خواجہ آصف کی کھری کھری باتیں

majid siddiqui(قبلہ جناب خواجہ آصف سیالکوٹی، کھدر پوش اور سادہ لوح نواز لیگ سرکار کے سوٹ کوٹ پہننے والے پارٹ ٹائم وفاقی وزیر برائے پانی اور بجلی اور فل پارٹ ٹائم وفاقی وزیر برائے دفاع ہیں۔یہ وہی خواجہ آصف صاحب ہیں، جو آئے دن اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر کسی نہ کسی کواوئے شرم کرو، اور کچھ تو حیا کرو کا شاندار مشورہ مفت میں فراہم کرتے رہتے ہیں۔ وہ بلاشبہ ایک محنتی وزیر ہیں اور عوام کی خدمت بلا امتیازکرنے میں ہمیشہ مشغول نظر آتے ہیں ۔ وقت اور الفاظ ضائع کئے بغیر ان کا ایک خصوصی مگر فرضی انٹرویو ملاحظہ فرمائیے۔)

صحافی۔سر، کراچی میں رواں ہفتے چار با ر بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا۔رات رات بھر پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا رہا۔ کیا آ پ خود کو اور اپنی وزارت کو اس کا ذمہ دار سمجھتے ہیں؟
خواجہ آصف ۔ پہلی بات تو آپ کے اس جملے پر مجھے اعتراض ہے کہ پورا شہر اندھیرے میں ڈوبا ہواتھا۔ بہت سے لوگوں نے اپنوں گھروں میں یو پی ایس اورجنریٹرز کے ذریعے چراغاں کیا ہوا تھا۔ شہر کے اکثر امیرتو بڑے بڑے جنریٹرز چلاکر اپنے اے سی کمروں میں پوری رات سکون سے سوتے رہے۔ان کے گھروں کے صدر دروازے دور ہی سے منور نظر آتے رہے۔ تو پہلے تواپنی اصلاح کیجیے کیونکہ پورا شہر اندھیرے میں ڈوبنے کا آپ کا تاثر غلط ہے اور صریحاً جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا ہوا، اگر تین چار راتوں تک بجلی آنکھوں سے اوجھل رہی۔میں سمجھتا ہوں کہ اب تک تو قوم کے لئے یہ معمول کی بات ہوجانی چاہئے تھی۔ آخر اتنے برسوں سے ہونے والی لوڈ شیڈنگ نے ان کا مزاج کیوں نہیں بدلا۔ میرا خیال ہے اب تک تو انہیں ان جیسی تمام باتوں کا عادی ہوجانا چاہیے تھا۔ ویسے بھی کونسے ان کے آباو اجداد بلب کی روشنی میں پیدا ہوئے تھے اور پنکھے کی ہوا میں سوتے تھے۔
صحافی:مگر سر بریک ڈاؤن کے اس عذاب کی وجہ سے ساری رات، چھوٹے بچے بلک بلک کر روتے رہے، بوڑھے تڑپتے رہے اور بیمارسسکتے رہے۔
خواجہ آصف : یا ر ایک تو آپ صحافی لوگ بات کو ہمیشہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے عادی ہوگئے ہو۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ سارے افراد، میرامطلب ہے بلکنے ، تڑپنے اورسسکنے والے سبھی صبح کوسڑکوں پر احتجاج کررہے ہوتے۔آپ نے دیکھا نہیں ہمارے لوگ تو ہر چھوٹی سی بات پر احتجاج کرتے رہتے ہیں اور اسکے عادی ہوچکے ہیں۔ مگر اس معاملے پر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ویسے بھی کیا ہوا ، اگرقوم کے چھوٹے بچوں نے کچھ راتیں بریک ڈاؤن کی سختی دیکھ لی۔ ہمیں ویسے بھی مستقبل میں سخت جان قوم کی ضرورت ہے۔ نہ جانے کب خطرات کے پیش نظر ہماری آنے والی نسل کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے دلیر افواج کی مددکرنی پڑجائے۔آپ ہی بتائیے نا یہ ہر وقت اے سی کمروں میں سوئی ہوئی قوم کے بچے بڑے ہوکر آخر کیا کرسکیں گے۔ دیکھیں بھائی،مت بھولیے کہ میں بجلی کے ساتھ ساتھ ملک کے دفاع کا وزیر بھی ہوں۔ مجھے ہر انداز میں سوچنا پڑتا ہے۔ آخرہمیں ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا ہے کہ نہیں۔ وطن عزیز کے درپیش خطرات سے نمٹنا ہے کہ نہیں۔ تو گویا سخت جان نسل ہمارے مفاد میں ہے۔ جہاں تک بڑے بوڑھوں کاسوال ہے، وہ تو ویسے بھی زندگی کے آخری ایام میں ہیں۔ ان کی فکر کرنے کی کیا ضرورت۔ جبکہ بیمار تو اپنی بیماری کو لے کر پریشان ہوتے ہیں، ان کو بجلی کی عدم دستیابی سے کیا واسطہ۔ دیکھیں آپ کوئی کارآمد سوال کریں۔جس کے جواب میں قوم کی رہنمائی کرسکوں۔
صحافی: سرمگر مستقل بریک ڈاؤن کے وجہ سے ہسپتالوں میں کئی لوگوں کے آپریشن منسوخ کرنے پڑے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے شاید جان بھی گنوائی ہے۔
خواجہ آصف : دیکھیں آپ ہر بات کو لے کر اتنا سیریس نہ ہوں۔ اگر چند لوگوں کے آپریشن نہ ہوسکے یا کچھ لوگ جان گنوا بیٹھے تو اس میں اتنا سنجیدہ ہونے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی کراچی جیسے شہر میں لوگوں کا مرنا عام سی بات ہے۔ اب تو اخبار بھی لوگوں کے مرنے کی خبر کی سرخی نہیں لگاتے۔ ٹی وی والے بھی اسے اپنی ہیڈلائن میں نہیں لیتے۔ دیکھیں میری بات سمجھیں، نواز شریف کی حکومت ملک کو ناقابل تسخیر دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے قوم کو ہر وقت قربانی کے جذبے سے سرشار ہونا پڑے گا۔ اسلام کے نام پر آزادی پانے والے اس عظیم مملکت خدادا کے افراد کو سخت جان ہونا پڑے گا۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہماراملک تاریخ کے نازک ترین موڑ سے گذر رہا ہے اور وہ ان حالات میں قوم سے قربانی کا طلب گار ہے۔ میرا آپ سمیت تمام پاکستانیوں کو مشورہ ہے کہ وہ ایسی باتیں ذہن میں لانے سے پہلے کچھ شرم، کچھ حیا کریں۔ اعتراضات کی سیاست کو ترک کریں اور مسلم لیگ نواز اور پاک فوج کے ہاتھ مضبوط کریں۔ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ محترم نواز شریف کی قیادت ہی تھی جس نے اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا تھا۔
صحافی:سر وہ تو ٹھیک ہے کہ لیکن بجلی کی عدم دستیابی نے لوگوں کے کاروبار کو بھی بہت نقصان پہنچایا ہے؟
خواجہ آصف : ہاں یہ بات کسی حد تک درست ہے اور نواز لیگ کی انقلابی اقدامات اٹھانے والی حکومت کو اس بات احساس بھی ہے۔ اسی لئے ہم نے ایسے منصوبوں کی جانب قدم اٹھانا شروع کردیا ہے، جن کے بعد ہمیں بجلی کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ میں پاکستان کے غیور عوام کے لئے ان منصوبوں کے چیدہ چیدہ نکات بیا ن کر دیتا ہوں۔ ہم نے طے کیا ہے کہ حکومت دو تین سو سال پرانی ہاتھ سے چلنے والی صنعت کو دوبارہ متعارف کرائے گی۔ جیسا کہ آٹا کسی بجلی پر چلنے والی مل کے بجائے اب قدیم زمانے کی ہاتھ سے چلنے والی چکی پر پسا کرے گا۔اسی طرح کپڑے کی صنعت کو بحران سے نکالنے کے لئے کسی کاٹن فیکٹری پر وقت ضائع کئے بغیرقبل مسیح کے زمانے کی ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کیا جائے گااور ہاتھ سے چلنے والی اونی اور سوتی کھڈیوں کے ذریعے بنا ہوا کپڑادنیا بھر میں بھیجا جائے گا اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بیش بہا اضافہ کیا جائے گا۔ میں قوم کو خو ش خبری دینا چاہوں گا کہ آنے والے برسوں میں حکومت کی واضح منصوبہ بندی اور اقدامات کے نتیجے میں ملک بجلی کے بحران سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پا لے گا۔ آنے والے برسوں میں تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کرتے ہوئے اسکولوں میں پرانی ہوا دینے والی جھلیاں یعنی ہاتھ سے چلانے والے بڑے پنکھے متعارف کروائے جائینگے۔ اسٹریٹ لائیٹ کا نظام بھی پرانے مگر پائیدار نظام پر مبنی ہوگا۔ یعنی جگہ جگہ مٹی کے تیل سے چلنے والے فانوس لگائے جائیں گے۔ مگر سرکاری بجٹ میں خسارہ کے باعث مٹی کے تیل کے اخراجات عوام کو خود برداشت کرنے ہوں گے۔ یہ فانوس ہمارے عوام کو قدیم زمانے کی تاریخ سے بھی روشناس کرائیں گے اور انہیں ہمارے شاندار ماضی سے دوبارہ جوڑدیں گے۔ ساتھ ساتھ گھروں میں سستی موم بتی اسکیم شروع کی جائے گی اور اس ضمن میں حکومت سبسڈی کا بوجھ خود برداشت کرے گی۔ہسپتالوں میں علاج اور جراحی کے قدیم نظام کو دوبارہ رائج کیا جائے گا۔ جو بجلی کا قطعی محتاج نہ ہوگا۔ (ہنستے ہوئے) اس کے بعد آپ لوگوں کے مرنے کا رونا لے کر ہمارے پاس نہیں آیا کریں گے۔ موٹے الفاظ میں کہا جائے تو حضور ہماری حکومت انرجی پر انحصار کا مکمل خاتمہ کردے گی۔ جس کے بعد عوام سکون کی سانس لیں گے۔ ویسے بھی دیکھیں نا، اس ظالم سائنسی ترقی نے ہمیں اپنے آبا و اجداد کے طرز زندگی او ر اپنے شاندار ماضی سے دور کر دیا ہے۔ ہماری حکومت اس پرانے رشتے کو دوبارہ استوار کرنے جارہی ہے۔
صحافی : سر انرجی سے وابستہ باقی مسائل کے لئے حکومت کے پاس کیا تجویز ہے۔ میرا اشارہ پیٹرول، ڈیزل اور سی این جی کی طرف ہے۔
خواجہ آصف : دیکھیں، حکومت اس ضمن میں بھی سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ اصل تفصیلات تو متعلقہ وزارت کے پاس ہوگی۔ مگر مجھے جو موٹی موٹی باتیں معلوم ہیں۔ وہ میں آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ حکومت کا اراد ہ ہے کہ یہ جدید زمانے کی گاڑیاں، جو کہ ٹریفک جام، ماحولیاتی آلودگی اور کئی دوسرے مسائل کاسبب بن رہی ہیں، انہیں معاشرے سے مکمل بے دخل کیا جائے گا۔ سوائے چند حکومتی ذمہ داران،جیسا کہ صدر، وزیر اعظم ،وزراء اور امراء کے باقی قوم پرانے زمانے کے تانگوں، گدھا گاڑیوں، اونٹ اور بیل گاڑیوں پر سفر کیا کرے گی۔ مگر میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس پالیسی کا اطلاق ہماری بہادر فوج پر نہیں ہوگا۔ وہ بدستور اپنی تمام مراعات کے ساتھ ملک اور قو م کے دفاع پر مامور رہیں گی۔ جیسا کہ میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا کہ ان نازک حالات میں ہمیں اپنی سرحدوں کی حفاظت اور وطن عزیز کو درپیش چیلینجز کی خاطر اپنی غیو ر افواج کے لئے ہر طرح کی سپورٹ جاری رکھنی ہوگی۔ تفصیلات آپ متعلقہ وزیر سے انٹرویو کرکے لے لیجئے گا۔
صحافی : مگر جناب یہ تو بہت قدیم زمانے کی طرز زندگی ہوگی۔ دنیا آگے کی طرف رواں ہے اور ہم اپنی قوم کو پیچھے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
خواجہ آصف : دیکھیں میرے بھائی۔ آپ نے شاید انگریزی کا وہ محاورہ نہیں سنا ، اولڈ از گولڈ۔ ہم عوام کی محتاجی کا مداوا کرنے جارہے ہیں۔ ویسے بھی دیکھئے نا اس فرنگی کے نظام نے ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ یہ مسلمانوں کے خلاف یہود اور نصار کی سازشوں کی کڑی ہے۔ وہ ہمیں خوشحال دیکھنا نہیں چاہتے۔ ان کی منشا ہے کہ ہم زندگی بھر ان پر اوران کی بنائی ہوئی اشیا پر انحصار کریں۔ مگر مسلم لیگ کی عوامی اور انقلابی حکومت ان سازشوں کو پنپنے نہیں دے گی اور فرنگیوں کی سازش کا منہ توڑ جوا ب دے گی۔ ہماری حکومت کے یہ منصوبے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ آنے والا وقت ثابت کرے گاکہ امیر المومنین جناب نواز شریف کی پاکستان دوست پالیسیوں، منصوبوں اور اقدامات نے عوام کی قسمت بدل دی۔ آپ مانیں یا نہ مانیں ہم تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں۔
صحافی: تو اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں لوگوں کو بجلی کے بل دینے کی ضرور ت نہیں ہوگی۔
خواجہ آصف : دیکھیں آ پ ایسی باتیں کرکے عوام کو گمراہ نہ کریں۔ بجلی کے بلوں کا بجلی سے کوئی تعلق نہیں۔بجلی کے بل ہوں یا گیس کے بل، یہ بدستور تمام ظاہری اور چھپے ہوئے ٹیکسز کے ساتھ عوام کے پاس آتے رہیں گے۔ دیکھیں نا، آخر سرکار اپنے اخراجات چلانے کے لئے پیسے کہاں سے لائے گی۔ ملک کی سلامتی اور دفاع، جس پر سمجھوتہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، کے لئے اپنے ہی عوام کو پیٹ کاٹ کر روپے پیسے کا بوجھ اٹھا نا ہوگا۔آپ کیا چاہتے اس کے لئے بھی ہم بیرونی امداد کی طرف دیکھیں۔ آخر ہم ایک نیوکلیر طاقت ہیں۔ہم ایک غیرتمند قوم ہیں۔ہمیں خود انحصاری کی پالیسی پر گامز ن ہونا پڑے گا اوراپنے دفاع کو ہر وقت ناقابل تسخیررکھنا ہوگا۔ اس لئے بجلی اور گیس کے بل اور بقیہ تمام ٹیکسز بدستور قائم رہیں گے۔ ان پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ گیس سے مجھے یا د آیا۔ ہم نے اس حوالے سے بھی ایک منصوبہ بنانے کا عزم کیا ہے۔ جس کے تحت گھروں کو گیس کے بجائے لکڑی کے استعمال پر راغب کیا جائے گا۔ ہر گلی محلے میں لکڑی کے ٹال قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ جلد عوام خوشخبریاں سننا شروع کردیں گے۔ ویسے بھی جو ذائقہ اور مزہ لکڑی پر بننے والے کھانے کا ہوتا ہے، وہ بھلا گیس پر پکنے والے کھانے میں کہاں سے آئے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *