ایشیا بدل رہا ہے ؟

Awan 2عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا جوہری معاہدہ اس خطے میں طاقت کے توازن کو بدلنے کے علاوہ جنوبی ایشیا میں ہمہ گیر تبدیلی کی راہ ہموار کر دے گا۔ یہ پیش رفت سعودی عرب کو عالمی تنہائی سے دوچار کر کے مشرق وسطیٰ میں غیر معمولی سیاسی تبدیلیوں کی سبب بھی بن سکتی ہے۔ ایک طویل مدت بعد ایران اس خطے میں ایسا طاقتور ملک بن کے ابھرے گا جس نے تاریخی جدلیات سے کچھ سبق سیکھ لئے ہیں۔ یہ ایک ایسی مملکت ہو گی جس میں شرح تعلیم سو فیصد ہو گی، داخلی استحکام کی ضمانت ہوگی اور جس کی معیشت کو غیر ملکی بنکوں میں منجمد پڑے اربوں ڈالر کے وہ اثاثے میسر آئیں گے جنہیں انقلاب ایران کے بعد مغربی طاقتوں نے منجمد کر دیا تھا۔ نئے عالمی بندوبست کے تحت خطے میں ایران کی بالادستی ایک حقیقت بن کے سامنے آئے گی تاہم قائدانہ مقام پانے کے لئے ایران کو ابھی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ اگر سعودی حکومت نے جنگ کا فیصلہ کر لیا تو ایران سمیت عالمی طاقتوں کے سارے خواب بکھر جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق و مغرب کی ساری طاقتیں سعودی حکومت کو جنگ سے باز رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں تاکہ سعودی سلطنت خاموشی سے تحلیل ہو جائے۔
حالات کا یہی ہمہ جہت بہاؤ پاکستان کے لئے بھی مشکلات پیدا کرے گا لیکن مصائب کی انہی لہروں میں ہمارے لئے ترقی کے کئی خوبصورت مواقع بھی موجود ہوں گے،یہ امر تو یقینی ہے کہ اب ہمیں اپنی سوچ اور ترجیحات بدلنا ہوں گی کیونکہ حالات کے مطابق بدلتے رہنے ہی میں بقا کی ضمانت ہے ۔ ہمارے ملک کو کو داخلی مسائل پہ قابو پانے کے علاوہ پڑوسی ممالک کے حوالے سے منجمد پالیسیوں کے تعصب سے بھی نجات پانا ہو گی۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بدلتے موسموں کے ساتھ سوچوں میں بھی کچھ تبدیلیاں واقع ہو رہی ہیں۔ ہر عبوری مرحلے میں کچھ افراتفری ضرور ہوتی ہے۔ گہرے جمود کے شکار قبائلی علاقوں میں اجتماعی زندگی کی نئی صورتیں نمو پا رہی ہے، افغان بارڈر کے دونوں اطراف دہشت گردی کے شعلے مدہم ہونے سے ملکی سرحدوں کے اندر بھی تشدد کے رجحان میں کمی آئیہے۔ افغانستان لی حدود میں القاعدہ کے آپریشنل چیف ابو خلیل السوڈانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ داعش کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی ساتھیوں سمیت ڈرون حملہ میں ہلاکت کے بعد طالبان کے روحانی پیشوا ملا عمر کی موت کی خبروں سے تو یہی پیغام ملا کہ مغربی سرحد پر لڑی جانے والی عشروں پرانی جنگ کی بساط لپیٹی جا رہی ہے۔ تین سال قبل القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت بھی اسی تغیر کی غماض تھی۔ اگر ہم پلٹ کے دیکھیں تو بن لادن کی موت کے بعد ایک خاص ترتیب کے ساتھ حالات استحکام کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔اگر سرکاری اداروں، بالخصوص عدالتوں کو کام کرنے کے لئے آزادانہ ماحول میسر آیا تو معاملات تیزی کے ساتھ بہتری کی طرف بڑھیں گے۔ انتخابی دھاندلی کی انکوائری کرنے والے جوڈیشل کمشن کا فیصلہ اس سمت میں اچھی پیش رفت تھی جس سے سیاسی نظام کو استحکام ملا اور الیکشن کمشن سمیت آئینی اداروں پہ قوم کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران مجموعی طور پہ ادارہ جاتی نظم و ضبط میں بہتری اور کرپشن کے رجحان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تین صوبوں میں اپوزیشن جماعتوں کی منتخب حکومتوں کو پرسکون ماحول میں کام کرنے کی مہلت ملنے سے قومی ہم آہنگی پروان چڑھی جس نے صوبوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے میں مدد دی،جمہوریت کی بدولت ایسا گداز کلچر پیدا ہو رہا ہے جس میں سیاسی رواداری، درگزر اور برداشت کی اقدار فروغ پائیں گی۔حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ ریاست عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت پہ نظرثانی اور قومی مقاصد کی ازسر نو تدوین پہ دھیان دے گی لیکن بدقسمتی سے ہمارا سیاسی ماحول جس پیچیدہ نفسیات کا حامل ہے اس میں تغیر و تبدل کا عمل ہموار نہیں رہ سکتا۔ خصوصاً سیاست میں جنگجو گروہوں اور سیاسی جماعتوں کے مسلح دھڑوں کو پُرتشدد کارروائیوں سے باز رکھنے کے لئے طاقت کا استعمال زیادہ بار آور نہیں ہو گا۔ نظریاتی جوش سے سرشار طالبان جنگجوؤں، نسلی تعصبات کے حامل بلوچ علیحدگی پسندوں اور ایم کیو ایم جیسی پیچیدہ قوت کے ساتھ یکساں طریقوں سے نمٹنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ لگتا ہے ریاستی ادارے ابھی 1958ء کی سیاسی نفسیات سے باہر آنے پر تیار نہیں ہو سکے۔ وہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر آج بھی ہر الجھن کو طاقت سے سلجھانے پہ مصر نظر آتے ہیں۔ شاید ہم نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے سیکورٹی اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ کو جواز بنا کے جس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا اس سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ چاروں صوبوں میں مقدمات کے اندراج سے الطاف کی صحت پہ تو کوئی اثر نہیں پڑا لیکن اس بے مقصد مشق نے پولیس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ایک ایسا معاشرہ جہاں عام شہری جائز شکایات کی ایف آئی آر کرانے کے لئے ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہوں وہاں ایک ہی جرم میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سینکڑوں مقدمات کا اندراج قانون کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے۔ مصنوعی اقدامات اور کھوکھلی دھمکیوں سے کسی ٹی وی چینل کو تو ڈرایا جا سکتا ہے لیکن معاشرے میں گہری جڑیں رکھنے والی مسلح تنظیم کے خلاف ایسی کوشش مہلک نتائج پیدا کرے گی۔ لوگ پوچھتے ہیِں،یہ کیسا ملک ہے جہاں کارساز بم دھماکوں میں ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے لیکن ایف آئی آر درج کرانے میں بے نظیر بھٹو کو سپریم کورٹ کی خاک چھاننے کے باوجود کامیابی نہ ملی مگر اسی ملک میں الطاف حسین کے خلاف چند گھنٹوں میں سینکڑوں ایف آئی آر درج ہو جاتی ہیں؟
ہمیں سیاسی خرابیوں اور جمہوری بدنظمی سے اس قدر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ سیاست زندگی نہیں بلکہ زندگی کا نقش ہے۔ بدعنوانیوں کی تہہ میں سماج کا روایتی نظام قائم رہتا ہے۔ ہم اپنے زمانے کی کم ہمتی کو انہی نقوش میں چھپا سکتے ہیں بالکل ایسے جیسے سابق آمر جنرل مشرف نے این آر او کے تحت الطاف کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات واپس لے لئے تھے۔ اس ڈیل میں مجموعی طور پہ ایم کیو ایم کے آٹھ ہزار فوجداری مقدمات ختم کئے گئے ۔ ہمیں جذبہ انتقام میں مبتلا ہوئے بغیر آگے بڑھنا ہو گا۔ یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت دفاعی اداروں کو اشتعال دلا کے تصادم کی راہ پہ لانا چاہتی ہے لیکن ہیئت مقتدرہ کا ردعمل کی رو میں بہہ جانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ حالات کا تقاضا تو یہی ہے کہ سیاسی تنازعات میں الجھنے کی بجائے دفاعی اداروں کو اپنے پیشہ ورانہ دائرہ کار میں لوٹ آنا چاہیے ۔ ان مسائل کو سیاستدان اپنے لچکدار رویوں سے بہتر طور پہ سلجھا سکتے ہیں۔ بلاشبہ آپریشن ضرب عضب سے عسکریت پسندی کی شدت میں کمی آئی لیکن یہ کامیابی ابھی ادھوری ہے۔ یہ ایسی فتح ہے جسے ابھی جنگ سے جدا نہیں کیا جا سکا۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کی تکمیل سے قبل کراچی اور جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کی سرکوبی کی تیاریاں خود ریاست کے لئے مسائل بڑھا دیں گی۔ جس طرح کراچی آپریشن کے مضمرات نے سول اتھارٹی کو مفلوج اور دفاعی اداروں کو الجھایا ہوا ہے، اسی طرح جنوبی پنجاب میں فوجی آپریشن کے اثرات بھی صوبہ کے مضبوط انتظامی ڈھانچے کو مضمحل کر کے حکومتی عمل داری کو کمزور کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *