ملا عمر زندہ ہیں

wisi babaسرتاج عزیز قیام پاکستان سے پہلے اپنے ضلع مردان سے بی اے کرنے والے پہلے فرد تھے۔ اعلی حضرت مسلم سٹوڈنٹ فیڈریشن میں رہے ہیں اور تحریک پاکستان چلاتے رہے ہیں۔ ان کو اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور میں پختون زمیندار ہندو مہاجن کے قرضوں میں غرق تھے۔ اسی ردعمل اور غصے میں سرتاج عزیز ماہر معیشت بنے اور ورلڈ بنک سے آئی ایم ایف تک اہم عہدوں پر فائز رہے۔

ان کا غصہ اتنا زیادہ تھا کہ ہر روز چانکیا کی ارتھ شاستر پڑھ کر سونے والے یہ پاکستان کے شاید اب واحد سیاستدان ہیں۔ فیاض اتنے ہیں کہ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپنے گاو¿ں میں ایک عدد پانی کی ٹینکی بھی بنا رکھی ہے۔ کے پی کے کی سب سے بڑی پیروں کی گدی کاکا صاحب کی فیملی سے ان کا تعلق ہے۔ کاکا صاحبان کے لطیفے ویسے ہی بڑے مشہور ہیں سرتاج عزیز کے بارے میں دو ایک اضافی لطیفے خود کاکا حضرات نے گھڑ رکھے ہیں۔
کاکا صاحبان کے مرید قندھار تک پائے جاتے ہیں۔ کہیں ان مرید حضرات سے ملنے والے کثیر چندے میں ہیر پھیر نہ ہو جائے، اس خوف سے سرتاج عزیز نے جناتی قسم کی قندھاری پشتو سیکھ رکھی ہے اور روانی سے بولتے ہیں۔ نوازشریف کے دوسرے دور میں وزیر خارجہ رہنے والے سرتاج عزیز نے اس وقت حکومت پاکستان کی طرف سے ملا عمر کے ساتھ لمبے مذاکرات کر رکھے ہیں۔ ملا عمر سے انکی کئی ملاقاتیں رہی ہیں دونوں کے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں۔ اپنے علم و فضل کی سرتاج عزیز نے ملا عمر سے بھی تعریف کروا رکھی ہے۔
پاکستان کے سارے اداروں حتی کے تھرپارکر کی بلدیہ تک کا کشمیر کے بارے میں سرکاری موقف سرتاج عزیز کو معلوم ہے۔ سرکاری پالیسی بناتے وقت کونسا نکتہ کیوں لگایا گیا انہیں سب پتہ ہے، جب چاہیں یہ کسی نکتے پر اڑ کے مذاکراتیوں کو مرن والا (ادھ موا¿) کر دیتے ہیں۔
ان کی بے شمار خوبیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نوازشریف نے سیکیورٹی ایڈوائزر بنایا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ سول ملٹری تعلقات بہترین ورکنگ حالت میں ہیں۔ اشرف غنی کو پاکستان کے ساتھ شہد جیسا میٹھا کرنے میں بھی سرتاج عزیز صاھب کا پورا ہاتھ ہے۔ اشرف غنی صاھب وہ مہان ہستی ہیں جن کے پاس ڈیورنڈ لائین پر ہونے والے انگریزوں اور افغان بادشاہ کے معاہدے کی اصل دستاویز تک موجود ہے۔
افغان امن مذاکرات شروع ہونے کے بعد اتھرے قسم کے طالبان کمانڈروں کو برخوداروں کی طرح ٹریٹ کرنے میں سرتاج عزیزی نسخوں نے بہت مدد فراہم کی۔ نوازشریف کے لئے قندھاری پشتو کا پنجابی ترجمہ اور اداروں کے لئے انگریزی خطبات تیار کرنے میں بھی اعلی حضرت نے کمالات کئے۔ مذاکرات کے عمل کو اب ملا عمر کی حمایت حاصل ہے۔
مذاکرات کے عمل کی شروعات ہی ایسے ہوئی ہیں کہ سب کو کان ہو گئے ہیں۔ طالبان کا وفد ایران ہو آیا ہے، چین کی سیریں ہو رہی ہیں، سعودیہ کا دورہ کیا گیا ہے۔ یہ سب دیکھ کر جنگ کی معیشت سے تعلق رکھنے والے تمام فریق مذاکرات کے عمل کے خلاف متحد ہو گئے ہیں۔ سب سے زیادہ مخالفت افغان حکومت کے اندر سے ہو رہی ہے۔ دوسری بڑی مخالفت طالبان کے فیلڈ کمانڈر کر رہے ہیں۔
مذاکرات کے پہلے دور میں جب افغان حکومتی وفد نے طالبان کی نمائندہ حیثیت کے بارے میں سوالات کئے تو طالبان کے وفد میں تبدیلیاں کرائی گئیں۔ اس وقت پاکستان کے وفد کی طرف سے ایک ایسا جملہ سرزد ہوا جو پانی میں کرنٹ کی طرح ہر جانب پھیل گیا۔ شاہکار جملہ یہ تھا کہ ٓپ لوگ مذاکرات کریں، ہم اگلے دور میں طالبان راہنماو¿ں کا اسلام آباد میں ڈھیر لگا دینگے۔
اس کے بعد دوسرے دور کے لئے جس طرح طالبان راہنماو¿ں کو پیار محبت سے اکٹھا کیا گیا اسے دیکھ کر مذاکرات مخالفین نے ملا عمر کے جان بحق ہونے کی خبر چلوا دی۔ ملا عمر اپنی حکمت عملی کے تحت براہ راست رابطوں کا لیول بہت کم کر چکے ہیں۔ انہوں نے ریڈیو پر خطاب کرنا چھوڑ رکھا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بیمار ہیں۔ ان کی جو بھی حالت ہے، بہرحال وہ اپنی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔
طالبان تحریک نے اپنا سرکاری نام امارت اسلامی رکھ چھوڑا ہے۔ ایک باقاعدہ حکومت کی طرح طالبان نے اپنا نظام وضع کر رکھا ہے۔ طالبان کی عسکری اور سیاسی شوریٰ الگ الگ موجود ہیں، اس کے علاوہ وزارتی کمیشن ہیں اور صوبوں کے گورنر بھی موجود ہیں۔ ہنگامی مسائل کے لئے ایک عدد رہبر شوریٰ ہے۔ ملا عمر کے دو نائب امیر ہیں۔ سینیر نائب امیر اختر منصور اس وقت قائم مقام امیر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
طالبان ایک واضح نظام رکھتے ہیں اور وہ اپنی ایک نظریاتی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔ ہم انکے نظریات سے اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن ان کے نظریاتی تنظیم ہونے سے انکار نہیں کر سکتے۔ ان کی تحریک میں کسی راہنما کی موت کو چھپایا جانا کوئی اچھا عمل نہیں سمجھا جاتا۔ کسی بھی اعلی عہدیدار راہنما کے جان بحق ہونے پر فخر بھی کیا جاتا ہے اور اس کا اعلان بھی ہوتا ہے۔ مذہب کے نام پر منظم ہونے والی حالیہ عسکری تحریکوں نے اپنے قائدین کی وفات پر جس طرح انکا متبادل سامنے لانے کی روایت قائم کی ہے اور جس طرح پہلے سے زیادہ شدت پسند کارروائیاں کی ہیں، وہ سیکیورٹی ماہرین کے لئے حیران کن امر ہے۔
طالبان افغانستان میں سب سے پرانی مضبوط اور مو¿ثر تنظیم ہے جس میں قیادت کا کوئی بحران نہیں۔ نئے امیر کے انتخاب کا طریقہ کار طے ہے اور ایک عدد قائم مقام امیر موجود ہے۔ جب تک طالبان خود اعلان نہ کریں ان کی قیادت کے بارے میں تمام خبریں محض خواہش اور افواہیں ہی رہیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *