کو قتل کے تین مشتبہ افراد، جن کا ایم کیو ایم سے تعلق بتایا جاتا ہے، سے تفتیش کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ الطاف حسین کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ اس نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اب الطاف حسین ملک میں اتنے طاقتور رہنما نہیں رہے جتنے وہ پہلے کبھی تھے۔ کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں ایم کیو ایم کے مسلح ونگ کو خاصی زک پہنچنے اور اس کے کچھ اہم رہنماؤں کے مختلف وجوھات کی بنا پر تتر بتر ہونے یا پارٹی سے نکال دینے جانے کی وجہ سے الطاف حسین کی عملداری کمزور پڑتی جارہی ہے۔ اب ان کے لندن سے کیے جانے والے بے ربط اور دھمکی آمیز خطابات کو بھی ٹی وی چینلز دکھانے کی زحمت نہیں کرتے۔تاہم الطاف حسین کا عدالت کے کٹہرے میں کھڑاہونے اور کچھ نئے اعترافات کے بعد ایم کیو ایم کا کراچی میں شیرازہ بکھرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ایم کیو ایم کو سیاسی توانائی فراہم کرنے والا ’’مہاجرازم‘‘ کانعرہ کسی اور پارٹی کے ہاتھ آجائے گا۔ دراصل مہاجرازم ایک طاقتور سیاسی بیانیہ ہے جو ’’مہاجر بالمقابل سندھی‘‘ کے جذ بات ابھارتے ہوئے اُنہیں مقامی افراد کی نسبت زیادہ ملازمتیں اور وسائل فراہم کرتا ہے۔ یہ بیانیہ الطاف حسین کے بعد بھی سندھی سیاست میں موجود رہے گا۔
معروف صحافی ا ور اینکر حامد میرکے ٹی وی پروگرام میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پر پنتیس پنکچروں کا الزام کہ اُنھوں نے پنجاب کے پنتیس حلقوں میں پی ایم ایل(ن) کو انتخابات جیتنے میں مدد فراہم کی(جسے عامیہ زبان میں کہا گیا کہ پنکچر لگادیا گیا )، صرف ایک سیاسی چال تھی اور یہ کہ اس الزام کی تہہ میں حقائق پر مبنی کوئی صداقت نہ تھی۔ یہ اعتراف بھی حالیہ دنوں خاں صاحب کے طویل یوٹرنز میں ایک اور اضافہ ہے۔ دراصل اُنہیں2013کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کا الزام لگاکر اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہوئے کسی شارٹ کٹ راستے سے اقتدار تک رسائی میں ہونے والی ناکامی کے بعد سے پے در پے یو ٹرن لینا پڑ رہے ہیں۔ اس سے پہلے اٹھارہ ماہ تک عمران خان اور ان کے لاکھوں جذباتی حامی، جن میں چند ایک ٹی وی اینکر، میزبان اور مبصرین بھی شامل ہیں، کا بیانہ یہ تھا کہ خاں صاحب کا فرمودہ نعوذباﷲ وحی کے مترادف ہے ۔ اُنھوں نے اس عرصہ میں کون سے زبان دراز ی ہے جو مجھ پر نہ کی ہو، کون سی بدتہذیبی ہے جس کا مظاہرہ نہ کیا ہو۔ ان کے غیر شائستہ حملوں کے جواب میں میرا موقف ہمیشہ یہ ہوتا کہ وہ پر حماقت جذبات کی بجائے ثبوت سے بات کریں، لیکن اُس نقار خانے میں عقل اور معقولیت کی سمائی نہ تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کی جوڈیشل کونسل کے سامنے عمران خان ایک ایسے جھوٹے شخص ثابت ہوئے جو اپنے سیاسی عزائم کے لیے کسی بھی دروغ گوئی کو روا سمجھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن افراد کا نام لے کر مجھ پر پنتیس پنکچروں کا الزام لگایا گیا، وہ آغا مرتضی پویا اور امریکی سفارت کار تھے ۔ ان دونوں افراد نے سختی سے تردید کی اُنھوں نے مجھ پر ایسا کوئی گھٹیا الزام لگایا تھا۔ اس طرح عمران خان کے قدموں تلے سے جھوٹ کی زمین سرک گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے اور پھر یوٹرن لینے کی عادت، جو ان کی فطرت میں راسخ ہوچکی ہے، اُنہیں سیاسی طور پر بہت مہنگی پڑے گی۔ وہ کچھ افراد کو کچھ دیر تک بے وقوف بناسکتے ہیں، سب لوگوں کو ہمیشہ کے لیے نہیں۔ گزشتہ انتخابات چرانے کی کہانی کے صفحات کی اب تک دھول اُڑنا شروع ہوگئی ہے۔ درحقیقت اگر اب تک حالیہ تاریخ میں کوئی انتخابات چرائے گئے ہیں تو وہ خیبر پختونخواہ میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات تھے۔ اور ایسا عمران خان کی انتظامیہ کے ہاتھوں ہوا تھا۔
الطاف حسین اور عمران خان، دونوں ہی سیاسی طور پر اپنے حریفوں کو خائف رکھتے تھے۔ اسے جمہوری رویہ نہیں، فاشزم کہا جانا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دونوں کو عروج اس لیے ملا تھا کیونکہ مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی تھیں۔ ان کا وجود میں آنا کسی نادیدہ خفیہ ہاتھ کی کاوش بھی بیان کی جاتی ہے جو نیشنل سکیورٹی کے نام پر ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کو مہروں کے طور پر استعمال کرتاہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *