جناح صاحب کا پاکستان کا تصور

rasoolجس دوران قوم اپنا 68 واں یوم ِ آزادی بہت دھوم دھام سے منانے کی تیار ی میں ہے، یہ موقع ہمیں ریاست ِ پاکستان حاصل کرنے کے اغراض و مقاصد پر غور وفکر اور اپنے کردار کا محاسبہ کرنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک نئی ریاست کے قیام کے تصور نے برٹش انڈیا کے مختلف علاقوں میں رہنے والے مسلمانوں کو جیسے ایک خواب سے بیدار کردیا تھا۔ اُنھوں نے نہایت عزم واستقلال کے ساتھ تحریک چلائی یہاں تک کہ مسلم اکثریتی علاقوں کوبھارت سے الگ کر کے نئی ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس دوران کچھ علاقوں کی تقسیم متنازع بھی رہی۔خیر یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، نوآبادیاتی دور کے چنگل سے رہائی پانے والی ہر ریاست کو کم و بیش ایسے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم فرق یہ پڑا کہ دیگر ریاستوں نے سمجھ بوجھ اورافہام و تفہیم سے کام لیتے ہوئے اُن مسائل کو حل کرلیا ۔ وہ نئی ریاست میں نئے معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھ گئے۔ اس عمل میں اُنہیں کسی قوم پرست جماعت، پرکشش قیادت اور سیاسی اداروں کا تعاون مل گیا۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس میں ہر اُس قدر کا فقدان پایا گیا جو ملک کے بانی رہنماﺅں کی تراشیدہ منزل کی طرف رہنمائی کرسکتی تھی۔ ان میں سے سب سے اہم بانی ِ پاکستان، قائد ِ اعظم محمد علی جناحؒ کی گیارہ اگست 1947کی رہنما تقریر تھی۔ محترم قائد دستور ساز اسمبلی میں کی جانے والی اس تقریر میں پاکستانی معاشرے کے فکری خدوخال کی سمت متعین کرچکے تھے۔ پاکستان، جس نے آئین سازی کی منزل طے کرنی تھی، کے سامنے اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی روشن تصور موجود ہوجو اسے ایک جدید اور لبرل ریاست بنا سکتا تھا۔ اس تقریر کی اہمیت اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ اسمبلی کے صدر کے طور پر جناح صاحب کا پہلاخطاب ہونے کے ساتھ ساتھ آنے والے دنوں کے لیے پاکستان کے رہنماﺅں کے لیے ایک مشعل راہ تھی۔ اس میں قانون اور آئین کی بنیاد پر تشکیل پانے والے معاشرے کا ذکر تھا تو دوسری طرف بدعنوانی اور اقرباپروری کوزہر ِ قاتل قرار دیا گیا تھا۔ قائد نے ملک کو درپیش چیلنجز، جیسا کہ غربت کا خاتمہ اور طبقاتی ہم آہنگی پیدا کرنا، کی نشاندہی کردی تھی۔ تاہم اس اہم ترین تقریر کے تین نکات کو جدید ریاست اور قوم سازی کے رہنما اصول قرار دیا جاسکتا ہے۔ پہلا یہ کہ مذہب، نسل اورطبقے کی تخصیص سے بالا ترہوکر تمام شہری مساوی حقوق رکھتے ہیں۔ اس سے جناح صاحب کی مراد ایک علاقے پر مشتمل قوم سازی کی کوشش تھی جس میں مذہبی وابستگی کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ دوسرا یہ کہ علاقے کی بنیاد پر شہری وابستگی ہندوں، مسلمانو ں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان امتیاز کوختم کردے گی اور وہ بطور پاکستانی شہری ، مل کر رہ سکیں گے۔ تیسرا یہ کہ مذہب ہر شخص کو ذاتی معاملہ، اس کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسرے الفاظ میں، قائد ِ اعظمؒ نے مذہب کو ریاست سے الگ کردیا تھا۔ اُنھوں نے فرمایا کہ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کے لیے آزادہے لیکن مذہب ریاست کا نہیں، اُس کا اپنا انتخاب ہوگا۔
آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تصورات ریاست کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ درحقیقت بہت نوآبادیاتی دور کے بعد سامنے آنے والے بہت سے رہنماﺅں، جن میں محمد علی جناحؒ بھی شامل تھے، نے جدید تصورات مغربی تہذیب سے مستعار لیے۔جناح صاحب بنیادی طور پر ایک پیشہ ور وکیل،قانون ساز اور عملی سیاست دان تھے۔ بدقسمتی سے مخصوص مکتب ِفکر نے اُن کے سیاسی تصورات اور افکار کو ایک مخصوص رنگ میں رنگتے ہوئے دراصل اپنے تصورات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان نے قائد ِ اعظمؒ کے طے کردہ راستے پر سفرکرنے کی بجائے اس سے روگردانی کی پالیسی اپنالی اور اس سے دوری کو ایک ”نظریے“ کا نام دے دیا گیا۔اس مقصد کے لیے قائد کے تصورات کو ہی توڑ مروڑ کر پیش کیا جانے لگا۔ ہر گزرتے ہوئے لمحے پاکستان اُس منزل سے دور ہونے لگا جس کا تصور قائد نے پیش کیا تھا۔ جب قائد کے جانشیں کمزور ہوئے تو ملاّوں نے ریاست پر اپنا اثر قائم کرنا شروع کردیا۔ آہستہ آہستہ پاکستان پر اُس سیاسی اور مذہبی طبقے نے گرفت جما لی جس کا قائد ِ اعظم کے تصورات سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ ایک عشرے سے بھی کم عرصے میں جاگیردار اور دفاعی اداروںسے تعلق رکھنے والے افراد لیڈر بن کر اس قوم پر مسلط ہوگئے، یہاں تک کہ یہ ریاست برائے نام ہی”قائد کا پاکستان“ رہ گئی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی گزشتہ کئی عشروںسے پاکستان کی قسمت ہچکولے کھاتی رہی ہے۔ ملاّوں نے اسے اسلامی ریاست بنانے کا دعویٰ کیا اور مذہب کا نام لے کر ریاستی وسائل پر قابض ہوگئے۔ نام نہاد لبرل اور جمہوری جماعتوںنے بھی یہی کیا۔ حکمران سیاسی اسٹبلشمنٹ نے طاقت اور اختیار کا منفی استعمال کرتے ہوئے وسائل کو لوٹا، یہاں تک کہ ملک دھشت گردی، انتہا پسندی ، بدنظمی اور افراتفری کی تصویر بن کر دھندلانے لگا۔ لوگ اس کے مستقبل کے مایوس دکھائی دینے لگے۔ اس میں دھشت گردی، بدعنوانی، اقرباپروری، فرقہ واریت اور لسانی تعصبات کی آندھی چلنے لگی۔ تاہم یہ کل کی بات ہے۔آج کا پاکستان ، گوابھی جناح صاحب کا پاکستان نہیں، مایوسی کی دلدل سے نکل آیا ہے۔ دھشت گردی ،انتہا پسندی اور بدعنوانی پر مضبوط ہاتھ ڈالا جارہاہے۔ احتساب کا عمل شروع ہوچکا اور امید ہے آنے والے دنوں میں بڑی مچھلیاںبھی گرفت میں آئیںگی۔ دھشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ میں اب کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ تاہم معاشرے میں رواداری اور برداشت کے رویوں کو فروغ پانے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔ اس یوم آزادی پر قوم کہہ سکتی ہے کہ اس نے جناح صاحب کے پاکستان کی طرف سفر شروع کردیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *