قصور کے بے قصور بچے

meher zaidiقصور شہر بلھے شاہ کا شہر، قصور شہر ملکہ ترنم نور جہاں کا شہر.... اس خوب صورت شہر میں یہ بھیڑیے اور سانپ کہاں سے آگئے؟ یہ سوال ہر پاکستانی مرد اور عورت کے ذہن میں آرہا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان میں جنسی تشدد کے دس بڑے شہروں میں صرف پنجاب میں آٹھ شہر سر فہرست ہیں۔شہر قصور ان میں سے آٹھویں نمبر پر ہے۔ یہ بات بعید از قیاس ہے کہ اس درندگی کا خاموشی سے پچھلے دس سال سے گاﺅں کے سکولوں میں ہونا اور بلیک میل اور پھر ان ویڈیو ز کی دکانوں میںفروخت، کس طرح مقتدرہ قوتیں، جن میں سیاسی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی شامل ہیں، ان کی نظروں سے اوجھل رہیں۔ اس کی ذمہ داری ہم سب پر لاگو ہوتی ہے۔ ہم لوگ کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ مظلوم پر ہونے والا ظلم ہم تک نہیں پہنچے گا؟ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ہمارے بچے سکول جاتے اور گلیوں میں کھیلتے ہوئے محفوظ ہیں؟

جنسی تشدد کا شکار ہونے والے مظلوموں کے ساتھ کام کرنے والی تنظیموں کی رپورٹوں اور تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو پھیلانے اور اس کا انسداد نہ کرنے میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں اور بہت سے پرتو ہیں۔ سب سے پہلے ہے خود گھر والوں کا اس کو ماننے سے انکار۔ یہاں خونی رشتوں کا جنسی تشدد ایک نمایاں مثال ہے۔اس میں ماں جیسی رحمدل ہستی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ یہ اس لئے پیش آتا ہے کہ تشدد کرنے والا ایک خوف کی فضا پیدا کرتا ہے۔اس میں جسمانی، جذباتی اور معاشی تشدد شامل ہوتا ہے۔ قصور واقعے کی بحث میں یہ بات نمایاں طور پر نظر آرہی ہے کہ وہاں کی مقتدرہ طاقتیں اور پولیس دونوں اس کام میں شامل ہیں۔اگر یہ اس سے مستفید نہ ہوتیں تو یہ درندگی ہر گز اتنے عرصے اور اتنے دھڑلے سے پیش نہ آتی۔ یہ ایک منطقی نتیجہ ہے، کوئی راکٹ سائنس نہیں۔
اب جس طرح اور آس پاس کے گاﺅ ں والے اپنے دکھ لے کر سامنے آرہے ہیں اور فوجداری مقدمے رجسٹر کروارہے ہیں، یہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پنجاب کا پورا معاشرہ ایک زوال اور پسماندگی کی طرف گامزن ہے۔ مگر اس کا تدارک ممکن ہے۔ اس کے لیے عمومی اور خصوصی اقدامات کرنا پڑیں گے۔یہ اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو خود کرنا ہوں گے۔ اگر وہ اس گھناﺅنے تشدد کے تدارک کے لیے مستقل کام کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ان مقتدرہ طبقات کو عبرتناک سزائیں دینی ہوں گی۔اس سے ایک ایسی مثال قائم ہوگی جو آئندہ آنے والے پولیس افسروں کے لیے بھی گائیڈ لائن ہو گی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زیادہ تر بچوں کا تعلق غریب خاندانوں سے تھا۔ اس سے ہماری دیہی زندگی کی معاشی ناہمواری کے ساتھ عدل و انصاف کی عدم دستیابی ثابت ہوتی ہے۔ عدل کی آسان پہنچ جسے ہمارے دیہی معاشرے کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے ناپید ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ممبران کو خاص طور پر اس پر کام کرنا ہوگا۔ یہ ان کے سیاسی ایجنڈے میں شامل ہونا چاہیے ۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ چونکہ اب ملٹری کورٹ فعال ہیں اور اس کیس میں لوگ انصاف کے حصول کے لیے فوجی عدالتوں کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز کو جنسی تشدد اور جنسی فلمسازی اور بلیک میل کو ٹیررازم کے زمرے میں شامل کرلینا چاہیے۔ اس پر فوجی تھنک ٹینک کو سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔
یہ واقعہ ہمارے پاکستانی اور خصوصاً دیہی معاشرے کو بہتر اور لوگوں کو صاف و شفاف انصاف پہنچانے کے عمل میں ایک سنگ میل ہے۔ یہ مقتدرہ قوتوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے آپ کو مہذب اقوام کی فہرست میں شامل کروالیں ورنہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور اللہ مظلوم کے ساتھ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *