اور کیا بیچو گے؟

asgharہر رمضان المبارک میں منافع خور تاجر اور مارکیٹ مافیا کھل کر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کی معاشی زندگی سے کھل کر کھیلتے ہیں۔ اس سال پاکستانی میڈیا کے چینل مالکان نے اُن کے ساتھ مل کے انوکھا کھیل کھیلا۔ انہوں نے رمضان کے پاکیزہ مہینے کی مارکیٹنگ ایک میراتھن مقابلے کے انعقاد کے ذریعے کی۔ ہر چینل دوسرے سے اس میراتھن ٹرانسمیشن میں مقابلے پر اترا ہواتھا۔ باقاعدہ ہر روز کا چارٹ فخریہ اعلان کے ساتھ شائع کیا جاتا تھا۔ ہر روز کی ریٹنگ کو بڑے بڑے میڈیا ایڈوائزر باریکی سے دیکھ کر فیصلے کر رہے تھے۔ کون کس بنیاد پر زیادہ ریٹنگ لے رہا ہے۔ اگلے دن تمام چینل اُسی نتیجے کو بنیاد بنا کر اگلا پروگرام کر رہے تھے۔ اس سارے کھیل میں چینل مالکان نے اسلامی، اخلاقی، معاشرتی اور انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیر دیں۔ کچھ کالم ضرور اس حوالے سے آئے لیکن من حیث القوم بڑا احتجاج سامنے نہیں آیااور اس میراتھن ریس میں جو گھوڑے دوڑے ان کی باگیں مکمل طور پر مارکیٹ مینجروں کے ہاتھوں میں تھیں۔ انہیں دوڑایا گیا۔ انہیں اداکاری پر مجبور کیا گیا۔ انہیں ڈیزائنرز کلب کے لباس سے مزین کیا گیا۔ ہر روز نئے نئے روپ میں لایا گیا۔ ایسے میں ایک بڑے ڈیزائنر نے جو خود بھی کبھی سنگر رہا ہے اور اب کاروبار میں اتنا اوپر آ چکا ہے کہ پاکستان اور سری لنکا کی موجودہ سیریز کا نمبر ون سپانسر بھی ہے۔ اس نے تو مولانا حضرات کو فیشن کی دنیا میں ایک نئے انداز میں متعارف کرا دیا ہے۔ چینلوں کی خیر ہو ہر مولانا ماڈلنگ کے اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس میراتھن کے دولہا بنے ہوئے تھے۔
پچھلی تین دہائیوں سے ہمارے وطن عزیز میں مولانا حضرات کا مسلسل اپنے مذہبی رول سے باہر نکل کر کھیلنے کا رحجان سامنے آتا رہا اور وہ اپنی کریز سے نکل کر شاٹ کھیلنے میں مہارت حاصل کرنے لگے کبھی اسلامی نظام کے مبہم تصور کے نام پر، کبھی جہاد کے نام پر، کبھی مشرقی غیرت کے نام پرانہوں نے چوکے چھکے لگائے۔ یہاں تک کہ ملک ایک ناقابل فہم دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔ یہ تو ہوتا رہا مگر اس رمضان میں جس طرح مولانا حضرات کو باقاعدہ فیشن ڈیزائنرز کے کلب کا اعزازی رکن بنایا گیا ہے اس سے ان کی روح میں ایک ناقابل تفہیم سرور پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں مولانا حضرات کی پہلی بار کیٹ واک ہوئی ہے۔ میں اُن مارکیٹ مینجروں اور مولانا حضرات کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یقین کریں میں اتنے زیادہ مولانا اور علماء کا فین بن چکا ہوں کہ خدا کے لیے اسے طنز نہ سمجھا جائے۔
سچ پوچھیں تو مجھے بیشتر منبر پر براجمان مولانا حضرات پر رشک آتا رہا ہے۔ وہ ایک تو خوب سج دھج کے اپنی شخصیت کو بنا سنوار کے آتے ہیں جو جمالیاتی سطح پر اُن کا فرض بھی ہے کہ وہ ہر طرح سے اپنے سننے والوں کے لیے رول ماڈل بن سکیں۔ میں بہت سے ایسے مبلغین اور مقررین کا فین بھی ہوں اور ان کے جوہر خاص کا قائل بھی ہوں۔ اس رمضان المبارک میں چونکہ چینل مالکان نے میراتھن ریس کرا دی تو ظاھر ہے سب نے اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ مجھے البتہ یہ افسوس ہے کہ مارکیٹ مینجر حضرات نے بہت سے مولانا حضرات کے ساتھ ناانصافی کی۔ مثلاً غلط مواقع پر بریک دیے۔ جب مولانا حضرات اپنے فہم کی عروج پر ہوتے تھے تو بریک اناؤنس ہو جاتی تھی۔ اس کے علاوہ جو مفلوک الحال عوام وہاں لاد پھاند کے لائے جاتے تھے ان میں سے کسی کا بچہ رو پڑتا تھا یا پھر ایسا بھی ہوا کہ عوام میں سے کسی نے مولانا صاحب کی بجائے موٹر سائیکل کو اپنا ’’ہیرو ہونڈا‘‘ بنا لیا تو مولانا صاحب کی بلاغت کا راستہ رُک گیا۔ خیر اس پر بات آگے آئے گی پہلے ایک واقعہ سن لیں۔
رمضان المبارک سے ذرا پہلے مجھے ایک نجی ٹیلی وژن چینل سے ایک دوست کا فون آیا کہ انہیں انڈیا کے نامور اداکار نصیر الدین شاہ کا نمبر چاہیے۔ شاہ جی سے نیاز مندی ہے اس لیے وہ طالب علموں اور تھیٹر سے محبت کرنے والوں کے لیے میری درخواست پر پاکستان میں وقت نکالتے رہے ہیں۔ میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ نمبر تو میں دے دیتا ہوں مگر بات کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ چینل مالکان چاہتے ہیں کہ نصیر الدین شاہ رمضان کی ٹرانسمیشن میں تیس دن میراتھن ریس میں حصہ لیں۔ نمبر تو میں نے دے دیا لیکن کچھ عرض کیا کہ نصیر الدین شاہ کبھی بھی میراتھن ٹرانسمیشن نہیں کریں گے چاہے آپ انہیں پچاس کروڑ ہی کیوں نہ دے دیں۔ میں نے انہیں وجہ یہ بتائی کہ وہ ساری زندگی صرف آرٹ کی خدمت کرتے رہے ہیں، ان کا ایسا امیج نہیں کہ وہ ٹی وی پر عامر لیاقت کا مقابلہ کریں۔ وہی ہوا جو میں نے کہا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ یہاں اداکاروں کی کمی ہے۔ جو اداکار نہیں تھے، انہیں بھی اداکاری کرنی پڑی۔ اینکر پرسنز کا نیلام عام ہوا۔ چینل مالکان نے سموسے بیچنے والوں کا کردار ادا کیا اور ایک اینکر پرسن جس پر دوبار پابندی لگ چکی تھی وہ شو میں ڈولی میں بیٹھ کر دس کہاروں پہ سوار ہو کر پہنچی اور اُس نے بد ذوقی کے اگلے پچھلے ریکارڈ برابر کر دیے۔
ان میراتھن شوز کے لیے ہر چینل نے بسوں کے ذریعے کراچی کے غریب علاقوں سے انعامات اور افطاریوں کے نام پر لوگوں کو ایسے لالچ دے کر اکٹھا کیا کہ پورے پورے خاندان سٹوڈیوز میں سما گئے۔ اس کے بعد جب ان سے کسی بھی طرح کے سوالات کیے گئے تو وہ جواب دینے سے قاصر تھے۔ظاہر ہے جن علاقوں میں پانی، بجلی، ہوا اور بنیادی ضروریات نہ ہوں وہاں تعلیم کیسے ہو گی اور جب آپ اپنی علمیت بگھارنے کے لیے ان سے اسلامی یا پاکستانی تاریخ سے سوالات کریں گے تو یہ ان کے ساتھ مذاق نہیں تو کیا ہوگا؟ جب وہ جواب نہیں دے پاتے تھے تو اینکر کی منت سماجت شروع کر دیتے تھے۔ اپنی غربت کا حوالہ دے کر انعام کی بھیک مانگنے لگتے تھے۔ پوری قوم کے بھکاری ہونے کا زندہ مظاہرہ ہمارے ان چینلز نے دکھایا۔ ایک اینکر نے تو کمال کر دیا۔ ایک سوال اسلامی تاریخ سے کرتے تھے اور دوسرا سوال بالی وڈ کے اداکاروں سے متعلق پوچھتے تھے۔ قوم کی پسماندہ ذہنی حالت کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑا گیا۔
ان پروگراموں میں تعلیم، تہذیب، کلچر، سپورٹس اور فنون لطیفہ کے کسی رول ماڈل کو مدعو نہیں کیا گیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اتنی ذہنی پسماندگی میں ان شعبوں کی قابل قدر شخصیات آنا ہی پسند نہ کرتی ہوں۔ کیا یہ کارپوریٹ سیکٹر کی منصوبہ بندی تو نہیں تھی؟ رمضان جیسے بابرکت مہینے کو منڈی میں تبدیل کر دیا جائے؟ انہوں نے اپنی پراڈکٹس اس میں ڈال دیں اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے۔ کیا ہم سب قابل فروخت مال میں تبدیل ہو چکے ہیں؟ ایسا اس لیے تو نہیں کیا جا رہا کہ ہماری پوری قوم کو بد ذوق، بے شعور اور انسانی صفات سے محروم کر دیا جائے اور مستقبل میں ہم سستی لیبر مہیا کرنے والا ملک بن جائیں اور کارپوریٹ سیکٹر کے کارخانوں کا ایندھن بن سکیں؟ کیا ہماری قوم میں ہر شعبے میں اعلی صلاحیتوں کے حامل دانش وروں کی کمی ہے؟ کیا ہم ادب میں، فنونِ لطیفہ میں، تاریخ اور تہذیب کے شعبوں میں بانجھ ہو چکے ہیں؟ ابھی تک نہیں ہوئے لیکن ان شعبوں میں بانجھ اور اپاہج کرنے کا پورا بندوبست ان ٹی وی چینلز نے کر دیا ہے۔ ہر چینل کھوکھلی ہنسی کے غبارے پھُلانے پر مامور ہو چکا ہے۔ کیا ہمیں اتنی ہنسی کی ضرورت ہے کہ ملک کے سارے کامیڈین قطاروں میں بیٹھ کر کھوکھلی ہنسی کی مارکیٹنگ شروع کر دیں؟ کیا ہمیں سوچنے کی بھی ضرورت ہے یا نہیں؟
ایک طرف تو یہ کھوکھلی ہنسی ہے تو دوسری طرف عورتوں پر ظلم کے ڈرامے ہیں جہاں آنسوؤں کا سمندر بھرنے کے لیے نت نئے ظلم ایجاد کیے جاتے ہیں۔ ظلم کرنے والی بھی عورتیں ہیں اور ظلم سہنے والی بھی عورتیں۔ کیا ہمارے معاشرے میں خواتین کا بس یہی روپ باقی رہ گیا ہے؟ کیا ہماری خواتین تعلیم و تربیت میں دنیا کی ترقی یافتہ خواتین سے کمزور واقع ہوئی ہیں؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہماری خواتین سے زیادہ باذوق اور باشعور خواتین شاید ہی کسی اورملک میں ہوں۔ ہمیں ان کا مذاق اڑانے کی بجائے ان پر فخر کرنا چاہیے۔ یہ سوال میں مزاحیہ شاعری کرنے والے شاعروں سے بھی کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنا کاروبار چمکانے کے لیے عورتوں کی تذلیل کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اور حیرت ہے کہ کسی عورتوں کی تنظیم نے اس پر احتجاج نہیں کیا۔ ان شاعروں کے پاس ہنسانے کا کوئی اور نسخہ نہیں ہے تو اپنا چہرہ بگاڑ کر مزاح پیدا کریں۔ انسانیت کی تذلیل سے ہنسی پیدا کرنا مزاح نہیں کہلائے گا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *