کچھ ہندوستانی فوج کے بارے میں (آخری حصہ)

Dr Abdul majeedتقسیم ہند کے بعد ہندوستانی فوج کو بھی پاکستان اور بھارت میں تقسیم کیا گیا۔ گزشتہ سات دہائیوں میں ان دونوں افواج کے اطوار اور حالات میں فرق واضح ہے۔ بھارتی فوج کی ارتقاء اور تشکیل پر امریکی ماہر سٹیو ن ولکنسن( Steven Wilkinson) نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام Army and Nationہے۔ اس کتاب میں تقسیم کے بعد پاکستان اوربھارت کی افواج کا موازنہ کیا گیا ہے ۔ مصنف نے ابتدائی دور میں دونو ں ممالک کی حکمران سیاسی جماعتوں کے فرق پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ افواج پاکستان وبھارت کے ارتقائی امتیاز کے تانے بانے سامراجی منصوبہ بندی سے جا ملتے ہیں۔
انگریز کی فوجی بھرتی کی پالیسی میں ایک اور اہم پہلو نسلی انتخاب کا بھی تھا۔ انگریز کا خیال تھا کہ ہندوستان میں بعض نسلیں ، دوسری نسلوں کے مقابلے میں زیادہ لڑاکا اور جنگجوواقع ہوئی ہیں۔ چنانچہ فوج میں بھرتی کرتے وقت ان علاقوں کو فوقیت دی گئی جہاں زیادہ تنومند اور صحت مند آبادیاں تھیں۔ ان نسلوں میں سکھ، گورکھا، راجپوت، پنجابی اور پختون شامل تھے۔ تامل، تیلگو، گجراتی اور بنگالی آبادی کو بالعموم فوج میں نظر انداز کیا جاتا تھا۔ 1929ء میں پنجاب کی آبادی، ہندوستان کی کل آبادی کا 6.5فیصد حصہ تھی لیکن فوج میں پنجابیوں کی تعداد 54فیصدتک تھی۔ صوبہ سرحد کی آبادی ، کل آبادی کا ایک فیصد حصہ تھی لیکن فوج میں اس صوبے کا تناسب چار فیصد تک تھا۔ مدراس، بنگال ، بہار اور اڑیسہ میں ہندوستان کی کل آبادی میں سے چالیس فیصد افراد مقیم تھے لیکن فوج میں ان صوبوں کا حصہ تین فیصد سے بھی کم تھا۔
یہ مفروضہ تاحال زبان زد عام ہے کہ تقسیم ہند سے پہلے فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھی۔ سٹیو ن ولکنسن نے اس مفروضے کو محض واہمہ قرار دیا ہے اور اپنے موقف کے حق میں مختلف واقعات کی نشاندہی کی ہے۔ 1907ء میں پنجاب حکومت نے ایک قانون تجویز کیا جس کی رو سے فوجیوں اور ان کے خاندانوں کے لئے زمین کا حصول مشکل بن جاتا۔ فوج کے اعلیٰ عہدہ داران تک یہ خبر پہنچی تو وہ براہ راست وائسرائے کے پاس پہنچے اور فوجی مورال کو بنیاد بنا کر یہ قانون منسوخ کروا دیا۔ 1920ء سے 1925ء تک پنجاب کے مختلف اضلاع میں سکھ برادری نے اکالی تحریک کے ذریعے حکومت وقت کے ناک میں دم کئے رکھا۔ اس تحریک کا مقصد مختلف گردواروں کا اختیار برطانوی اہلکاروں سے چھڑوانا تھا۔ تحریک میں شامل افراد کی واضح تعداد سابق فوجیوں پر مشتمل تھی۔ اس صورت حال میں فوجی ارباب اختیار نے عارضی طور پر سکھوں کی فوج میں شمولیت پر پابندی عائد کر دی اور اکالی جتھوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد بھارتی فوج نے وزارت داخلہ سے پچاس ہزار روپے حاصل کیے جن کا مصرف فوج کے حق میں پروپیگنڈہ کرنا تھا۔ اس کے بعد 1939ء تک ہر سال لگ بھگ اتنی ہی رقم اسی مقصد پر خرچ کی جاتی۔ ددسری جنگ عظیم شروع ہونے کے بعد یہ رقم برطانوی جنرل سٹاف کے خزانے سے موصول ہوتی رہی۔ اسی طرح تقسیم کے موقع پر ہندوستانی فوج اور سابق فوجیوں کے کردار پر روشنی ڈالنا اہم ہے۔ سٹیو ن ولکنسن کی تحقیق کے مطابق جن اضلاع میں حاضر سروس اور سابق فوجیوں کی تعداد زیادہ تھی، ان مقامات پر قتل وغارت گری کے واقعات باقی علاقوں کے نسبت زیادہ تعداد میں دیکھے گئے۔ تبادلۂ آبا دی کے دوران فوجی صرف اپنے ہم مذہبوں کی رکھوالی کرتے اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو انکے خدا (یا خداؤں) کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا۔ ضلع شیخو پورہ میں بلوچ رجمنٹ کے جوانوں نے باقاعدہ خون ریزی میں حصہ لیا۔
کانگرس کے رہنما فوج میں مخصوص گروہوں کی برتری کا ادراک رکھتے تھے اور وہ اس مسئلے کو سلجھانے کی سعی تقسیم سے کئی برس قبل شروع کر چکے تھے۔ 1941ء میں دلت رہنما اور مستقبل میں ہندوستان کے وزیر قانون ڈاکٹر امبیدکر نے مسئلہ پاکستان پر اپنی کتاب میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ ہندوستان کی تقسیم دراصل بھارت کے حق میں افضل ہو گی کیونکہ تقسیم کے بعد بھارتی فوج میں پنجابیوں کی تعداد میں واضح کمی واقع ہو گی۔ آل انڈیا کانگرس نے 1930ء کی دہائی سے فوج کے مسئلے پر تحقیق کا آغاز کیا تھا۔آل انڈیا مسلم لیگ نے کانگرس کے برعکس فوج میں پنجابیوں کی برتری کی حمایت کی اور اس موضوع پر جناح صاحب کے ستمبر 1938ء کے بیانات موجود ہیں۔ پنجاب میں زمیندار سیاست دانوں کے ترجمان سر سکندر حیات نے 1937ء میں قراراداد پیش کی کہ مستقبل میں ہندوستانی فوج میں مختلف گروہوں کے تناسب کو قائم رکھا جائے۔
1935ء میں بنگالی دانشور اور ادیب نراد چوہدری نے لکھا :’بھارتی فوج کی کمان صرف بھارتی شہریوں کے ہاتھ ہونی چاہئے اور اس فوج میں دیس کے ہر خطے کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔اس فوج کو خود مختار اور غیر ملکی مفادات سے بالاتر ہونا چاہئے۔‘ سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھارتی سیاست دانوں نے فوجی مداخلت سے بچنے کیلئے کچھ اقدامات کئے جنہیں Coup-Proofing کہا گیا۔ کانگرس کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے فوج کے ضمن میں تین اہم مسائل کی نشاندہی کی گئی: علاقائی نمائندگی کی عدم موجودگی، فوج کی جانب سے جمہوری نظام کو خطرہ اور فوجی بجٹ کا بڑھتا ہوا حجم۔فوج کی طاقت میں عمل سے زیادہ علامت کا کردار ہوتا ہے۔ قبل از تقسیم ہندوستانی فوج کا کمانڈر انچیف دہلی میں ایک عالی شان گھر (فلیگ سٹاف ہاؤس) میں مقیم ہوتا تھا۔ وزیر اعظم نہرو نے سرکار انگلشیہ کی روانگی کے بعد اس گھر کو وزیر اعظم ہاؤس کا درجہ دیا اور کمانڈر انچیف کو مختلف گھر الاٹ کیا گیا۔اگست 1947ء میں چند فوجی افسران نے آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنے کا تاثر دیا تو وزیر اعظم نہرو نے خط کے ذریعے سخت تنبیہ کی۔
تقسیم سے پہلے کمانڈر انچیف کابینہ کا حصہ ہوتا تھا لیکن نہرو وزارت کے دور میں کمانڈر انچیف کو وزیر دفاع کا ماتحت مقرر کیا گیا اور فوجی بجٹ بنانے کی ذمہ داری وزارت دفاع کے سپرد کی گئی۔ اس اقدام سے پہلے فوجی بجٹ ،فوج کا اپنا محکمہ فنانس تیار کرتا تھا۔ 1955ء میں کمانڈر انچیف کا عہدہ ختم کیا گیا اور اسکی جگہ چیف آف آرمی سٹاف کی اصطلاح رائج ہوئی۔1951ء میں بھارتی فوج کے پچاس فیصد افسران کا تعلق پنجاب سے تھا جن میں سکھ، پنجابی ہندو ، راجپوت اور مرہٹے شامل تھے۔اس کے باوجود 1947ء سے 1977ء تک بھارتی فوج کے صرف ایک سربراہ کا تعلق پنجاب سے تھا۔ فوج کے سینئر جرنیلوں کی مدت ملازمت کم کر دی گئی اور ریٹائر شدہ جرنیلوں کو جلد از جلد بیرون ملک سفارتی عہدوں پر تعینات کیا جاتا(پہلے بھارتی کمانڈر انچیف کو 53برس جبکہ دوسرے کمانڈر انچیف کو 55برس کی عمر میں ریٹائر کر دیا گیا)۔ریٹائر ہونے پر فوجی افسران کو مختلف صوبوں کا گورنرمقرر کرنے سے حتی الوسع اجتناب کیا گیا۔ 1946ء میں ہی فوجی بجٹ کم کرنے کی تجاویز کابینہ میں پیش کر دی گئیں اور یہ طے کیا گیا کہ آئندہ چند سال میں فوجی بجٹ میں کم ازکم پچاس فیصد تک کمی کی جائے گی۔ آزادی کے بعد پنجاب کے علاوہ صوبوں سے ترجیحی بنیادوں پر افسران کو بھرتی کیا گیا اور 1943ء کے بعد کمیشن حاصل کرنے والے افسران کی تنخواہ میں چالیس فیصد کمی کی گئی۔ وزیر اعظم کی جانب سے صوبائی گورنروں کو احکام جاری ہوئے کہ سابق فوجیوں کو عوامی اجتماعات سے خطاب نہ کرنے دیا جائے۔ کمانڈر انچیف کی میعاد ملازمت چار سال سے کم کر کے تین سال کر دی گئی۔ فوجی انٹیلی جنس ادارے کے اختیارات سویلین انٹیلی جنس اداروں کو منتقل کئے گئے۔ جن علاقوں سے کسی مخصوص رجمنٹ کے بیشتر افسران کا تعلق ہوتا، اس رجمنٹ کو اس علاقے سے دور تعینات کیا جاتا۔
ان اقدامات کے باعث بھارت میں جمہوریت کیلئے فوج کی جانب سے خطرہ کم ہوا لیکن جنگی تیاری اور عملی کارکردگی متاثر ہوئی۔ 1962ء میں آکسائی چن کے معاملے پر چین سے جنگ ہوئی تو بھارت کو بری طرح شکست ہوئی۔ اس تناظر میں نہرو اور وزیر خارجہ کرشنا مینن نے فوج کے ہاتھ مضبوط کرنے کی بجائے نیم فوجی دستوں (Paramilitary Froces) کی تعداد میں اضافہ کیا۔ 1961ء میں نیم فوجی دستوں کی تعداد تیس ہزار کے لگ بھگ تھی، 1990ء تک یہ تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ نیم فوجی دستوں کو ’مشکل ‘ علاقوں جیسے کشمیر یا ناگا لینڈ میں تعینات کرنے کی پالیسی بھی مرتب کی گئی۔ اس شکست کے باوجود سیا ست دانوں اور افسر شاہی کی فوج کے ضمن میں منظور شدہ حکمت عملیاں رائج رہی۔ فوجی دباؤ کے باعث چینی تنازعے کے دو سال بعد دو لاکھ نئے افسران اور سپاہی فوج میں بھرتی کئے گئے۔ اس اضافے کے باعث قومی خزانے پر بوجھ بڑھ گیا اور حکومت وقت کو نئے ٹیکس لگانے پڑے اور امریکہ سے ایک کروڑ ڈالر کی امداد بھی حاصل کی۔ اندرا گاندھی کے دور حکومت تک افسر شاہی اور سیاست دانوں نے فوج پر مکمل اختیار حاصل کر لیا لیکن 1980ء کی دہائی میں پنجاب میں ابھرنے والی سکھ تحریک نے اس توازن کے بگڑنے کی راہ ہموار کی۔ سیاسی رہنماؤں کی بھرپور کوششوں کے باوجود فوج میں امرتسر ، گورداسپور اور ملحقہ علاقوں سے بڑی تعداد میں فوجی بھرتی کئے جاتے تھے۔ 1980ء میں ان علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد سابق یا حاضر سروس فوجی موجود تھے۔ 80ء کی دہائی میں شروع ہونے والے ہنگاموں میں ان اضلاع کی حالت باقی ماندہ پنجاب سے بدتر رہی کیونکہ وہاں تربیت یافتہ فوجی ریاست مخالف تحریک کے سرخیل تھے۔
بھارتی فوج میں بھی دوسری ترقی یافتہ قوموں کی افواج کی طرح کرپشن کے جراثیم موجود ہیں جنہیں قومی مفاد کی چادر تلے چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ البتہ 2012ء میں جموں کشمیر میں تعینات ایک میجر جنرل پر راشن کے ٹھیکوں میں خرد برد کے الزام پر مقدمہ چلایا گیا۔ اسی طرح 2011ء میں ممبئی کے پوش علاقے میں ایک ہاؤسنگ سکیم کے قیام پر بھارتی فوج کے کردار پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *