انتہا پسند مذہبی سیاست کے نئے منظر

aslam awanافغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں لڑی جانے والے تاریخ کی مہیب ترین گوریلا جنگ کے دیومالائی کردار ملّا عمر مجاہد کی موت کی تصدیق خود طالبان شوری نے کر دی اور ملا اختر منصورکو ایسے حالات میں امارت کی ذمہ داری سونپی،جب آزادی کی یہ جنگ میدان کارزارکی کشمکش سے نکل کر مذاکرات کی جدلیات تک آ پہنچی ہے ،جہاں ہتھیاروں سے بڑھ کر قوت ارادی اور گرم لہو سے زیادہ اعصابی توانائی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی،افسوس کہ مزاحمتی سفر کے اس نازک مرحلہ پر جہاد کے مرکزی کردار ملا عمر کی موت اس مسلح تحریک کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور اور نظریاتی وجودکو مضمحل بنا کے ان عصبیتوں کا ارتکاز توڑ دے گی جن کی سرشاری اس جنگ میں قوت محرکہ بن کے مجاہدین کی رگوں میں دوڑتی رہی،جن عصبیتوں نے لوگوں کے دلوں میں بغاوت اور اولالعزمی کے جذبات کو پروان چڑھایا اور رنگ ونسل کے امتیازات کو مٹا کے وابستگان کے اجتماعی شعور کو مربوط رکھا،کسی نے ملّا عمر کو دیکھا نہ کوئی طالب ان سے ملا لیکن امیرالمومنین کا تصور مجاہدین کے ذہنوں کو منور رکھتا اور ان کارناموں کا سبب بنتا رہا جو دلوں میںحوصلہ پیدا کرتے ہیں،یہ ایک ایسی فعال تحریک تھی جسکا وجود پورے افغان سماج پہ محیط اور نظریہ عالمگیر تھا،اس تحریک کے مقاصد و اہداف واضح مگر شناخت مموہوم رہی،اسکی قوت کے مرکز تغیر پذیر ابہام کے پردوں میں مستور رہے،یہی وجہ تھی جو امریکہ جیسا طاقتور ترین دشمن بھی اسکے مرکزی کرداروں تک رسائی نہیں پا سکا،لیکن یہی ناقابل رسائی قیادت،ٹکڑیوں میں منقسم افرادی قوت اور تنظیمی ابہام ہی اس تحریک کی کمزوری تھا،ایک تو اس جہاد کی بنیاد مذہبی فریضہ سے زیادہ انتقام در انتقام کے جس جبلی جذبہ پہ رکھی گئی،وہی توانا جذبہ ملّا عمر کے بعد اب داخلی کشاکش میں بروکار آ کے اس غیر روایتی طور پہ منظم گروہ کو تنظیمی انتشار سے دوچار کر دے گا،انہی موروثی جبلتوں نے ملا اختر منصور کی امارت کو قیام سے قبل ہی متنازع بنا دیا اور یہی خروش مسلح گروہوں کو کسی ایک لیڈر پر متفق ہونے میں مانع رہے گا،بالکل ایسے جیسے روسی جارحیت کے خلاف پندرہ سال تک صف آرا رہنے والے جہادی تنظیمیں سویت یونین کی پسپائی کے بعد باہم دست وگریباں ہو کے کمزور ہوئیں تو طالبان نے انہیں منظر سے ہٹا کے عنان اقتدار سنبھال لی تھی،پھر اس مسلح مزاحمت کے خالق نے تحریک کے وجود کو طاقتور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور براہ راست حملوں سے بچانے کی خاطر قیادت کو روپوش اور تنظیمی ڈھانچے کی منقسم رکھا تاکہ عالمی طاقتوں کے لئے کسی ایک لیڈر کو خرید لینا یا مٹا دینا ممکن نہ ہو،ایسے جیسے ایم کیو ایم کی تنظیمی قوت الطاف کی مٹھی میں اور الطاف مغرب کی مٹھی میں بند بیٹھا ہے،بلاشبہ طالبان تحریک کی ناقابل رسائی اور منقسم قیادت کوکوئی خرید سکا نہ دشمن انہیں مارنے میں کامیاب ہوا، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی منقسم طاقت کی حامل خفیہ تحریکیں کامیابی کے قریب پہنچ کے اپنے وجود کو دوبار مرتب کرنے میں ناکام ہو جاتی ہےں، ایسی منقسم تحریکوں کے سایہ بانوں تلے کار فرما مسلح دھڑے باہم متصادم ہو کے ایک دوسرے کو مٹا دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مزاحمتی وحدت کی علامت ملا عمر کی موت عدم اتفاق اور غیر یقینی کی ایسی فضا پیدا کر گئی جس میں مذاکرات کا عمل غیرمعتبر اور مزاحمتی دھڑوں کے لئے دوبارہ میدان جنگ کی طرف پلٹنا دشوار ہو جائے گا، اب یہ مسلح جتھے باہمی تضادات میں الجھ کے تحلیل ہو جائیں گے،ہر وہ مسلح تحریک،جسے کسی جائز سیاسی تنظیم اور معروف سیاسی قیادت کی پشت پناہی حاصل نہ ہو اسی انجام سے دوچار ہوتی ہے۔

مذاکرات کا عمل اب اس لئے بھی بیکار ہو گا کہ کوئی گروہ اب فیصلوں کے اطلاق کی طاقت نہیں رکھتا اور اسی اختیار کے حصول کی خواہش مزاحمتی گروہوں کو باہم دست و گریباں رکھے گی،امریکی اداروں کی طرف سے مذاکرات کی حکمت عملی کا محور معاملات کو سلجھانا نہیں بلکہ طالبان کی صفوں میں فساد برپا رکھنے جیسے مقاصد کا حصول ہو گا۔ ملا عمر کی وفات کے بعد حقانی نیٹ ورک کے بانی کمانڈر جلاالدین حقانی کی موت کی خبریں مزاحمتی تحریک کے زوال کے عمل کو تیزتر کر گئیں،حقانی کی موت شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کی توثیق بھی بن گئی ہے،ایک مذہبی گروہ کی طرف سے ملا عمر کی غائبانہ نماز جنازہ کی ادائیگی دراصل موت کا خیرمقدم اور عامتہ الناس میں طالبان کے خاموش حامیوں کو یہ یقین دلانے کا ذریعہ بنی کہ امیر المو¿منین اب اس دنیا میں نہیں رہے کیونکہ تجہیز وتکفین موت کی وہ حتمی تصدیق ہےں جو معاشرے کو بالواسطہ طور پر یہ پیغام پہنچا رہی ہے کہ افغانیوں کی مسلح مزاحمت ابدی نیند سو گئی۔
لشکر جھنگوی کے بانی ملک اسحاق کی دو بیٹوں اور تیرہ قریبی ساتھیوں سمیت مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت جنوبی پنجاب میں فرقہ وارایت کے رجحانات کو پابازنجیر کرنے کی پیش خیمہ اور اس خطہ میں ابھرتی ہوئی طاقت ایران کو ایک صحت مند پیغام پہنچانے کا وسیلہ بنے گی،موت و حیات سے جڑے واقعات کا تسلسل، داخلی سیاست کے تغیرات اور خارجہ پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کی غماضی کرتے ہیں۔جوڈیشل کمیشن کے فیصلہ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جائے گا، جس نے عمران خان اور اسکی نو آموز تحریک کے پرکیف بہاﺅ کو جھنجھوڑ کے انہیں بدلتے حالات کی خبر دی ہے، اگر وہ اب بھی اپنے لہجے کی جارحیت کو مدہم کر کے خود اپنے آپکو دیکھنے کی طرف مائل نہ ہوئے تو مستقبل کی سیاست میں انکا کردار محدود ہو جائے گا،اس کایا کلپ کو فوراً تسلیم کرنا تو ان کے لئے ممکن نہیں ہو رہا لیکن ہارے ہوئے جرنیل کی طرح ان کی مضمحل سوچیں اور ٹوٹے ہوئے اعصاب بتا رہے ہےں کہ وہ بساط سیاست پہ شہ مات کھا چکے ہیں۔ 2013ءکی انتخابی شکست پی ٹی آئی کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی بلکہ عام انتخابات میں اسے جتنی کامیابی ملی وہی دراصل انکی بقا و ارتقاءکے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مستقبل کی کامیابیوں کی نقیب تھی لیکن افسوس کہ عمران نے مبینہ انتخابی دھاندلیوں کو جواز بنا کے پہلے جلاو گھیراو کے ذریعے منتخب حکومت کو گرانے کی کوشش میںاپنی محدود استعداد فکر کو عریاں اور اس سیاسی قوت کا بھرم کھول دیا،جسے میڈیا نے مصنوعی طریقوں سے بام عروج تک پہنچایا تھا،اسی پہلی سیاسی ناکامی کے بعد پارٹی پر ان کی گرفت ڈھیلی اور جماعت کا داخلی نظام پراگندگی کی طرف ڈھلک گیا اور آخر کار جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بے مقصد مشق کے فریب میں پھنس کے وہ ایسی ہمہ گیر سیاسی شکست کھا بیٹھے جو انکی مستقبل کی سیاست کے حسین امکانات کو دھندلا دے گی۔
اس وقت پارلیمنٹ میں بیٹھی حریف جماعتیں ان کی سیاسی ناکامیوں کو جس طریقے ایکسپلائٹ کر رہی ہیں اس سے تحریک انصاف کا مورال مجروح اور قیادت کی ساکھ برباد ہو رہی ہے، عمران کے پاس اپنے سیاسی مستقبل کو بچانے کا واحد راستہ یہی بچا ہے کہ وہ خود اسمبلی سے مستعفی ہو کے ضمنی الیکشن میں جائیں اور دوبارہ منتخب ہو کے باعزت طور پر پارلیمنٹ میں داخل ہوں بصورت دیگر اس ماحول میں ان کا سیاسی وجود نمک کی طرح گھل جائے گا، حکومت عمران کو، بے چارگی کی اسی کیفیت میں ،مسلسل تین سال تک رکھ کے نفسیاتی دباو¿ اور سیاسی رسوائیوں کی گرد میں دفن کرنا چاہتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *